شاہ جی دی گلی
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- سوموار 03 / اپریل / 2017
- 5085
’’غبار خاطر‘‘ کا اولین مکتوب یوں ہے
’’اے غائب از نظر کرشدی ہم نشین دل
می بیخت عیاں و دعامی فرستمت
حکایات سے دل لبریز ہے مگر زباں درماندہ
فرست کو یارائے سخن نہیں‘‘
جب ایسی ہی کیفیت طاری ہو جائے تو حکایات سے دل خودبخود لبریز ہو جاتا ہے۔ پیام آیا کہ مدت سے غائب از نظر سہی۔ لیکن دل کے قریب تر ہو۔ اگرچہ یارائے سخن سے تشنہ ہیں۔ بہرحال ملاقات کا یارا کیا جائے۔
اس بار پھر آعز جی (ڈاکٹر سید امجد حسین) نے قدم بڑھایا۔ کیفیات سے دل لبریز ہو کر چھلک پڑا۔ گرو جی (ڈاکٹر ستیہ پال آنند) اور عتیق جان اور ہمیں مسحور کرکے رکھ دیا۔ دنیا کے دوسرے کام ہیچ نظر آنے لگے۔ رخت دل باندھنے کے اسباب خود بخود قطار اندر قطار چوہند، جیسے مدت سے منتظر۔ آعز جی نے وقت کا تعین کیا بارات عاشقاں امریکہ کے مختلف شہروں سے عازم منزل ہوئی۔ ٹھکانہ ’’شاہ جی دی گلی‘‘ تھا۔ جو ٹومیٹرو میں بلا رہی تھی۔ جمعہ المبارک کی نماز ہم نے آعز جی کی عظیم الشان مسجد، ٹومیٹرو میں ادا کی۔ احباب سے تعارف ہوتا رہا۔ بہت سے احباب نے ہفتہ کی شام آعز جی کے دولت کدہ پر رہنے کا عندیہ دیا۔ البا قرقی جسے ہمارے مہربان دوست عتیق جان صاحب God for saken country کہتے ہیں۔ الباقرقی سے نکلنا بھی اتنا ہی دشوار ہے جتنا واپس آنا۔ کہتے ہیں نا کہ ’’مہنگا روئے ایک بار اور سستا روئے بار بار‘‘ ہم بھی ایک ایسے ہی تیر کے بسمل تھے۔ ہمارا ٹکٹ ہمیں الباقرقی سے ڈیلس، ڈیلس سے شکاگو اور شکاگو سے ٹومیڈرو لایا۔ اب ذرا واپسی کا نظارہ کیجئے۔ ہماری واپسی کی راہ ٹومیڈو سے شکاگو، شکاگو سے لاس اینجلس، لاس اینجلس سے ۔۔۔۔۔ البا قرقی۔ یعنی ہم جن آسمانوں سے گزر کر آئے تھے۔ اب پھر ان ہی آسمانوں سے واپس لوٹ رہے تھے۔
جب ہمارا بے حد مختصر ہوائی جہاز ٹولینڈو کی فضاؤں میں ہی ڈول رہا تھا کہ آعز جی کا فون آیا۔ کہنے لگے کہاں ہو ۔۔۔ ہم نے عرض کیا:
جذبہ بے اختیار شوق دیکھا چاہئے
سینہ شمشیر کے باہر رہے دم شمشیر
ہنستے مسکراتے ، چاک و چوبند کرکٹ کے کھلاڑی کی طرح چھریرے بدن والے آعز جی ائر پورٹ پر موجود تھے۔ ٹوٹ کر گلے ملے۔ اگلے دن گرو جی اور عتیق جان نے آنا تھا۔ ان کی فلائٹ ساتھ ساتھ تھیں۔ ہم دوبارہ ائر پورٹ پر تھے۔ گرو جی اور عتیق جان کو دیکھ کر نعرہ مستانہ ائر پورٹ پر گونجا۔
یک نعرہ مستانہ ہو جائے کہ شنیدم
ویراں شود آن شہر کہ مے خانہ نہ دارد
جپھا یارو جپھا !! آعز جی اپنی جانی پہچانی راہوں کے شہ سوار تھے۔ ادھر ہمارے ذہنوں میں بھانت بھانت کے مضامین کروٹیں لے رہے تھے:
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
گھر پہنچ کر گرو کا پہلا سوال یہ تھا
دھمال کیسا؟
