کوئل شہر کی کتھا
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 05 / اپریل / 2017
- 7227
تین برس قبل یا کچھ اس سے زیادہ پہلے ، حسن مجتبیٰ نے اپنی نظموں کا مسودہ مجھے بذریعہ ای میل بھجوایا تھا ، جو میرے عمر رسیدہ کمپیوٹر کے لیے بارِ گراں ثابت ہوا اور اُس کی ہارڈ ڈسک میں لاپتہ ہو گیا ۔ یہ ہم لاپتہ لوگوں کا المیہ ہے کہ ہم لا پتہ تو ہیں ہی مگر ساتھ ہی ہمارے باہمی رشتے ناتے بھی لا پتہ ہیں ۔ ہمارا قومی تشخص بھی لاپتہ ہے اور ہمارا فکری ورثہ جو وفات پا چکا ہے ، ہمارے کندھوں پر لاش کے تابوت کی طرح سجا ہے جسے اُٹھائے ہم ملکوں ملکوں اُس کی نمائش منعقد کرتے پھر رہے ہیں ۔
میرے اور حسن مجتبیٰ کے درمیان لا مقامیت کا رشتہ ہے جو لا مکانیت کی بھول بھلیوں میں گم کردہ راہ ہے اور ہم دونوں لا پتہ ہیں ۔ چانچہ میں تین برس سے اس انتظار میں تھا کہ " کوئل شہر کی کتھا" میں اپنا پتہ پاؤں لیکن کوششوں کے باوجود کتاب بہم نہ ہو سکی ۔ چنانچہ اس بار ہمارے ایڈیٹر سید مجاہد علی پاکستان جانے لگے تو میں اُن سے درخواست کی کہ وہ حسن مجتبیٰ کی کتاب ، جسے وہ پچھلی بار ڈھونڈ نہیں پائے ، اس بار کتابوں کے سارے سمندر کھنگال کر نکال لائیں ، سو بالآخر کتاب آ ہی گئی ، جس میں ہم گم شدہ لوگوں کا تذکرہ ہے مگر ہمارا پتہ نہیں لکھا ۔ مجھے اس صورتِ حال پر اپنا ایک شعر چسپاں کرنے میں کوئی مضائقہ نظر نہیں آتا :
نہ کوئی مُلک ، نہ فرقہ ، نہ کوئی قومیت
مجھ مسافر کا وطن قریہ ء رُسوائی ہے
اور میں اسی قریے میں حسن مجتبیٰ کو " کوئل شہر کی کتھا " کی نظموں میں تلاش کر رہا ہوں ۔ اس کتاب کی پہلی نظم ایلن گنز برگ کے نام ہے ۔ ایلن گنز برگ جس کی داڑھی کی مماثلت حسن مجتبیٰ کی داڑھی سے ہے، اپنی نظم سقوطِ امریکہ ( فال آف امریکہ) کی وجہ سے میرا چہیتا ہے لیکن میں ذرا غور سے ان داڑھیوں کو دیکھوں تو مجھے ان پر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر سپر امپوز ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔ سو میں گھبرا کر آنکھیں بند کر لیتا ہوں مگر یہ تصویریں میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں ۔
امریکہ دنیا کی سب سے بڑی ڈاکو معیشت ہے جہاں بل گیٹس جیسے درویش بھی ہیں اور بُش خاندان کے قارون صفت لوگ بھی جن کا اصل پیشہ بزنس ہے اور وہ اپنے سیاسی بزنس میں بن لادن فیمیلی کی سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں اور تیسری دنیا کو دہشت گردی بھی ایکسپورٹ کرتے ہیں ۔ مگر ایلن گنز برگ اپنی شاعری میں اُس مفلسی ، ناداری اور غربت کا نمائندہ ہے جس کے شہکار پاکستان کی سڑکوں اور جے جے کالونیوں ( جھگی جھونپڑی کالونی) میں جا بجا فٹ پتھ پر آویزاں نظر آتے ہیں ۔ حال ہی میں ہونے والی مردم شماری کے دوران فُٹ پاتھ مکینوں کی ایک خاصی بڑی تعداد کو رجسٹر کیا گیا ، جسے انیس سو سنتالیس سے اب تک ملک میں بسایا ہی نہیں جا سکا ۔ ان کا مہاجر کیمپ آج ستر برس بعد بھی آباد ہے ۔
حسن مجتبیٰ کی نظمیں ان خانماں خرابوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم اور بے انصافیوں کی لفظی تصویریں ہیں جنہیں پڑھ کر شاعر کے احساسِ دردمندی ، انسان دوستی اور وطن پرستی کے خدو خال نمایاں طور پر ابھرنے لگتے ہیں ۔
