بھٹو: سیاسی شعور بیدار کرنے والا بیباک لیڈر

یہ اس وقت کی بات جب بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت نئی نئی آئی تھی۔ میں اس وقت ایم بی بی ایس کے فائنل ایئر میں تھا۔ اور پی پی پی کا بہت بڑا حامی تھا۔ میں اور میرے کچھ دوست ایک مشترکہ دوست سے ملنے عارف والا کے نزدیک اس کے گاؤں گئے۔ ہمارے اس دوست کا تعلق اپنے علاقے کے ایک بہت با اثر زمیندار اور سیاسی خاندان سے تھا۔ اس کے علاوہ وہ لوگ پیری مریدی بھی کرتے تھے۔ جب ہم وہاں گئے تو ان کے صحن میں مریدین کی ایک بہت بڑی تعداد جمع تھی۔  وہ سب زمین پر بیٹھے تھے۔ جبکہ ہمارا دوست اور دو تین بزرگ کرسیوں پہ براجمان تھے۔ جو بھی نیا مرید آتا وہ سب کے گھٹنوں کو چھوتا اور زمین پہ جا کے بیٹھ جاتا۔

بزرگ مسلسل حقہ پی رہے تھے۔ دوران گفتگو بزرگوں نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کے گن گانے شروع کر دیئے اور بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو پہ کھل کے تنقید کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کی حمایت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اس کی وضاحت یہ کی کہ جو لوگ انہیں جھک جھک کر سلام کرتے تھے اوران کے سامنے زمین پر بیٹھتے تھے بھٹو نے ان لوگوں کو سیاسی شعور دے کے ان کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ان کے نزدیک بھٹو کاجرم یہ تھا کہ اس نے غریبوں کو زبان دی۔ میں خاموشی سے بیٹھا ان کی گفتگو سنتا رہا۔ لیکن میں نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ ملاقات کے بعد جب ہم واپس آ رہے تھے تو میرے دوستوں نے حیرت کے عالم میں مجھ سے پوچھا کہ میں کیوں خاموش رہا۔ حالانکہ اس زمانے میں بھی میں بھٹو کے حق میں لمبی لمبی بحثیں کیا کرتا تھا۔ ان کے لئے یہ بات باعث تعجب تھی کہ بھٹو کے خلاف باتیں ہو رہی تھیں اور میں خاموش رہا۔

دوستوں کے استفسار پر میں نے بتایا کہ وہ بزرگ اپنے تئیں بھٹو پر تنقید کر رہے تھے۔ لیکن حقیقت میں وہ وہی بات کر رہے تھے جس کی وجہ سے میں بھٹو کو پسند کرتا ہوں۔ یعنی غریوں کو سیاسی شعور دینا۔ ان بزرگوں کی باتیں اس بات کا ثبوت تھیں۔ اس لئے مجھے بولنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ آج اس ذوالفقار علی بھٹو کی اڑتیسویں برسی ہے۔ چار اپریل کو اس نابغہ روزگار شخصیت کو ایک متنازعہ عدالتی فیصلہ کے ذریعے قتل کیا گیا۔ اس شخص نے اس ملک کے پسے ہوئے طبقات کو یہ شعور دیا کہ وہ بھی انسان ہیں ۔ زندگی پہ ان کا بھی حق ہے۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا دور، حکومت کرنے کے اعتبار سے پاکستانی تاریخ کا مشکل ترین اور چیلنجز سے بھر پور دور تھا۔ جس سے بھٹو جیسا زیرک اور ذہین سیاستدان ہی نمٹ سکتا تھا۔  انہوں نے اس سے نمٹ کے بھی دکھایا۔

