آنکھ سے آنکھ جلانے کا ہُنر
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 03 / اپریل / 2017
- 6029
خورشید اکرم کی نظموں کے مجموعے " پچھلی پریت کے کارنے " کا ایک اجمالی جائزہ
میں کتابوں پر تبصرہ رقم نہیں کرتا کیونکہ میں پیشہ ور نقاد نہیں ہوں البتہ کتاب کا متن پڑھ کر ، جو کسی بھی صنفِ سُخن میں ہو ، مجھ پر جو تاثر مُرتب ہوتا ہے ، اُسے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ہر چند کہ یہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ الفاظ ، باطنی احساس کو من و عن بیان نہیں کر سکتے مگر میں اس مشکل کو اپنے نجی مطالعے کے لیے آسان بناتا ہوں اور ان آسانیوں میں دوسروں کو شریک کرنا چاہتا ہوں ۔
زیرِ نظر کتاب " پچھلی پریت کے کارنے " عزیز، گرامی خورشید اکرم کی نظموں کا مجموعہ ہے ، جسے اُنہوں نے بصد خلوص اور از رہِ عنایت مجھے دہلی سے بھجوایا ہے ۔ میرے لئے یہ میر و غالب کی دلی کا تحفہ ہے :
دلّی جو ایک شہر ہے عالم میں انتخاب
آتی ہے اُس سے خوشبوئے تہذیبِ رفتگاں
خورشید اکرم ماہ نامہ " آج کل" کی مجلسِ ادارت سے وابستہ تھے ، جس کے دفتر میں مجھے جب وہ کرسی دیکھنے کو ملی ، جس پر کبھی حضرت جوش ملیح آبادی متمکن ہوتے تھے۔ تب وہ مسند یارِ مرنجان مرنج راج نارائن راز کا دفترِ ادارت تھا ، جن سے ملنے میں وہاں چلا جاتا تھا ۔ میں نے ماہ نامہ " آجکل" کے لئے چند مضامین ، امرتا پریتم کا انٹرویو، حفیظ جالندھری کی وفات پر اُن کی شخصیت اور شاعری پر مضمون اور کچھ کتابوں پر اپنی رائے لکھی جن میں ایک کتاب حضرت افتخار عارف ( افتخار حسین عارف) کی مہرِ دو نیم بھی تھی ۔ اِسی دفتر میں آشنائی کے فلک پر ، خورشید اکرم بھی طلوع ہوئے اور میں زبان و ادب کے اس موتی کی آب و تاب سے خود کو نہ بچا سکا ۔ چند مہینے پہلے خورشید اکرم نے مجھے راج نارائن راز پر مضمون لکھنے کا حکم دیا تو مجھے وہ پچھلی پریت یاد آئی جس کے کارنے میں خورشید اکرم سے چونتیس برس بعد بھی منسلک ہوں اور اُن کی نظموں کی آب و تاب ، دلکشی اور معنی آفرینی سے سے بہرہ اندوز ہو رہا ہوں ۔
خورشید اکرم کی نظمیں ادبی اور لسانی نوعیت کے اعتبار سے بھارتی نہیں بلکہ بلکہ اپنے اسلوب میں ہند مسلم تہذیب کی اردو کا کھرا اور خوبصورت نمونہ ہیں ۔ اُنہیں ایک طرف تو اُس لب و لہجے پر عبور ہے جسے پاک و ہند کے لسانیات دانوں نے نوع بہ نوع لسانی تشکیلات سےوضع کیا ہے اور دوسری طرف میرا بائی ، کبیر اور امیر خسرو کا جادو بھی اُن کے ہاں سر چڑھ کر بولتا نظر آتا ہے ۔ اُن کی نظم " روح کی نجات " اس روایت کی شاندار مثال ہے ۔
پچھلی پریت کے کارنے کے کلیدی استعارے میں مجھے تو ہندوستان کے مسلمانوں کی تین حصوں میں تقسیم کا مرثیہ پنہاں نظر آتا ہے کیونکہ سر سید ، حالی اور اقبال کے ہندواستان میں مسلمان ایک ملی وحدت تھے جو اب تین سیاسی اکائیاں بن چکے ہیں ۔ چنانچہ " پچھلی پریت کے کارنے " کے تناظر میں اردو خوان قارئین مشترکہ ماضی کے اجڑے اور سوکھے تالاب پر ایک دوسرے کی جدائی کے کنکر چن چن کھاتے ہیں ۔