کوزے میں دریا بند کرنے کا شعبدہ آزماؤں تو کہوں کہ حسن مجتبیٰ اردو شاعری کا ایلن گنزبرگ ہے اور اُس کی نظمیں پاکستان پر ایک دستاویزی فلم کا مینو سکرپٹ ہیں جس میں حسن مجتبیٰ کا رواں تبصرہ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کا احاطہ کرتا ہے ۔ حسن مجتبیٰ کا چہرا اُس کی شاعری کے آئینے میں کسی سندھی کا چہرا نہیں بلکہ ما قبلِ تقسیم کے ہندوستانی مسلمان کا چہرا ہے، جس کے وطن کی شہری امرتا پریتم بھی ہیں اور صوفی سرمد شہید بھی۔ اور اُس نے امرتا پریتم کے گھر کے بیچے جانے پر ایک نظم پنجابی میں کہی ہے اور نظم کے درد میں ڈوبے لہجے نے مجھے بھی فروخت کردیا ہے کیونکہ حوض خاص میں واقع امرتا کے گھر سے میری ان گنت یادیں وابستہ ہیں۔ جس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر میں نے امرتا پریتم کی کتاب " کاغذاور کینوس" کو اردو میں متقل کیا تھا ۔
کتاب کی نظمیں چُغلی کھاتی ہیں کہ حسن مجتبیٰ صوفی روایت کا داستان سرا ہے جس نے نظمیں نہیں کہیں دھمال ڈالی ہے ۔ یہ دھمال نظارہ کریں:
تمہار رقصِ درویشان
میرے اندر بھی جاری ہے
کئی دن اور زمانے سے
تمہارے عشق کے آتش کدے میں
آگ روشن ہے
الاؤ ہے محبت کا
جلاؤ جس قدر چاہو
کہ پروانہ کوئی بھی ہو
اسی نارِ گلستاں میں
جھلس کر خاک ہو جائے
گریباں چاک ہو جائے
سو میں یہ نظمیں پڑھتے ہوئے ، حسن مجتبیٰ کے ساتھ آتش کدہ ء عشق کا ایندھن بنا ہوا ہوں ۔ ( یارا چس آگئی اے )
یہ کتاب سمندر پار پاکستان کی اردو پنجابی نظموں کے علاوہ دو انگریزی تراجم پر مشتمل ایک گیسٹالٹ ہے ۔ اس میں حسن مجتبیٰ نے اپنے ذوق اور صوابدید کے مطابق اردو بیانیے کو جگہ ، وقت اور حالات کے مطابق نئی جہت دی ہے ۔ اپنی من مرضی کی جہت اور یہ ایک ایسا اسلوب ہے جو بیک وقت ردِ شاعری بھی ہے اور شاعری بھی ۔
" کوئل شہر کی کتھا " کی نظمیں ایک بہت ہی منفرد اور نویکلی تحریریں ہیں جو حسن مجتبیٰ کی شخصیت کی طرح تہ در تہ ہیں اور ان گنت معانی کے افسوں میں لپٹی ہیں ، جن میں ساری ہم عصر ترقی پسند اور درویش آوازیں یک جا ہو گئی ہیں ۔ یہ ہے کوئل شہر کی کتھا جس کے بیشتر مناظر میں نے آنکھوں دیکھے ہیں :
وہ شہر بلاتا ہے مجھ کو
جس شہر کے باغوں میں کوئل
جو میرے یاروں جیسی تھی
یا تیرے پیاروں جیسی تھی
کبھی گاتی تھی
چھپ جاتی تھی
وہ میرے گیتوں جیسی تھی
اور میرے میتوں جیسی تھی
جس شہر میں ساون آتے تھے
جس شہر میں جھولے پڑتے تھے
جس شہر میں سکھیاں گاتی تھیں
وہ شہر بلاتا ہے مجھ کو
اس کتاب میں ایک نظم ظفریاب احمد کے نام ہے ۔ وہ کھلنڈرا اور شریر لڑکا میرا محلے دار تھا اور جب میں اس کے ماموں عباس سے ملنے جاتا تو وہ میرے آڑے آتا اور مجھے آڑے ہاتھوں لیتا ۔ ارے وہ بھی کوئل شہر کی کتھا ہی میں مُکت ہوا کیا ؟ اب اس نوحے کے بعد میرے لیے پڑھنے کو رہ ہی کیا گیا ہے حسن مجتبیٰ!
کوئل شہر کی کتھا تو مر گئی اور میں نوحہ بھی نہ لکھ سکا ۔ جس آدمی کا کوئی وطن نہ ہو اس کے ساتھ کچھ ایسی انہونی بیت جاتی ہے جسے سمجھنا مشکل ہوتا ہے ۔ مگر یہ اس کی مراعات میں سے ایک ہیں کہ دنیا کے سارے ملک اُس کا وطن ہوتے ہیں ، ہم سمندر پار پاکستانیوں کی طرح ۔ اس لئے کہ ہم کبھی حب الوطنی کا لائسنس حاصل نہیں کر سکتے ، وہ لائسنس جو ایسٹیبلشمنٹ جاری کرتی ہے ۔ وہ لائسنس جو نہ میرے پاس ہے نہ حسن مجتبیٰ کے پاس۔ سو اپنی اپنی نظموں میں رہو !
ہم تو زندہ رہے
اور محبت بھی کی
اور مر بھی گئے
تشنگی رہ گئی
لاکھ کچھ بھی کہو
رہ گئی ، رہ گئی،
تشنگی رہ گئی
تشنگی رہ گئی
اور یہی تشنگی تو زندگی ہے حسن مجتبیٰ ! لو میں نے تمہاری نظمیں پڑھ لی ہیں اور بہت خوش ہوں ۔