مقامی حکومتیں اور اختیارات کی جنگ
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 06 / اپریل / 2017
- 6984
پاکستان کے سیاسی نظام میں مرکز، صوبوں اور اضلاع کی سطح پر اختیارات کی جنگ ہمیشہ سے بنیادی مسئلہ کے طور پر رہی ہے ۔ یہ مسئلہ محض سیاسی سطح پر نہیں بلکہ انتظامی معاملات میں بھی اختیارات کی تقسیم نے پیچیدگیاں پیدا کی ہیں ۔ جو ریاست یا حکومت کا نظام اپنے قانونی اور سیاسی دائرہ کار میں رہ کر کام کرتا ہے وہاں اختیارات کی تقسیم کے مسائل زیادہ شدت سے نظر نہیں آتے ۔ لیکن پاکستان جیسی ریاستوں میں موجود مسائل میں اداروں کے درمیان ٹکراؤ عام بات ہے۔ وسائل کی تقسیم کے سوال پر باہمی تناؤ، غلط فہمیاں اور بداعتمادی کی فضا قائم رہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا حکمرانی کا نظام لوگوں کی توقعات اور خواہشات کے برعکس کام کرتا ہے اور نتائج بھی عوامی خواہشات کے برعکس ہوتے ہیں ۔
پاکستان میں 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد خیال تھا کہ مرکز سے صوبوں اور صوبوں سے اضلاع کی طرف اختیارات کی تقسیم کا کوئی مناسب نظام زیادہ موثر انداز میں وضع ہوسکے گا۔ اور اس طرح بہتر حکمرانی کے نظام کو طاقت فراہم کرے گا ۔ 1973کے آئین کی شق140-A کے تحت تمام صوبائی حکومتیں پابند ہیں کہ وہ صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد کے بعد ان مقامی اداروں کو سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات دے کر خود مختار بنائیں گی۔ لیکن یہاں آئین کی بالادستی تو محض سیاسی حکمرانوں کے لیے ایک سیاسی کھلونا یا سیاسی ہتھیار ہے جسے وہ اپنی ضرورت کے تحت استعمال کرتے ہیں ۔ پاکستان میں چاروں صوبوں کے علاوہ اسلام آباد اور کنٹونمنٹ بورڈ ز کے انتخابات کے بعد مقامی حکومتوں کا نظام عملی طور پر شروع ہوچکا ہے ۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ ان اداروں کی تشکیل سیاسی حکومتوں کی خواہش سے زیادہ سپریم کورٹ کے فیصلہ اور دباؤ کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی۔ اگر سپریم کورٹ ان ادارو ں کی تشکیل میں مداخلت نہ کرتی تو ابھی بھی ان اداروں کے انتخابات کا عمل ممکن نہ ہوتا۔ لیکن سیاسی حکومتوں نے دباؤ میں آکر مقامی انتخابات کے بعد اداروں کی تشکیل تو کردی ، لیکن ان مقامی حکومتوں کے نظام کو سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں ۔ اگرچہ تمام صوبائی حکومتیں دعوے تو کرتی ہیں کہ ہم نے مقامی حکومتوں کو یقینی بنادیا ہے ، لیکن مسئلہ اداروں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ ان اداروں کو بااختیار بنانا بھی تھا ۔
اس وقت چاروں صوبوں میں قائم مقامی حکومتوں سے وابستہ ناظمین، نائب ناظمین، چیرمین ، وائس چیرمین ، کونسلرز سب ہی کمزور مقامی حکومتوں کے نظام میں خود کو بے بس تصور کرتے ہیں ۔ کچھ مقامی منتخب افراد جو خاص طور پر حکومت میں ہیں وہ بھی صوبائی حکومتوں یا اپنی سیاسی جماعتوں کے دوہرے معیار پر شدید تحفظات رکھتے ہیں ۔ کیونکہ یہ نظام جماعتی بنیادوں پر قائم ہوا ہے ، اس لیے صوبہ میں جس جماعت کی بھی صوبائی حکومت ہے وہ ان اداروں میں اپنے مخالف کوئی بات حکمران جماعت کے نمائندوں سے سننے کو تیار نہیں ۔ لیکن حکومتی ارکان دبے لفظوں میں اپنی بے بسی اور لاچارگی کا اظہار مختلف طریقوں سے کررہے ہیں ۔ سندھ میں پیپلز پارٹی ، خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف اور پنجاب و بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومتیں عملی طور پر مقامی اختیارات پرخود قابض ہیں ۔ خیبر پختونخواہ میں جو مقامی نظام ہے اس میں کسی حد تک مقامی لوگوں کو بااختیار بنایا گیا ہے ، لیکن عملی طور پر وہاں بھی صوبائی حکومت اختیارات کی تقسیم میں سنجیدہ نہیں ۔
سندھ کے بڑے شہر کراچی میں منتخب مئیر وسیم اختر کے بقول مجھ پر کراچی کی گندگی کے ڈھیروں کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن اگر اداروں کی خود مختاری اور اختیارات پر صوبائی حکومت قابض ہوجائے تو کراچی کی شہری حکومت کیا کرسکتی ہے ۔عمران خان بھی جب خیبر پختونخواہ میں کوئی بڑی عوامی تقریب کرتے ہیں تو ان کو سب سے زیادہ شکایات اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے مقامی نمائندوں کی جانب سے سننے کو ملتی ہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس بلوچستان کے مقامی اداروں پر تو محض ماتم ہی کیا جاسکتا ہے ۔ پنجاب میں بھی جو حکمرانی کا نظام ہے وہ عدم مرکزیت پر قائم ہے اور بالخصوص مقامی حکومتوں کے مقابلے میں بیس سے زیادہ مختلف اتھارٹیوں کے قیام سے صوبائی حکومت نے مقامی اختیارات کو خود تک محدود کرلیا ہے ۔ اتھارٹیوں کا قیام بنیادی طور پر مقامی حکومتوں کے نظام میں مداخلت اور ایک متبادل نظام ہے جو عملا صوبائی اور مقامی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم میں ٹکراؤ پیدا کررہا ہے ۔
