پرائمری تعلیم اور حکومتی ترجیحات
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 03 / اپریل / 2017
- 9326
پاکستان میں سماجی شعبہ میں سب سے اہم اور بنیادی نوعیت کا مسئلہ تعلیم اوربالخصوص پرائمری تعلیم ہے ۔ کسی بھی قوم یا ریاست کی کامیابی کی کنجی تعلیم ہی ہوتی ہے ۔ جب تعلیم کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد لڑکے اورلڑکی دونوں کی تعلیم ہے ۔ یہ بات کہنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں اس کے اعدادوشمار لڑکیوں کی تعلیم میں لڑکوں کے مقابلے میں بہت ہی پیچھے نظر آتے ہیں ۔ایک مسئلہ معیاری تعلیم کا ہے ۔ لیکن یہاں معیاری تعلیم تو کجا پرائمری تعلیم بھی بڑی تعداد کو میسر نہیں ۔ 18ویں ترمیم میں ہم نے آئین میں ترمیم کرکے 25-A کے تحت پرائمری تعلیم ریاست یا حکومت کی بنیادی ذمہ داری قرار دے کر ان کوجوابدہ بنایا تھا ۔ خیال تھا کہ اس ترمیم کے تحت پرائمری تعلیم صوبائی دائرہ کار میں آئے گی تو اس میں بہتری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے ۔
اس وقت تمام تر حکومتی دعوؤں کے باوجود جو شعبہ قومی ترجیحات میں اولین حیثیت میں ہونا چاہیے تھا، وہ ریاست او رحکومتوں کی عدم ترجیحات کے باعث مطلوبہ نتائج دینے میں بری طرح ناکام رہا ہے ۔ یہاں حکمران طبقہ ہائر ایجوکیشن کی بہت زیادہ بات کرتا ہے اوراس کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر بنائے گئے ہیں ۔ ان وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اپنی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس ریاست یا معاشرے میں پرائمری تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ اور نظام ہی بدترین بدانتظامی کا شکار ہو وہاں پرائمری ایجوکیشن کمیشن کے مقابلے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔ تعلیم سے وابستہ ماہرین اس بنیادی نکتہ پر متفق ہیں کہ اس وقت قوم کو مضبوط قسم کی سیاسی کمٹمنٹ، زیادہ وسائل اور زیادہ لگن و شوق سے پہلے پرائمری ایجوکیشن کمیشن کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ پرائمری تعلیم کے حصول اورمعیار کو بہتر بنا کر ہی ہائر ایجوکشن کمیشن میں بہتری کی طرف بڑھا جاسکتا ہے۔ جبکہ ہماری ترجیح نیچے سے بڑی تبدیلی کی بجائے مصنوعی انداز سے تبدیلی کا سفر ہے ۔
پاکستان کے معروف ادارے ’’ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل پالیسی سائنس‘‘ کی رپورٹ 2016-17کے مطابق اس وقت ملک میں کل شرح خواندگی 58 فیصد ہے ، جبکہ ہم نے ملینیم ڈولیپمنٹ اہداف2000-15میں 88 فیصد شرح خواندگی کا ہدف طے کیا تھا ۔ جس میں ہمیں بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 24ملین بچے اور بچیاں سکول جانے سے قاصر ہیں جو دنیا میں نائیجریا کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے ۔ پنجاب میں لڑکوں کی شرح خواندگی 71فیصد جبکہ لڑکیوں کی 52 فیصد ہے ۔ سندھ میں لڑکوں کی شرح خواندگی 67 فیصد جبکہ لڑکیوں کی 43 فیصد ہے ۔ خیبر پختونخواہ میں لڑکوں کی شرح خواندگی 72فیصد جبکہ لڑکیوں کی 36فیصد ہے۔ بلوچستان میں لڑکوں کی شرح خواندگی 59فیصد جبکہ لڑکیوں کی 25فیصد ہے ۔
