ایک سو سال قبل مدراس میں پنجابی مسلمان

[میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ متحدہ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انہوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46 ) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جس کا نام ’’ سفری زندگی‘‘ رکھا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ بچپن میں ایک دو بار، جب افریقا سے مہمان آئے ہوئے تھے، دادا جان کی زبانی اس کے کچھ حصے سننے کا اتفاق ہوا تھا۔ سنہ اسی کی دہائی میں ابا جان نے اس کی ایک صاف نقل تیار کی تھی کیونکہ دادا جان کے لکھے ہوئے کو صرف وہی پڑھ سکتے تھے۔ اب بہت عرصہ بعد وہ نقل مجھے میسر آئی اور اس کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس کی اشاعت کی جانی چاہیے۔ میں نے اس کی کمپیوٹر کمپوزنگ شروع کر دی ہے۔ اس وقت ان کے قیام مدراس کے کچھ مشاہدات پیش خدمت ہیں ]

فروری 1914  کومدراس میں جا قیام کیا۔ جس جگہ مکان کرایہ پر لیا وہ ایک مسلمانوں کا محلہ تھا اور مسجد بھی پاس ہی تھی۔ مسلمان اچھے خلیق، تعلیم یافتہ اور اسلام کے کاموں سے واقف تھے۔ گاؤں یا قصبہ کا نام بھتی پرول ہے۔ جس علاقہ میں ہم نے رہائش اختیار کی تھی وہ بڑا زرخیز اور نہری آب پاشی کا تھا۔ عموماً وہاں زیادہ تر چاول کی فصل ہوتی تھی اور وہاں کے باشندے بھی زیادہ چاول ہی کھاتے تھے۔ مسلمانوں اور دیگر ہندوستان کے ہر فرقہ کی آبادی اس قصبہ میں تھی اور قصبہ اچھا بارونق تھا۔

مدراس کے اس علاقہ میں دیکھا گیا کہ مسجدوں میں کوئی امام یعنی میاں جی نماز پڑھانے کے لیے مقرر نہیں ہوتے بلکہ نماز کے وقت جو بھی مقتدی حاضر ہوں، ان میں سے جو قابل ہو اس کو پیش امام بنا کر نماز ادا کر لیتے ہیں۔ وہاں پر پنجاب یا دیگر صوبہ جات کی طرح نہیں کہ جو پیش امام ہو وہی نماز پڑھائے بلکہ وہ پیش امام بننا سعادت اور فخر سمجھتے ہیں، نہ کہ پنجاب کی طرح کہ کوئی بھی پیش امام کی جگہ کھڑا ہونے کو تیار نہیں ہوتا۔ اگر کسی کو کہا جائے تو وہ جواب دیتا ہے کہ یہ بوجھ میرے سے اٹھایا نہیں جاتا جیسے کہ سارے مقتدی اس کے کندھے پر سوار ہونے والے ہیں۔ یہ کام مستقل طور پر میاں جی کے ہی سپرد ہوتا ہے۔ میاں جی خواہ کیسا ہی ان پڑھ ہو۔ یہ نقص زیادہ تر پنجاب میں دیکھا گیا ہے جو کہ اپنے آپ کو اسلام کے ٹھیکے دار خیال کرتے ہیں لیکن گاؤں اور شہروں میں دیکھا جائے تو پچاس فیصد جاہل اور اسلام کے قانون و فرائض سے ناواقف ملیں گے۔

ایک دفعہ بھتی پرول قصبہ میں جہاں ہم رہتے تھے، وہاں پر مسجد میں، نماز کے وقت دو اشخاص، جو کہ آپس میں رشتہ دار بھی تھے اور اس مسجد کے مالک یعنی بنانے والے کہلاتے تھے، امامت کے لیے آگے کھڑے ہو گئے کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے ناراض تھے۔ اب ہم لوگوں کو، جو کہ مقتدی تھے، بڑی مشکل آن پڑی۔ کچھ تو ایک کے پیچھے جھک گئے اور کچھ نے دوسرے کے پیچھے رکوع و سجود کرکے نماز ختم کر دی۔ لیکن کسی قسم کا فساد یا جھگڑا نہیں ہوا۔ چپکے سے سب کے سب نماز پڑھ کر چل دیئے۔ اگر پنجاب جیسا صوبہ ہوتا تو وہیں مسجد میں فساد ہو جاتا حالانکہ ہمارے پنجاب میں مسلمان اکثر  کہا کرتے ہیں کہ مدراس میں مسلمان بہت کم پڑھے لکھے ہیں یعنی دینی تعلیم سے بے بہرہ ہیں۔

