ناقص کارکردگی کا اعتراف بزبان وزیر اعلیٰ پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے ہدایت کی ہے کہ محکمے فرض شناسی اور محنت سے کام کریں۔ صوبے میں انڈسٹریل اسٹیٹس کے معاملات سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہیں یہاں تک کہنا پڑا کہ اگر ہر کام میں نے ہی کرنا ہے تو متعلقہ محکموں کی کیا ذمہ داری ہے۔ مجھے کام کرکے نتائج دیئے جائیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق انہوں نے جو باتیں کیں، وہ شکایت اور گلہ بھی لگتا ہے اور افسروں کو تنبیہ بھی۔ لیکن ان چند جملوں سے پورے پنجاب کے محکموں کی کارکردگی کھل کر سامنے آ گئی ہے اور وہ بھی براہِ راست وزیراعلیٰ کی زبان سے۔

وزیراعلیٰ کے میڈیا منیجرز نے نہ جانے کس جذبے کے تحت یہ خبر باقاعدہ جاری کر دی۔ لیکن اخبارات نے جس انداز میں خبر کو شائع کیا ہے، اُس کا تاثر یہی ہے کہ وزیراعلیٰ محکموں اور اُن کے افسران سے خوش نہیں اور مختلف محکموں کی کارکردگی سے مطمئن بھی نہیں ہیں۔  کاش! وزیراعلیٰ کے میڈیا منیجرز خبر جاری کرتے ہوئے یہ غور کرلیتے کہ خود وزیراعلیٰ، اُن کے وزرا کی فوج، پارٹی لیڈروں کی ٹیمیں اور ٹاک شوز میں حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ کا دفاع کرنے والے دانش ور اور لیڈر تو مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کے محکموں کی کارکردگی سب سے اچھی ہے۔ یہاں کے محکمے اور افسر فرض شناس ہی نہیں انتہائی مستعد ہیں۔ وزیراعلیٰ کی قیادت میں یہ محکمے اور افسر پنجاب کو شاندار انداز میں چلا رہے ہیں۔ اور عوام کو سہولتیں اور سکھ فراہم کر رہے ہیں۔

یہ وزرا، پارٹی لیڈر اور دانشور یہ کام نہ صرف پبلک جلسوں، پریس کانفرنسوں، ٹاک شوز، اخباری بیانات اور میڈیا سے گفتگو میں انتہائی مستعدی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں بلکہ اس کے لئے ملک کے اندر اور باہر سے ایسے اداروں کی رپورٹیں اور سروے بھی تلاش کرکے لا رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ پنجاب حکومت اور اس کے محکموں کی کارکردگی ملک کے تمام صوبوں سے بہت بہتر ہے بلکہ اس کارکردگی کو تو دنیا کے کسی بھی ملک یا اُس کے صوبے کے مقابلے میں فخر کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ مخالفین کا الزام ہے کہ یہ سروے اور رپورٹیں حکومت اور اُس کے کارندے خود تیار کراتے ہیں ورنہ حکومت اور محکموں کی کارکردگی تو عوام کے سامنے ہے۔

جب وزیراعلیٰ یہ سوال کرتے ہیں کہ متعلقہ محکموں کی کیا ذمہ داری ہے تو دراصل وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ پنجاب کے سارے کام میں کرتا ہوں، ہر معاملے پر نظررکھتا ہوں۔ اُس کی تفصیلات جانتا اور سمجھتا ہوں۔ اُس پر فیصلے اور منصوبہ بندی اور کام کا طریقہ کار میں طے کرتا ہوں تو محکمے بتائیں کہ اُن کی کیا ذمہ داری ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں۔ جو کام ہو رہا ہے وہ میری ذات کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ یہ ساری شان بان اور مستعدی میری ذات کی مرہونِ منت ہے۔ اس طرح انہوں نے پنجاب کے عوام کے سروں پر یہ تلوار بھی لٹکا دی ہے کہ کل کلاں کوجب وہ وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے تو پنجاب اور اس کے بے بس عوام کا کیا بنے گا۔ جہاں محکموں اور افسروں کو نہ اپنی ذمہ داری کا پتہ ہے اور نہ وہ کوئی کام کر رہے ہیں۔

