کراچی میں کچرے کے ڈھیر

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری آج کل پنجاب کے غم میں مبتلا ہیں تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف سندھ کے عوام کےلیے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ یہ سب کچھ 2018 کے انتخابات کی تیاری ہے۔ دونوں رہنما ؤں میں بہت سی باتوں پر اختلاف رائے ہے لیکن اس بات پر دونوں رہنما متفق ہیں کہ دنیا کا چھٹا بڑا شہر’کراچی‘ جس کی آبادی اب دو کروڑ کے قریب ہے آٹھ سال سے صفائی سے محروم ہونے کی وجہ سے اس وقت ’’کچرے کا ڈھیر‘‘ بنا ہوا ہے۔

2008 سے اب تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) مرکز میں حکمران رہی ہیں۔ صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی 2008 سے مسلسل اقتدار میں ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پہلی حکومت میں اتحادی رہی، نتیجے میں پیپلز پارٹی نے کراچی کے انتظامی امور سے فاصلہ رکھا اور جب پیپلز پارٹی دوسری بار حکومت میں آئی تو ایم کیو ایم حکومت میں شامل نہیں تھی۔ 28 مارچ کو وزیر اعظم نواز شریف نے حیدرآباد کا ایک دن کا دورہ کیا اور وہاں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے عوام سے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی سے حساب لیں۔ گزشتہ حکومت پیپلزپارٹی کی تھی اور انہوں نے پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹے ہیں، عوام ملک کی یہ حالت کرنے والوں سے حساب لیں۔ حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، کراچی میں کچرے کے ڈھیر ہیں، شہروں کی حالت خراب ہے، سڑکیں ٹوٹی پھوٹ کا شکار ہیں۔ پیپلزپارٹی سے پوچھیں کہ اس  نے سندھ کو کیا دیا۔

نواز شریف کے ساتھ ساتھ ان کے بھائی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بھی پیپلز پارٹی کو کراچی کے کچرے کا طعنہ دے ڈالا تو بجائے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے جواب میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف دو سڑکوں کے علاوہ باقی پورا لاہور شہر کراچی سے بھی زیادہ گندہ ہے۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ کراچی سے کچرا اٹھانے کےلئے کوششیں کررہے ہیں۔ شہر کو کچرے سے پاک کرنے کےلئے جس طرح کام کرنا چاہتے تھے نہیں کرسکے۔ اس معاملہ کو دوبارہ دیکھا جارہا ہے تاکہ شہر سے کچرا جلد اٹھایا جاسکے۔ کراچی کچرے کے ڈھیر میں ایک دن میں تبدیل نہیں ہوا  ہے۔ بلکہ سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے زمانے سے یہ سلسلہ شروع ہوا ۔ اب موجودہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بڑی آسانی سے فرمارہے ہیں کہ ہم کراچی کا کچرا صاف کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں یہ کہنے میں بلکل عار نہیں کہ ان کی کارکردگی سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ سے کہیں زیادہ اچھی ہے۔ کراچی جو صرف ایک شہر ہے صوبہ نہیں اس میں جو کچرا  صاف نہ کرسکے اور اس کا اعتراف بھی کرے ، نہ تو اسے وزیراعلیٰ رہنے کا حق ہے اور نہ اس کی پارٹی کو صوبے میں حکومت کرنے کا۔  افسوس یہ ہے کہ آج جو معذرت کرکے کسی بھی کام سے اپنی جان چھڑالیتے ہیں، ہم کل انتخابات میں ان کو ہی دوبارہ منتخب بھی کرلیتے ہیں۔