بعض وقت مجھے پیش امام کی جگہ کھڑا کر لیا کرتے حالانکہ میری داڑھی منڈی ہوئی ہوا کرتی تھی لیکن وہ لوگ ایسی باتوں کی پروا نہیں کیا کرتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے جالندھر شہر کی ایک مسجد میں تکبیر، جو کہ نماز کی جماعت کھڑی ہونے سے پہلے کہی جاتی ہے، کہہ دی تو پنجابی ملاں جی مجھے خفا ہونے لگے کہ تمہاری داڑھی نہیں ہے، تکبیر کیوں کہی۔ واہ سبحان اللہ! جیسے کہ تکبیر داڑھی سے چھن کر آتی ہے۔ افسوس صد افسوس۔ ایسی معمولی اور غیر ضروری چیزوں نے اسلام کو کیسے بدنام کر رکھا ہے اور ملاں صاحبان سب اسلام کے علم و عمل کے ٹھیکے دار بنے ہوئے ہیں۔

مدراس میں عام طور پر پڑھے لکھے یا بڑے آدمی کو حضرت کہہ کر پکارتے ہیں۔ اور وہاں پر بارشیں بہت ہوتی ہیں۔ وہاں کے حاکم، یعنی تحصیل دار وغیرہ پینسں میں آتے جاتے ہیں جس کو چار آدمی اٹھاتے ہیں جیسا کہ پنجاب میں پہلی دفعہ بیاہی ہوئی لڑکی کو کہار ڈولی میں اٹھاتے ہیں۔ اس پالکی کے اٹھانے والوں کی ، کہاروں کی طرح، ہوں ہوں کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے۔ مدراس میں ننگے پاؤں پھرنا عام رواج ہے۔ یہاں تک میں نے دیکھا کہ تحصیل دار و جج ننگے پاؤں عدالتوں میں آیا جایا کرتے تھے۔

ایک اور بات قابل ذکر ہے جو کہ دوسرے علاقہ جات اور خاص کر پنجاب کے مسلمانوں کے لیے باعث تقلید و تسلی ہوگی۔ مدراس میں ہر گاؤں اور ہر قصبے میں خنزیر یعنی سؤر بکثرت ہوتے ہیں جو کہ پالتو ہوتے ہیں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ کھانا پکانے اور کھانے کے وقت بھی آمنے سامنے پھرتے نظرآتے ہیں۔ پنجاب میں، خاص کر دیہات میں، سؤر کا نام لینے سے بھی عام مسلمان گھبراتے ہیں، یعنی دیکھنا تو درکنار، نام لینا بھی پسند نہیں کرتے۔ عموماً باہر والا کہہ کر پکارتے ہیں۔ واہ واہ! کیا جہالت اور کیسی مسلمانی ہے۔ میں ان صاحبان سے پوچھتا ہوں کہ اگر وہ علاقہ مدراس میں ہوں تو کیا کریں گے۔ کیا وہ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں گے یا گھر کے اندر ہی چھپ کر بیٹھ رہیں گے ۔ آخر کیا کریں گے۔ وہی نا جیسے مدراسی لوگ جس میں مسلمان، جو ہر فرقہ، خاندان کے ہیں، کرتے چلے آئے ہیں، یا کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ پنجاب میں تو سؤر کا نام لینا بھی لڑائی مول لینے والی بات ہے۔ سؤر کا گوشت اگر کہیں مسجدوغیرہ میں پھینک دیا جائے تو لڑائی شروع ہو جاتی ہے جو کہ عام طور پر مسلمانوں اور ہندوؤں میں ہوتی رہتی ہے۔ آخر مدراسی مسلمان بھی تو مسلمان ہی ہیں۔ اس علاقے میں سؤر مسجدوں میں پھرتے اور پانی پیتے دیکھے ہیں جس سے نہ تو کسی مسجد کو کوئی نقصان پہنچتے دیکھا ہے اور نہ مسلمانوں کی مسلمانی میں کچھ کمی واقع نظر آئی ہے اور نہ کھانے میں کوئی خرابی سؤروں نے پیدا کی۔ فقط یہ سب ڈھکوسلے جہالت، ناتجربہ کاری، لاعلمی کے ہیں۔

