توہم پرستی اور جہالت کا شاخسانہ

سرگودھا کی ایک درگاہ میں گدی نشین پیر کے ہاتھوں بیس افراد کے لرزہ خیز قتل کی واردت پاکستانی معاشرے کی زبوں حالی کا ایک اور ثبوت ہے۔ اس حادثہ سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ اس سرزمین  جہالت اور توہم پرستی کا راج ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق درگاہ کے گدی نشین پیر عبدلواحید نے اور اس کے ساتھیوں نے انتہائی ظالمانہ طریقہ سے بیس افراد کو قتل کیا ہے۔

حکومت پنجاب کو ابتدائی رپورٹ میں سرگودھا کی انتظامیہ کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ واقعہ توہم پرستی اور جہالت کا نتیجہ ہے اور اس کا تعلق کسی قسم کی ذاتی دشمنی یا کسی قسم کے تنازعہ سے نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دربار پر آنے والے ہرشخص کو دربار کے آخری حصہ میں لے جایا جاتا تھا۔ وہاں اس پر تشدد کیا جاتا بیہوش کیا جاتا سر پر ڈنڈے مارے جاتے۔  جسم کے مختلف حصوں پر خنجر کے وار کئے جاتے تھے جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک ہو جاتا۔  پھر اس کی نعش کو دوسرے کمرے میں منتقل کردیا جاتا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ دربار محکمہ اوقاف کی تحویل میں نہیں تھا۔  یہ دوسال قبل بنایا گیا تھا۔ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق سجادہ نشین گناہ جھاڑنے کے لئے مریدوں سے ڈنڈوں سے مارتا تھا۔  سادہ لوح عقیت مند سجادہ نشین کی عقیدت میں ڈنڈے کھاتے رہتے اور معصوم لوگ موت سے ہمکنار ہوتے رہے۔

اس المناک اور شرمناک کہانی کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ قاتل پیر ایک انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہے اور اہم سرکاری عہدوں پر کام کرتا رہا ہے۔ اس دوران اس کی درگاہ پر شراب بھی سپلائی کی جاتی تھی اور اس کے مریدوں میں پڑھے لکھے لوگ بھی شامل تھے۔ اس واقعہ سے پاکستان کے اندر بڑھتی جہالت اور توہم پرستی  ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔   من حیث القوم یہ واقعہ پوری ریاست اور قوم کے منہ پر طمانچہ کے مترادف ہے۔ مذہب کو مولوی کے حوالے کرنے کا عبرتناک انجام ہے اور سیاست اور مذہب دونوں کے مزے لوٹنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔ پاکستان کا معاشرہ اس وقت  اخلاقی انحطاط کی آخری حدوں ہو چھو رہا ہے۔ آئے دن اخبارات میں ایسی ایسی خبریں شہ سرخیوں کے ساتھ ہوتی ہیں کہ ان کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور حقیقت میں ہاتھ خود بخود کانوں کو چھونے لگتے ہیں۔ توہم پرستی ، پیری مریدی کی آڑ میں جہالت کا دور دورہ ہے کہیں مذہب کے نام پر قتل اور کہیں فرقہ کے نام فساد۔

حالی نے اپنی شہرہ آفاق مسدس حالی میں مسلمانوں کی اخلاقی حالت کا جو نقشہ کھینچا تھا اس کی عملی تفسیر آج کا مسلمان ہے۔ اگر ایمانداری اور سچائی کے ساتھ مسلمانوں کی اخلاقی حالت اور ان کے موجودہ کردار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وہ اسلام کے پیغام کو بھلا چکے ہیں۔  اسلامی تاریخ کی کتب میں ظہور اسلام سے قبل معاشرے کی جہالت اور توہم پرستی کی جو جو نشانیاں بیان کی گئیں ہیں وہ آج پاکستان کے معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ جھوٹ کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے اور آج اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نام پر جھوٹ بولا جاتا ہے اور فساد پھیلایا جاتا ہے۔ قتل کیا جاتا ہے۔ قرآن سے شادی کی جاتی ہے۔ تہمت لگائی جاتی ہے۔ بدزنی کی جاتی ہے۔ منافقت کا بول بالا ہے۔ عدل و انصاف کا فقدان ہے۔  یتیموں کا مال ہڑپ کیا جاتا ہے ۔ جنسی جرائم عام ہیں۔  گھروں کے اندر اور باہر عورت کی عزت محفوظ نہیں رہی۔

رشوت خوری عام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لوگ تنخواہ لینا نہیں بلکہ رشوت لینا پسند کرتے ہیں۔ مذہب کے نام پر خون پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ ایک جنگل کے قانون سا گماں ہے جہاں ایک طاقتور ایک کمزور کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ عدالتیں انصاف کرنا چھوڑ چکی ہیں۔ چیزوں میں ملاوٹ کی جاتی ہے، کم تولا جاتا ہے۔ وراثت میں سے عورتوں کو ان کے شرعی حق سے محروم کیا جاتا ہے۔ معمولی معمولی بات پر ایک مسلمان دوسرے کا قتل کردیتا ہے۔ بیواؤں کے ساتھ ظلم و ستم روا رکھا جاتا ہے۔  پاکستانی اخبارات ان سب حالات و واقعات کی گواہی دیتے ہیں کہ آج کے مسلمان الطاف حسین حالی کی مسدس حالی کی عملی تصویر بن چکے ہیں۔  اکیسویں صدی کے بھی سولہ برس گزر چکے لیکن ہمارا تنزلی اور پستی کی طرف سفر رکنے میں نہیں آرہا۔ مولوی اور ملائیت نے پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ سوشل میڈیا پراس وقت درجنوں  ایسی ویڈیو موجود ہیں جن میں خود ساختہ پیر شرم ناک حرکتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ خودساختہ پیروں کے آگے سجدے کئے جاتے ہیں۔

کچھ دیر کے لئے ظہورسلام سے قبل کے دور کے مناظر کو یاد کرتے ہیں جب ہر طرف جہالت  کا دور دورہ تھا۔  توہم پرستی کا راج تھا۔ شرک  پورے معاشرے  میں پھیلا ہؤا تھا۔  بیٹی کی پیدائش منحوس تصور کی جاتی تھی۔ خونی رشتوں کا کوئی تقدس نہ تھا۔  غرور و تکبر اور خاندانی برتری نے پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ طاقتور ہی کی عزت ہوتی تھی۔  عدل و انصاف کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔

ان سب برائیوں کو دیکھیں اور آج اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں تو اگر کوئی فرق نظر آتا ہے تو بس اتنا ہے  کہ ظہور اسلام سے یہ سب کچھ کرنے والوں کا کوئی مذہب نہ تھا، لیکن آج مسلمان ایک دین کے پیروکار ہیں۔