کرکٹ کے نیوٹرل امپائر سے سیاست کے غیر جانبدار ججوں تک

کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی تعداد دنیا میں کھیلے جانے والے کھیلوں فٹبال یا  ٹینس سے کم تو ہوسکتی ہے مگر اس کھیل کے چاہنے والے کسی بھی دوسرے کھیل سے کم نہیں ہیں۔ برِ صغیر میں یہ کھیل جنون کی حد تک دیکھا، کھیلا اور پسند کیا جاتا ہے۔ اس میں جیت کی خوشی کسی تہوار کی طرح منائی جاتی ہے تو ہار کسی بہت بڑے سانحہ کی طرح سوگ کی علامت بن جاتی ہے۔

یہاں اگر کھلاڑیوں کو سر پر بٹھایا جاتا ہے تو دوسری طرف ان کے پتلے جلانے میں بھی دیر نہیں لگائی جاتی۔  کرکٹ کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک میں کسی نا کسی سطح پر کرکٹ کی تربیت گاہیں کام کر رہی ہیں اور کرکٹ کھیلی جا رہی ہے ۔ کرکٹ ابتدا میں بہت ہی سست اور وقت ضائع کرنے والے کھیل سمجھا جاتا تھا۔ اسی لئے  اسے بہت کم لوگ کھیلتے اور پسند کرتے تھے۔ اس کھیل کو مقبول کرنے اور عوامی توجہ مبذول کرانے کےلئے دو چیزوں پر خصوصی دھیان دیا گیا۔  پہلے اس کھیل کو پانچ دنوں سے کم کرکے پچاس اوورز تک محدود کیا گیا اور کھیل کا نتیجہ یقینی بنایا گیا (جو کہ ٹیسٹ میچوں میں بہت ہی کم ہوا کرتا تھا) جس کی وجہ سے عوام کی توجہ بڑھنے لگی۔ پھر وقت کی رفتار بہت تیز ہوتی گئی اور لوگوں کے پاس وقت کی قلت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ٹوئنٹی 20 جیسا منفرد اور انوکھا تجربہ کیا گیا۔ اس تجربے نے تو جیسے کرکٹ کی تاریخ ہی بدل کر رکھ دی۔ ٹوئنٹی 20 نے کھیل کا دورانیہ ہی کم نہیں کیا بلکہ کرکٹ کو رنگوں میں ڈبو دیا (سفید گیند اور رنگ برنگے کپڑے) اور ایک بھرپور تفریح  فراہم کرنے کا کھیل بن گیا ۔  دلچسپی بڑھانے اور لوگوں میں شوق پیدا کرنے کے لئے آج کرکٹ سے وابستہ ممالک ممالک کرکٹ لیگ کروا رہے ہیں۔ انہیں  کو کامیاب بنانے کےلئے غیر ملکی کھلاڑیوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ کرکٹ میں رونق کہ ساتھ ساتھ شہرت کا عنصر بھی شامل ہوچکا ہے۔ اور مالی اعتبار سے بھی اس کھیل میں کھلاڑیوں کےلئے بہت کچھ ہے۔

ہر کھیل میں امپائر یا ریفری ضرور ہوتا ہے اور اس کی اہمیت اور افادیت کھیل کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے بغیر کوئی بھی کھیل خوش اسلوبی سے اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکتا۔ آج کرکٹ کی خوبصورتی بھی ان امپائرز کی مرہونِ منت ہے۔ 1987 سے قبل کرکٹ میزبان ممالک کے امپائرز فرائضِ منصبی سرانجام دیتے تھے یا مقابلوں کا انعقاد کرواتے تھے۔ جس ملک میں یہ کھیل کھیلا جاتا امپائر بھی اسی ملک کے ہوا کرتے تھے۔ متنازعہ فیصلوں کی سرگوشیاں ہوتی رہتی تھیں اور پھر یہ سرگوشیاں اتنی کثرت سے ہوئیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان نے نیوٹرل امپائرز یعنی غیر جانبدار امپائرز  کا مطالبہ پیش کردیا۔ اس مطالبہ کو شروع میں تو کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا مگر وقت نے یہ ثابت کیا کہ یہ مطالبہ بروقت تھا۔ جس کرکٹ کو ہماری نئی نسل دیکھ رہی ہے اور بے انتہا پسند کر رہی ہے اس میں نیوٹرل امپائرز یا غیر جانبدار امپائرز کا  کردار بہت اہم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل اس پر عمل درآمد نہ کرتی تو شاید یہ کھیل کب کا ختم ہوچکا ہوتا یا غلط فیصلوں پر جنگیں ہوجاتیں۔

کرکٹ سے سچی محبت کرنے والے اس حوالے سے عمران خان کا شکریہ ادا کرتے رہیں گے اور کرکٹ بھی عمران خان کی شکر گزار رہے گی۔ یہ مضمون کرکٹ پر نہیں لکھنا تھا مگر بہت کچھ لکھ دیا۔ اس مضمون کو موجودہ سیاسی اور عدالتی حالات پر لکھنے بیٹھا تھا تو معلوم نہیں کہاں سے نیوٹرل امپائرز ذہن میں گردش کرنے لگے۔ دراصل کسی بھی قسم کی ایمانداری میں کھوٹ سے بچاؤ کے لئے  غیر جانبدار امپائرز کا ہی خیال ذہن میں آتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اعلی عدلیہ کا احترام، ان کی عزت و تکریم ہم اپنے اوپر فرض جانتے ہیں۔ 

ہمارے ملک میں کرپٹ لوگوں کی فہرست مرتب کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اس کام کو سرانجام دینے  کےلئے کسی حساس ادارے کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں کرپٹ لوگوں کی تاج پوشیاں بھی ہوتی ہیں، جیل سے نکلتے ہی گل پاشی کی جاتی ہے اور ڈھول تاشے سے استقبال کیا جاتا ہے۔  اگر ایک غریب کا بچہ تندور سے روٹی اٹھاتا ہوا پکڑا جاتا ہے تو اسے مار مار کر ادھ مؤا کردیتے ہیں۔  ایسے لوگ ہمارے نظام قانون کے لئے چیلنج بن چکے ہیں۔  عدالتی نظام  بھی فعال دکھائی نیں دیتا۔ یہ طاقتور کرپٹ لوگ  قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قابلیت اور اہلیت کو چیلنج کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔   کیا ہمارا عدالتی نظام بھی ، جس کی لاٹھی اس کی بھینس،  کے محاورے پر عمل پیرا ہوچکا ہے۔ ایسے میں  عمران خان  کی تجویز برائے  غیر جانبدار امپائرز پر غور کرنا پڑے گا۔  ہمارے ملک میں دہشت گردی کو  کرپشن سے ہی فروغ ملا ہے۔  اگر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے تو کرپشن جیسی لعنت کو ختم کرنا ہوگا۔

کرپشن کے خاتمےکےلئے بھی ایک سرجیکل آپریشن کرنا ہوگا۔ ہمیں آپریشن ردالفساد میں کرپٹ افراد کو بھی کیفرِ کردار کو پہنچانا ہوگا۔  اعلی عدلیہ اور قابلِ احترام جج صاحبان سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ ہم پاکستانی عوام آپ جج صاحبان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بھروسے اس وطن کی گاڑی دھکیلے جا رہے ہیں۔ اس کا ایندھن بنے ہوئے ہیں۔ آپ ہماری تاریک ہوتی امیدوں کے روشن چراغ ہیں۔  اللہ رب العزت نے آپ کو بھاری ذمہ داری دی ہے۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیجئے کیا آپ یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں ورنہ ایک دن حساب تو سب کو ہی دینا ہے۔