آعز جی نے متانت سے جواب دیا۔ چند احباب کو زحمت دی ہے۔ کل شام پہلی نشست ادبی ہوگی جس میں آپ سارے حصہ دار ہیں۔ دوسری نشست محفل موسیقی ہوگی۔ دعوت نامے جا چکے ہیں۔ ہمارا سارا دن گویا:
اے رگ جاں کے مکیں تو بھی کبھی غور سے سن
دل کی دھڑکن تیرے قدموں کی صدا لگتی ہے
سارا دن ہم اپنا کعبہ الگ بناتے رہے۔ عتیق جاں جیسے مراقبے سے بیدار ہوئے۔ یوں دیکھنے لگے جیسے اگر ان کے اختیار میں ہو تو سورج کی لگامیں کھینچ کر کائنات جہاں ہے وہیں معلق کر دیں اور وقت جسے ہم ’’حال‘‘ کہتے ہیں اور جس کا کوئی وجود نہیں، جو ایک سانس سے بھی کم تر ہے۔ پھر تاسف سے کہنے لگے:
زندگی ہم تیرے داغوں سے رہے شرمندہ
گرو جی نہ جانے کس گیان دھیان میں تھے، فرمانے لگے
وہ سامنے دیکھو ہمارا دیکھشت
بیٹھا ہوا ہے سب، بھکشوں کے لمبے کرتے
سوئی دھاگے سے مرمت کر رہا ہے
ہرنیا بخیہ جو اس کے ہاتھ سے لگتا ہے
اس میں درجنوں پاپوں کے بخئے کھولتا ہے
پھر لگا آئینہ کو جیسے ذرا سا شائبہ مسکان کا
ان کے لبوں پر اپنی ہلکی چھب دکھا کر اڑ گیا
’’برف آ گئی‘‘ آعز جی نے پکچر فریم کھڑکی سے باہر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ برف کا سفید دھمال رقص کناں خراماں خراماں ، مادر گیتی کے حسن میں اضافہ کر رہا تھا:
برف گرتی ہے تو یاد آتا ہے
تیرے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھوں کا لمس
’’قاری‘‘ کی آواز کے ساتھ اس کا مسکراتا ہوا چہرہ دروازے پر نمودار ہوا۔ ’’ڈنر دس منٹ میں تیار ہو جائے گا‘‘۔ اس کی آواز کانوں کے رستے شکم نواز ہوئی۔ قاری قرینے کے فرزند ہیں۔ گھر بار سنبھالنا خوب آتا ہے۔ اگلے دن ہی ہمارے اعزاز میں محفل ادب و موسیقی کا اہتمام تھا۔ شام ڈھلے ہی مہمان ہاتھوں میں ایک ایک ڈش لئے آنے لگے۔ ساری ڈشز میز پر سجائی گئیں۔ یہ امریکی روایت بن چکی ہے کہ جب آپ کسی کو مدعو کریں تو مہمان ضرور کہے گا، ہم ساتھ کیا لائیں؟ اس امریکی روایت کو POT LUCK کہتے ہیں۔ جو دراصل میزبانی کے لئے GOOD LUCK کا درجہ رکھتی ہے۔
محفل کی ابتدا محترمہ تہمینہ چیمہ نے شمع محفل جلا کر کی۔ عتیق جان نے پھر مغز مضمون ’’وقت‘‘ پڑھا۔ ہم نے ایک نظم پیش کی اور پھر آعز جی سے درخواست کی کہ وہ ہمارا افسانہ ’’زرد پتوں کا بن‘‘ پڑھیں۔ کیونکہ ہماری آنکھیں سرجری کے بعد ساتھ نہیں دے پا رہی تھیں۔ آعز جی نے ادا کے ساتھ افسانہ پڑھا اور اختتام پر ہماری حیرت کہ حاضرین نے افسانے کو STANDING OVATION کا اعزاز بخشا۔
اب صاحب صدر جناب ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے مائیکرو فون سنبھالا اور ادب و فلسفے اور گیان کے در وا ہو گئے:
اور پھر ایسا ہوا آنند خالی ہاتھ لوٹا
اور کہا ’’بھگوان اس نگری میں ایسا
ایک دولت مند بھی ہے جس کو دولت سے کوئی رغبت نہیں
سارا دھن ہمیں بھکشا کو دینا چاہتا ہے
ہم تو خالی ہاتھ لوٹے ہیں
ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے اپنی نظموں سے حاضرین کو ساتھ لے کر کسی دوسری دنیا سدھارے:
نروان سے آگے کوئی منزل نہیں
صرف ایک اندھی، اندھیری رات ہے
بے انت ہے۔ خالی زمان و لامکان ہے۔
گرو جی نے آنکھیں بند کر کے کتاب بند کر دی۔ مکاں و لامکاں میں گم حاضرین جیسے جاگ اٹھے۔ تالیوں کی گونج نے زندگی کی حرارت کو متحرک کر دیا۔ اب حاضرین ٹولیوں میں بٹ گئے۔ کچھ بوفے کی میز کے گرد نظر بازی کرنے لگے۔ ایک بے حد سلجھی ہوئی خاتون نے کہا ’’یہ میں بنا کر لائی ہوں۔ ضرور ٹیسٹ کریں‘‘۔ عتیق جان نے میرے کان میں سرگوشی کی اور ہم گیراج کی طرف چل دیئے۔
عتیق جان تین ایستادہ چارپائیوں کی طرف اشارہ کیا۔ ’’یہ پشاور سے لائی گئی ہیں‘‘۔ یہ شاہ جی کا کمال ہے۔ پھر بڑھ کر انہوں نے چارپائی کے بان کو احتیاط سے چھوا۔ پھر جیسے اپنے آپ سے مخاطب ہوئے ‘کہاں ٹولیڈو، کہاں شاہ جی دی گلی اور کہاں پشاوری منجے‘۔ پھر زیب لب گنگنانے لگے:
’’کس چیز کی کمی ہے ۔ شاہ جی تیری گلی میں‘‘
محفل موسیقی کے انعقاد کا اعلان ہوا۔ لوگ سست روی سے گیسٹ روم کی طرف سرکنے لگے۔ ہم جا کر گرو جی کو ساتھ لے کر آئے۔ سازندے اپنی اپنی نشست سنبھال چکے تھے۔ آعز جی نے محبت کے ساتھ وندیتا کو دعوت دی۔ وندیتا ایک ادائے دلربائی سے حاضرین کو پرنام کرتی تشریف لائیں۔ مائیکرو فون سنبھالا۔ کمرے میں خودبخود خاموشی اتر آئی۔ سازوں سے دھیمی سر بلند ہوئی۔ آواز ہم آہنگ ہوئی۔
لگ جا گلے ۔۔۔۔۔۔۔
وندیتا کی من موہنی آواز لگ جا گلے ۔۔۔۔ نے حاضرین کو اپنی گرفت میں لے لیا اور ایک کے بعد ایک گانے حاضرین کو مسحور کئے رکھا۔ وندیتا کی آواز کا جادو آعز جی کے در و دیوار کو گرویدہ کر چکا تھا۔ انہوں نے گائیکی کے اختتام کا اعلان کیا لیکن لوگ کب ماننے والے تھے۔ MORE MORE کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ وندیتا نے دوبارہ گانے کا وعدہ کیا اور ان کے بعد ڈاکٹر صاحبان نے محفل کو گرمانے کا قصد کیا۔ جن میں عمران اندرابی، مسیح رحمان، عباس حیدر نے محفل کو گرمائے رکھا لیکن آنکھیں وندیتا کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ وندیتا نے مائیکرو فون تھاما تو تالیوں کی گونج نے جیسے محفل کی سج دھج کو چار چاند لگا دیئے۔ وندیتا اپنی گائیکی کے جوہر دکھاتی رہیں اور حاضرین لمحہ لمحہ بے خود ہوتے رہے۔
اچانک ایک طبل بجا، گردنیں ایک جھٹکے ساتھ استوار ہو گئیں۔ آنکھیں چمک اٹھیں، شام پھر جاگ اٹھی۔ وندیتا کی صدا اب کے گھن گرج سے طلوع ہوئی۔
سہونڑ دا ۔۔ سندھڑی دا۔ شہباز قلندر
دما دم مست قلندر ، علی دم دم دے اندر
وارفتگی میں سامعین تڑپ اٹھے۔ کرسیوں سے نکل آئے اور رقص درویش میں ڈوب گئے۔ در و دیوار وجد اور جذبہ دروں سے سرشار محو رقص تھے:
من بندہ عاصیم ، بقائی تو کجا است
تاریک دلم نور و ضیائی تو کجا است
آرا تو بہشت اگر بطاعت بخشی
ایں مزد بود لطف و عطائی تو کجا است