مدراس میں مچھلی بہت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ برسات کے موسم میں اتنی مچھلی ہوتی ہے کہ ریلوے کے گڑھوں میں سے پکڑ لیا کرتے تھے۔ مچھلی وہاں پر گاؤں یا بازاروں میں نہیں بکتی کیونکہ عام ہوتی ہے۔ مدراسی لوگوں کی عام خوراک چاول ہیں۔ اکثر کرکے املی کے پانی یا دہی کی کھٹاس کے ساتھ کھاتے ہیں۔ کھانے کے وقت کھٹائی، خواہ کسی قسم کی ہو، بہت ضروری بلکہ لازمی ہوتی ہے۔ سنگھاڑا کے پتے جو عام طور پر کھٹے ہوتے ہیں، علاقہ مدراس کے لوگ بطور سبزی بھاجی کے استعمال کرتے ہیں۔ دعوت یا شادی کے موقع پر گوشت میں تری یعنی پانی نہیں رکھتے۔ گوشت خشک بھنا ہوا ہوتا ہے، تری کی جگہ املی کا پانی یا دہی وغیرہ ہوتاہے۔ مدراسی مسلمان کھانے کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔ جتنی فکر ان کو کھانے کی رہتی ہے اور کسی چیز کی نہیں دیکھی۔

مسلمان سو فیصد ہندوستانی زبان یعنی اردو جانتے ہیں لیکن اس جگہ کے ہندو دس فیصد سے بھی کم ہندوستانی جانتے ہیں ۔ مسلمان خواہ پاس بیٹھے کچھ ہی باتیں کرتے رہیں، ہندوؤں کو کچھ بھی معلوم نہیں ہو گا۔ لیکن مسلمان ہندوؤں کی ہر طرح کی زبان، جو کہ وہاں پر تلیگو کے نام سے بولی جاتی ہے، جانتے ا ور سمجھتے ہیں۔ ہندو مسلمانوں کو صاحب یا ترک واڑو کہہ کر پکارتے ہیں۔ گو مسلمان وہاں غریب ہیں لیکن وہاں کے ہندو ان سے اکثر خوف زدہ رہتے ہیں، عزت سے بلاتے اور پیش آتے ہیں۔ مسلمانوں میں پردہ کا رواج ہے لیکن پنجاب جیسا واہیات برقع نہیں جس سے مستورات ایک بند گوبھی کی طرح معلوم ہوتی ہیں۔

1914 کے وسط میں لڑائی یعنی جنگ عظیم شروع ہو گئی لیکن ہندوستان میں کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ ہم لوگ چونکہ ایک معمولی گاؤں میں رہتے تھے اس لیے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ گاہے بگاہے سننے میں آتا تھا کہ آج جرمن کے جہاز نے لنڈن کی فلاں جگہ پر بمباری کی اور مدراس کے لائٹ پارک میں بھی بم پھینکا گیا۔ باقی سب افواہیں اور بے بنیاد باتیں ہو رہی تھیں۔ کنسٹرکشن کا کام 1914 سے 16 تک خوب زور شور سے ہوتا رہا۔ جب 1916کا آغاز ہوا تو نوٹس ہونا شروع ہو گئے۔ کام تو تقریباً ختم ہو چکے تھے لہٰذا میں بھی 1916میں استعفا دے کر گھر آ گیا۔