کراچی میں سندھ کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو اپنی گرفت میں لےرکھا ہے۔ ایم کیو ایم کے پاس بلدیاتی اداروں میں بھرپور نمائندگی تو ہے لیکن اختیار نہیں۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی  کی صوبائی حکومت کےاس انداز کو اس طرح دیکھ رہی ہے کہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو غیر فعال کردیا ہے۔ جو کام بلدیاتی اداروں کو کرنے چاہیں وہ صوبائی حکومت نے اپنے ہاتھوں میں لے لئے ہیں اور وہ کام ہو بھی نہیں رہے ہیں۔ لہذا کراچی بری طرح مسائل کا شکار ہے۔ کراچی میں روزانہ لاکھوں ٹن کچرا جمع ہوتا ہے لیکن اسے اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔ 30 مارچ کو ماحولیات کی عالمی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے مئیر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ شہر میں آٹھ سال سے کچرا جمع ہورہا ہے۔ لوگ بیمار ہوکر مررہے ہیں۔ آٹھ سال میں ہمارے سارے محکمے تباہ ہوگئے ہیں۔ غلطیاں میری جماعت ایم کیو ایم نے کی بھی ہیں لیکن اختیارات پر وہ لوگ قابض ہیں جو شہر میں مینڈیٹ نہیں رکھتے۔ کراچی کا یہ کچرا اب آلودگی بن کر لوگوں کے پھیپھڑوں اور معدوں میں جا رہا ہے۔ شہر کی سڑکوں، اسپتالوں اور اسکولوں کی حالت خوفناک ہے۔ کراچی کوکچرے کا ڈھیر بنانے میں ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی کے علاوہ ہر وہ گروپ، ہر وہ پارٹی اور ہر وہ شخص شامل ہے جسے اس شہر نے پناہ، رزق اور اقتدار دیا۔

دو کروڑ کی آبادی اور ملک کو 70 فیصد ریونیو کما کر دینے والے شہرکراچی کے عوام کی ذمہ داری نہ ہی مرکزی حکومت لیتی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت اپنا فرض پورا کرتی ہے۔ حیدرآباد کے ورکرز کنونشن میں نواز شریف کراچی کے حوالے سے اپنی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے۔ وہ فرمارہے تھے کہ’’ایک زمانے میں کراچی روشنیوں کا شہر تھا اور صاف ستھرا تھا۔ لیکن پھر کراچی کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اب کراچی کے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ پھر سے شہر کی رونقیں بحال ہوگئی ہیں۔ اب لوگ باہر نکلنے سے نہیں ڈرتے۔ 2013 میں ملک کا برا حال تھا، اب نیا پاکستان بن رہا ہے۔ مجھے یقین ہے جب ہم ترقی کی نئی منازل طے کریں گے تو کراچی ایک بار پھر ترقی یافتہ شہر بن جائے گا‘‘۔ کاش کوئی وزیراعظم نواز شریف کو یہ سمجھا سکتا کہ آپ کی ان باتوں کو سننے سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ گزشتہ پچیس سال سے کراچی کے رہائشی یہی سن رہے ہیں ۔ اگروزیر اعظم  کچھ عرصہ کے لیے سیاسی موقع پرستی کو چھوڑ کر کراچی کے عوام کے مسائل میں دلچسپی لیں تو بہت سارے دیگر مسائل کے علاوہ کراچی سے کچرے کے ڈھیر بھی ختم ہوسکتے ہیں۔  اس سے کراچی کے ساتھ ملک کی معاشی ترقی بھی ہوگی۔

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن کراچی کے لوگوں نے وسیم اختر کو اپنا میئر منتخب کیا ہے۔ وسیم اختر کراچی کے منتخب اور قانونی میئر ہیں اور انہیں میئرشپ کا موقع ملنا چاہیے۔ صوبائی حکومت کو انہیں اختیارات اور فنڈز دینے چاہئیں۔ اختیارات اور فنڈز کے بغیر میئر کراچی کا کام کرنا ناممکن ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ کو چاہئے کہ وہ ایم کیو ایم کے اندرونی معاملات میں جھانکے بغیراس کے رہنماؤں اور کراچی کےمیئر کے ساتھ ملاقات کریں اوران سے سندھ  کے اور خاص کر کراچی کےمسائل پر بات کریں اورمل کر ان کا حل تلاش کریں۔ لازمی بات ہے کہ اس بات چیت میں کراچی کو کچرے کے ڈھیر سے نجات دلانے کے لیے بھی کوئی حل ڈھونڈ لیا جائے گا۔ لیکن اگرپیپلز پارٹی ایسا نہیں کرنا چاہتی تو پھر کراچی سے بلدیاتی نظام کو ختم کردے۔ شاید ایسا کرنا پیپلز پارٹی کے لیے ناممکن ہے کیونکہ کراچی کے عوام اس کو قبول نہیں کریں گے۔ ویسے بھی کراچی والوں نے صرف  کچرے کے ڈھیرصاف کرنے کی خواہش کی ہے، لاقانونیت کے کچرے کو تو کافی حد تک رینجرز والوں نے صاف کردیا ہے۔