اسی طرح ملک کے ایک اور معروف ادارے الف اعلان کی رپورٹ 2016کے مطابق آج بھی پاکستان میں 44فیصد پرائمری سکولوں کی عمارتیں خستہ ہیں ۔ جبکہ 43فیصد سکولز بجلی ، 36فیصد پانی ، 35فیصد لیٹرین اور32فیصد چاردیواری جیسی بنیادی تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔ تقریبا 18فیصد اساتذہ سکول آنے سے قاصر ہیں ۔ جبکہ صوبائی سطح پر ان بنیادی سہولتوں کے اعداد وشمار بھی کافی سنگین نوعیت کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں ۔
پنجاب میں بھی 44 فیصد بچے اور بچیاں سکولوں سے باہر ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں 34 فیصد بچے اوربچیاں ایسی ہیں جو دوران تعلیم سکول چھوڑ جاتے ہیں ۔ ہم نے ملینیم ڈولیپمنٹ اہداف2000-15میں طے کیا تھا کہ تعلیم میں جی ڈی پی کی شرح میں 4فیصد تک اضافہ کیا جائے گا ، مگر ہم ایسا نہیں کرسکے اورابھی ہم 2.09فیصد خرچ کررہے ہیں ۔ صوبائی بجٹ میں کچھ اضافہ ضرور ہوا ہے مگرمجموعی طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں پرائمری تعلیم لڑکوں اور بالخصوص لڑکیوں کی شرح خواندگی اور تعلیم میں کوئی بھی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اگر چہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اخبارات اورمیڈیا کی مدد سے کروڑوں روپوں کے بڑے بڑے اشتہارات جن میں حکمران طبقات کی تصاویر پیش پیش ہوتی ہیں، کی مدد سے تعلیم کم اور اپنی اشتہاری مہم زیادہ چلاتے نظر آتے ہیں ، مگر عملا پرائمری تعلیم کی بہتری کے نتائج کے حصول میں ہمارا حکمران طبقہ دیگر ملکوں حتی کہ ایشائی ممالک سے بھی پیچھے ہے ۔
اس وقت پنجاب حکومت اوراس کے سربراہ شہباز شریف بھی تعلیم دوست حکمران کے طور پر 2017 میں ایک بڑی پرائمری تعلیم کی مہم چلارہے ہیں ۔ اس مہم کے تحت روزانہ اشتہارت بھی دیئے جارہے ہیں ۔ اس مہم کے تحت 2018 تک پرائمری تعلیم میں 100فیصد بچوں کے داخلہ کو یقینی بنانا، دس ہزار سکولوں میں Early Childhood Education کا اجرا، آن لائن ڈیٹا رپورٹنگ، بیس ہزار سکولوں میں سولر پینلز کی تنصیب، ورکشاپس، ہوٹل اورپٹرول پمپس پر کام کرنے والے بچوں کا سکول میں داخلہ ، مزید آٹھ دانش سکولز کا قیام ، چھتیس ہزار اضافی کلاس رومز کی تعمیرجیسے اقدامات شامل ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ میں منصوبے بنانا اوراس کی تشہیر کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے ۔ جبکہ عملی طور پر اگر صوبہ کی مجموعی تعلیم کی صحت کا اندازہ لگایا جائے تو صورتحال کافی خوفناک ہے ۔
مثال کے طور پر الف اعلان کی پاکستان ڈسٹرکٹ تعلیمی رینکنگ2016 کے مطابق پاکستان کے ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں ہمارا تعلیمی سکور 50 فیصد سے کم ہے ۔ پاکستان کے 36 اضلاع ایسے ہیں جہاں پچاس فیصد سے کم ضلعی سکور موجود ہے ۔ جبکہ پنجاب میں راجن پور، بھکر، ڈی جی خان ، میانوالی ، مظفر گڑھ، لیہ، رحیم یار خان سمیت ایسے کئی اضلاع ہیں جہاں معیاری تعلیم تو کجا بنیادی سہولتیں بھی بچوں اور بچیوں کو میسر نہیں ۔ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا تعلیمی سکور66.54 فیصد، پنجاب 73.56فیصد، سندھ 60.44فیصد، پختونخواہ 65.32فیصد،بلوچستان 51.04فیصد، اسلام آباد 85.74 فیصد، گلگت بلتستان73.21 فیصد، اے جے کے 81.68 فیصد اور فاٹا 54.05 فیصد ہے ۔