خورشید اکرم کا چمتکار یہ ہے کہ اُنہوں نے لفطوں کو سچ مُچ کے سازوں میں تبدیل کر کے اُن میں سنگیت پیدا کیا ہے ۔ ذرا ملاحظہ ہو :
اور یہ میرا خوب نہیں
کہ سورج جب
آدھے آسمان میں چمک رہا تھا
اپنی چوڑیاں ، اپنی بِندی
اپنے ہاتھ اور اپنے ہونٹ
سب اُتار کر
تم نے آنکھ سے آنکھ جلائی تھی
جلتی بتی بجھائی تھی
( یہ میرا خوب نہیں ) نظم
نظم کی ان دو آخری لائنوں میں مجھے پنجاب کے لوگ گیتوں کی روح انگڑائی لیتی دکھائی دی ہے اور مجھے ایک بولی یاد آ گئی:
پلّہ مار کے بجھا گئی دیوا
تے اکھ نال گل کر گئی
یہ ہماری ازدواجی زندگی کی روز مرہ حقیقتیں ہیں جنہیں خورشید اکرم نے اس کتاب کی بہت سی خوبصورت نظموں میں سمو دیا ہے ۔ ان نظموں کو پڑھتے ہوئے مجھے جان نثار اختر کے صفیہ کے نام خطوط بھی یاد آئے اور کتاب کا انتساب بھی میرے اس تاثر پر تائیدی دستخط کرتا ہو محسوس ہو ا ہے :
" صبیحہ کے نام ، نظم جس کے طواف میں ہے " ۔
ایک سچے شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی بھی صنفِ سُخن میں اظہار کرے ، لفظوں کی ترتیب و تراکیب میں سا رے گا ما پا کا طلسم پیدا کر سکتا ہے اور یہی ان نظموں کا خاصہ ہے ۔ یہ نظمیں حسرت موہانی کی غزلوں کا سا رس لئے ہیں ، جو محبت کو ایک ازدواجی سماجی رویہ بنا کر پیش کرتا ہے ۔ ذرا ملاحظہ ہو :
" یہ کن عذابوں کا سلسلہ ہے
روز بیوی سے پیار کرتے ہوئے
اپنے اندر گھائل ہونا
روز دیکھنا سور ج کو
نکلتے ہوئے ، ڈھلتے ہوئے اور
جل اُٹھنا ، بجھ جانا ساتھ ساتھ"
یہ رویہ یوں تو ساری نطموں میں کسی نہ کسی طرح موجود ہے مگر معصوم آنکھوں والی ، پینٹ ہاؤس اور تمہارے لئے جیسی نظموں میں بہت نمایاں ہے ۔
سُخن سازی میں رشتوں ناتوں کی یہ آنکھ مچولی ، اصولِ تذکیر و تانیث کے مابین پُل بنانے اور ایک تانترک یوگی کی طرح من و تو کو ایک اکائی میں پرونے کی تپسیا ہے ۔ مجھے خورشید اکرم کو دیکھ کر کبھی گمان نہیں ہوا تھا کہ اس شاعر کے من میں گنگا جمنا ایک ساتھ انتہائی طوفانی رفتار سے بہ رہی ہیں ۔ خورشید اکرم کی نظموں میں فلسفہ کم اور محبت زیادہ ہے اور یہی اُن کی نظموں کا ہُنر ہے جسے میں نے " آنکھ سے آنکھ جلانے کا ہُنر" کہا ہے ۔ اتنی خوبصورت نظمیں تخلیق کرنے پر خورشید اکرم کو تہِ دل سے مبارک باد ۔
یہ کتاب دہلی کی عرشیہ پبلیکیشنز نے بڑے اہتمام سے چھاپی ہے ۔ گتے کی پکی جلد اور گردپوش والی یہ کتاب اردو شاعری کے قاری کے لئے ایک گرانقدر تحفہ ہے اور کتاب کی قیمت دو سو ہندوستانی روپے ہے جبکہ 119 صفحات کی اس کتاب میں کم و بیش ستاون نظمیں ہیں جو ایک پراسرار مرکب عدد ہے جس کا حاصل جمع تین ہے ۔ تریمورتی ۔ میں وہ اور دونوں کے بیچ کا رشتہ ۔ کتاب کے ملنے کا پتہ ہے:
عرشیہ پبلیکیشنز ، سوریہ اپارٹمنٹس ، دلشاد کالونی دہلی 110095
(نوٹ: تبصرے کے لیے " کارواں" کو دو کتابیں ارسال کی جائیں)