ایک مسئلہ عوام کے منتخب مقامی نمائندوں کے مقابلے میں بیوروکریسی یا انتظامی اداروں کو سیاسی نمائندوں یا اداروں کے مقابلے میں زیادہ بااختیار بنانا ہے ۔ مجموعی طور پر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ سیاسی نظام یا مقامی جمہوری نظام کے مقابلے میں بیوروکریسی یا انتظامی اداروں کو طاقت وربنا کر جمہوری عمل کو کمزور کیا جارہا ہے ۔ اول دن سے ہی بیوروکریسی اس نظام میں اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتی ہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہے ۔ پنجاب میں تو مقامی حکومت سے وابستہ منتخب افراد تو کجا صوبائی اسمبلی کے ارکان ، صوبائی وزرا اور مشیر بھی اختیارات کی عدم موجودگی پر تحفظات رکھتے ہیں ۔ کیونکہ پنجاب کے وزیراعلی تو کسی بھی طور پر اختیارات کو تقسیم کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ بلکہ انہوں نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر صوبائی وزراتوں میں بھی ایسی تقسیم پیدا کردی ہے ، جو مزید مسائل کو جنم دے رہی ہے۔
2018 کے انتخابات کے تناظر میں اب صوبائی حکومتوں کی ساری توجہ انتخابات میں اپنی برتری پر ہوگی ۔ اس برتری کے حصول کے لیے مقامی حکومتوں کے نظام کا سب سے زیادہ استحصال دیکھنے کو ملے گا ۔ وسائل مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کے مقابلے میں ممکنہ ایم این اے اور ایم پی اے کے امیدواروں اور ارکان اسمبلی میں تقسیم کرکے مقامی حکومتوں کے بجٹ پر مالی ڈکیتی کا سماں پیدا کیا جارہا ہے۔ نالیاں ، سڑکیں اور دیگر بنیادی نوعیت کے ترقیاتی مسائل کا تعلق مقامی حکومتوں کے نظام سے ہے۔ لیکن صوبائی اور مرکزی ارکان میں ترقیاتی فنڈز کی تقسیم سے ان اداروں کو مزید کمزور اور بے اختیار کیا جائے گا۔ اب منتخب چیرمین اور وائس چیرمین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس زیادتی کے خلاف کیسے اپنی ہی جماعت کے خلاف اظہار کریں ۔
وسائل کی تقسیم میں صوبائی سطح سے ہی ہمیں غیر منصفانہ عمل غالب نظر آتا ہے ۔ صوبائی وزرائے اعلی اپنی سیاسی مصلحتوں اور ضرورتوں کے تحت ان علاقوں کی ترقی پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں جو ان کو انتخابی سیاست میں فائدہ دے سکے ۔ جب وزیر اعلی خود ہی مقامی نظام کو نظرانداز کرکے وسائل پر قابض ہوکر مقامی مسائل کے حل کا بیڑا اپنے کندھوں پر اٹھالے تو پھر یہ نظام کیسے کامیابی سے چل سکے گا۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی نظام تنیوں ہی مقامی ترقی کو بنیاد بنا کر ترقیاتی فنڈ کے حصول کی جنگ میں شریک ہیں ۔ یہ عمل ٹکراؤ، بداعتمادی اور اداروں میں انتشار کو جنم دے گا ۔ چیرمین یا ناظمین تو کجا خود مرد اور خواتین کونسلر کے پاس کیا اختیار ہیں، وہ بھی ایک درد ناک کہانی ہے۔ یعنی صوبائی حکومتوں نے تالے تو تو ان منتخب لوگوں کو دے دیے ہیں ، لیکن چابی اپنے ہی ہاتھ میں رکھی ہے ۔
ہماری سیاسی اور جمہوری قیادت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس ملک میں حکمرانی کے کمزور نظام کی وجہ ہی مضبوط مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف ہے ۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے نعرے تو بہت لگاتی ہیں، لیکن عملی طورپر ان کا سیاسی ریکارڈ خود ہی جمہوری اور قانونی اصولوں کے برعکس ہے ۔ ان مقامی حکومتوں کے نظام کو جمہوریت کی بنیادی نرسری کہا جاتا ہے تو ان ہی بنیادی نرسریوں کو نظرانداز کرکے جمہوریت کی بڑی جنگ جیتنا بھی ایک خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اس لیے یہ جنگ تین سطحوں پر لڑی جانی چاہیے ۔ اول مقامی حکومتوں سے وابستہ منتخب افراد پارٹی پالیسی کے فریم ورک میں رہ کر اپنے سیاسی ، انتظامی اورمالی حقوق پر آواز اٹھائیں اور خاموشی کو توڑیں ۔ دوئم سیاسی جماعتوں اور اہل دانش سمیت سول سوسائٹی کے وہ لوگ جو مضبوط مقامی نظام کے حامی ہیں ان کو اپنی اپنی سیاسی قیادت اور بیوروکریسی پر دباو ڈالنا ہوگا کہ وہ صوبوں سے اضلاع میں مقامی اختیارات تقسیم کریں ۔ سوئم میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پر یہ بحث پھیلائی جانی چاہئے کہ مقامی حکومتوں کو خود مختار ، موثر اور اختیارات دے کر ہی ملک میں جمہوریت ، قانون کی حکمرانی اور طرز حکمرانی کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