اصل مسئلہ حکومتی ترجیحات کا ہے ۔ جب ہمارا حکمران طبقہ تعلیم کے مقابلے میں سڑکوں ، پلوں، میٹروسمیت انفراسٹرکچر پر وسائل خرچ کرے گا تو تعلیمی کی ترجیحات کا عمل پیچھے رہ جاتا ہے ۔ یقینی طور پر حکمران طبقات جہاں وسائل خرچ کررہے ہیں وہاں بھی خرچ کریں ، لیکن یہ تمام ترقی تعلیم کی قربانی دے کر نہیں ہونی چاہیے ۔ بدقسمتی سے ریاست اور حکمران طبقات تو ایک طرف 25-Aکے تحت تعلیم دینے کے پابند ہیں تو دوسری طرف ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری سے جان چھڑا کر یہ شعبہ نجی شعبہ میں دے کر تعلیم کو محض کاروبار بنا کر تعلیم دشمنی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔ نجی شعبہ کی اپنی اہمیت لیکن ریاست کو کسی بھی صورت میں اپنی ذمہ داری سے جان نہیں چھڑانی چاہیے ۔ یہ یاد رکھیں کہ اب دنیا میں ترقی کے جو اہداف دیکھے جاتے ہیں اس میں سماجی شعبہ بالخصوص تعلیم اور وہ بھی لڑکیوں کی تعلیم سمیت بڑے چھوٹے شہروں ، شہروں اور دہیاتوں کے درمیان فرق یا نتائج کو دیکھ کر ملکوں کی تعلیمی درجہ بندی کی جاتی ہے ۔
مسئلہ محض حکومت کا ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر سیاسی قیادت کی ناکامی کا بھی ہے ۔ سیاسی قیادتیں ، جماعتیں اور سیاست سے وابستہ افراد کا مسئلہ سرکاری تعلیمی ادارے ہے ہی نہیں۔ بیشتر سیاست دانوں کے بچے اوربچیاں سرکاری تعلیم سے دور ہیں ۔ جب حکمران اور بالادست طبقات کے بچے اور بچیاں خود سرکاری تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھیں گے تو ان سکولوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک ہی ہوگا۔ آپ ایک بار پابند کریں کہ سب بچے اور بچیاں سرکاری سکول میں پڑھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ ان سکولوں کی حالت زار کیسے تبدیل ہوتی ہے ۔ جب تعلیم طبقاتی مسئلہ بن کر حکمران طبقات کے سامنے ہوگا تو کمزور، محروم اور غریب لوگ اول تو تعلیم سے محروم رہیں گے اور اگر ملے گی تو اس میں معیاری تعلیم نہیں ہوگی ۔
سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے میں تعلیم کا نہ ہونا اور عملی اقدامات کی طرف کوئی بڑی پیش رفت کرنا یا کوئی بڑی تحریک چلانا نہیں ہوگا تو جو کچھ اس وقت پرائمری تعلیم کے ساتھ ہورہا ہے ، وہ اگلے برسوں میں اس سے بھی زیادہ بدتر ہوگا ۔ تعلیم دشمن حکمران طبقہ یا بالادست طبقہ ہی اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے ، حالانکہ یہ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں۔ لیکن تعلیم کے مقابلے میں ان کی ترجیحات میں باقی سب کچھ ہے۔ مگر تعلیم بہت پیچھے ہے جو بڑا المیہ ہے ۔ کیا واقعی یہاں پرائمری تعلیم کے فروغ کے لیے کوئی بڑی سماجی تحریک چل سکے گی ، خود بڑا سوالیہ نشان ہے ۔