1971 کی جنگ کے بعد قوم کا مورال بہت نچلی سطح پہ تھا۔ نوے ہزار فوجی دشمن کی قید میں تھے۔ کئی ہزار مربع میل کا علاقہ دشمن کے قبضے میں تھا۔ جنگ کے باعث معیشت تباہ حال تھی۔ ملک دو ٹکڑے ہو چکا تھا۔ ملک میں کوئی آئین نہیں تھا۔ بھٹو نے سب سے پہلے اسی بھارت سے شملہ معاہدہ کیا جس نے مشرقی پاکستان میں پاکستان کو شکست دی تھی اور فاتح کی حیثیت سے کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ ایک شکست خوردہ ملک کا سربراہ نوے ہزارفوجی بھی چھڑا کے لے آیا اور سارے مقبوضہ علاقے بھی واگزار کروا لئے۔ یہ صرف اس کی سفارتی مہارت سے ممکن ہوا۔ بے نظیر بھٹو اپنی کتاب دختر مشرق میں لکھتی ہیں کہ اندرا گاندھی نے شرط رکھی کہ یا مقبوضہ علاقے آزاد کروا لو یا قیدی واپس لے لو۔ بے نظیر کہتی ہیں کہ پاپا نے پوچھا پنکی تم میری جگہ ہوتی تو کیا کرتیں۔ وہ کہتی ہیں میں نے جھٹ سے کہا کہ قیدی چھڑوا لیتی۔ لیکن پاپا نے کہا کہ یہ بہت بڑی غلطی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ علاقے آزاد کروائیں گے۔ کیونکہ زمین پہ قبضہ کوئی ملک نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے اسرائیل کی مثال دی جس نے مقبوضہ علاقے کبھی خالی نہ کئے۔ جہاں تک قیدیوں کا تعلق ہے تو وہ اتنے زیادہ لوگوں کو قید نہیں رکھ سکتی۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ قیدی عالمی دباؤ کے ذریعے چھڑوا لیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ قیدی بھی چھڑوا لیئے اور زمین بھی۔ یہ ہوتا ہے وژن۔ اور یہ ہوتی ہے سیاسی اور سفارتی مہارت۔

بھٹو نےاس کےساتھ ساتھ پاکستان کا آئین بھی بنایا جسے پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے منظور کیا۔ پھر اسلامی سربراہی کانفرنس کی اہمیت و افادیت سے کون واقف نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے نتائج کے اعتبار سے لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس سب سے بہترین تھی۔ جس میں متعدد ایسے فیصلے کئے گئے جو دوررس نتائج کے حامل تھے۔ ایک زمانہ جانتا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام کس نے شروع کیا۔  مولا نا کوثر نیازی کے بقول بھٹو صاحب کی جان بھی اسی وجہ سے گئی۔ الغرض انہوں بے شمار ایسے کام کئے جن کا پاکستان کو بے حد فائدہ ہوا۔ انہوں نے بے شمار نئے کالجز اور یونیورسٹیاں بنائیں۔ میڈیکل کالجز بنائے۔ ٹیکنیکل سکول اور کالج بنائے۔

ذوالفقار علی بھٹو ایک انسان تھے اور انسانی کمزوریوں سے مبرا نہ تھے۔ اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں انہوں نے کچھ بلنڈرز بھی یقینا کئے۔ لیکن مجموعی طور پہ ان کی حکومت نے پاکستان کے طویل المیعاد مفادات کے لئے بے پناہ کام کیا۔ بھٹو پاکستانی سیاست کا واقعی ایک زندہ کردار ہے۔ وہ چالیس سال گزر جانے کے باوجود غریبوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ کیونکہ اس نے غریبوں کو عزت نفس دی۔ زندگی کا پیغام دیا۔ لیکن آج کی دنیا کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ آج خود ان کی پارٹی وہ نہیں رہی جو اس کا بنیادی نظریہ تھا۔ آج پارٹی پر چند مفاد پرستوں کا ٹولہ قابض ہے۔ جو بھٹو خاندان کی قربانیوں کا پھل کھا رہا ہے۔ اسی لئے میں کہتا ہوتا ہوں کہ اب بھٹو کو مر جانا چاہیئے۔ کیونکہ اب اسے مارنے والے جرنیل نہیں اس کی اپنی پارٹی کا لبادہ اوڑھے ہوئے لوگ ہیں۔ اب انہیں ووٹ بھٹو کے نام پر نہیں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ملنے چاہیئں۔