یہ صورتِ حال جس کی وزیراعلیٰ اب شکایت کر رہے ہیں، اُن کی اپنی پیدا کردہ ہے۔ وہ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے، تمام فیصلے خود کرنے اور تمام منصوبوں کو اپنی ذاتی نگرانی میں مکمل کرانے کے عادی ہیں اور ان کا یہ مزاج آج کا نہیں تیس پینتیس سال کا پختہ مزاج ہے۔ 1980 کی دہائی میں جب نوازشریف پنجاب کے وزیرخزانہ تھے، تب سے شہبازشریف اُن کی وزارت سے باہر بیٹھ کر معاملات کی نگرانی کرنے اور انہیں چلانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ پھر جب نوازشریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے، تب تو وہ ہر معاملے اور ہر فیصلے میں شریک تھے اور عملاً نصف یا ایک چوتھائی وزیراعلیٰ کا کردار ادا کر رہے تھے۔

پھر ذرا حالات تبدیل ہوئے اور شریف خاندان کو مجبوراً کچھ مرحلے کے لیے غلام حیدر وائیں کو وزیراعلیٰ بنانا پڑا، تب تو پورے پاکستان میں یہ بات مشہور تھی کہ پنجاب کے اصل وزیراعلیٰ شہبازشریف ہیں۔ وہی فیصلے کرتے اور ہدایات دیتے ہیں۔ غلام حیدر وائیں محض افتتاح اور تقریریں کرنے اور سمریوں پردستخط کرنے کے وزیراعلیٰ ہیں۔ اور پھر جب شہبازشریف خود وزیراعلیٰ ہوئے تب تو بہت جلد انہوں نے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ یہ صورتِ حال اب تک جاری ہے۔ وزرا بے بس ہیں۔ وہ کسی چپڑاسی کی بھی بھرتی نہیں کر سکتے۔ اپنے محکمے کے کسی اہل کار یا افسر کو برخاست یامعطل کر سکتے ہیں نہ اُس کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ تمام انتظامی اور مالی معاملات وہ شہبازشریف کی ہدایت اور حکم کے مطابق کرتے ہیں۔ محکموں کے سیکرٹری وزیراعلیٰ خود انٹرویو کرکے مقرر کرتے ہیں، چنانچہ بعض جونیئرترین بیوروکریٹ بھی اعلیٰ اور نفع بخش پوسٹوں پر تعینات ہیں۔

وزرا کو بے اختیار کرنے اور پسند کی بیوروکریسی تعینات کرنے کے بعد تمام اختیارات ازخود وزیراعلیٰ کے پاس آگئے ہیں۔ اس لیے اب وہ گلہ نہ کریں۔ اب کسی دور افتادہ علاقے میں کسی بچی کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر وزیراعلیٰ کوخود موقع پر پہنچنا پڑتا ہے۔ کہیں سی ٹی آئی کی بھرتی میں بے ضابطگی ہو تو وزیراعلیٰ کو خود جانا پڑتا ہے۔ اورنج لائن، میٹرو بس اور چین کے ساتھ تجارتی معاملات خود اُن کو ہینڈل کرنا پڑتے ہیں۔ ترکی کے ساتھ سارے معاملات اُن ہی کا دردسر ہے۔ ضرورت پڑنے پر فوجی سربراہ سے بھی ملاقاتیں کرنا پڑتی ہیں اور کسی برے وقت میں الطاف حسین سمیت دیگر مخالف رہنماؤں کی منت سماجت بھی اُن ہی کو کرنا پڑتی ہے۔ ایسے میں اُن کا گلہ درست لگتاہے۔

محترم وزیراعلیٰ صاحب یہ صورتِ حال آپ نے خود پیدا کی ہے۔ وزرا کو اختیارات دیتے، سیکرٹریوں کو میرٹ پرتعینات کرتے۔ پنجاب کے معاملات کسی سینئر مسلم لیگی لیڈر یا ایم پی اے کے حوالے کرتے۔ پارٹی کو یونین کونسل کی سطح پر منظم کرکے اُسے شریک اقتدار کرتے۔ بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی اختیارات دیتے (بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے سے متعلق ایک رٹ آج بھی لاہور ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے) میٹرو اور اورنج ٹرین کی نگرانی متعلقہ وزرا کو دیتے اور چین اور ترکی کے معاملات وفاقی وزرا کو ہینڈل کرنے دیتے تو آج آپ کو یہ گلہ نہ کرنا پڑتا ۔

آج وزرا نجی محفلوں میں اپنی بے اختیاری کا رونا روتے ہیں۔ ایم پی ایز اپنے ہی وزیراعلیٰ سے ملاقات کے لئے دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ منتخب بلدیاتی ادارے اختیارات کے لئے سرگرداں ہیں اور آپ محکموں سے پوچھ رہے ہیں کہ اُن کی کیا ذمہ داری ہے۔ اب تو جنابِ والا تمام ذمہ داری آپ کی ہے۔ اب گلہ نہ کریں!