ترکی ایک اہم موڑ پر۔۔۔۔

مصطفی کمال کی زندگی کسی منجدھار سے کم نہ تھی ۔ ان کی والدہ کی آرزو تھی کہ وہ مدرسے کی تعلیم حاصل کریں چنانچہ دھوم دھام سے ان کی رسمِ مکتب منائی گئی اور انہیں مدرسے میں داخل کر دیا گیا۔ مگر چند دن ہی مدرسے کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے والد کی حمایت سے ایک جدید طرز کے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔ بدقسمتی سے 7 سال کی عمر میں والد کے انتقال کے بعد انہیں اپنے ماموں کے پاس رہنا پڑا اور یوں دو سال تک ان کی تعلیم التوا  کا شکاررہی پھر ان کی ایک چچی نے انہیں اپنے زیرِ عاطفت میں لے لیا اور وہ سلونکیی کے ایک اسکول میں جانے لگے اور ساتھ ساتھ چچا کی مویشیوں کو بھی چرانے لگے۔ یہاں بھی ان کی بدقسمتی آڑے آئی ایک ماسٹر نے ان کی بے تحاشہ پٹائی کی اور وہ اپنی پیٹھ پر لگے خون آلود نشانات دیکھ کر ایک بار پھر اسکول سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

12 سال کی عمر میں انہوں نے چپ چاپ بغیر کسی کو بتائے ہوئے فوجی مڈل اسکول میں داخلے کا امتحان دیا ۔ امتحان پاس تو کر گئے مگر ماں کی مخالفت آڑے آئی لیکن مصطفی جو ابھی کمال نہیں بنے تھے، انہوں نے اپنی ضد کے آگے ماں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا اور اسکول میں داخلہ لے لیا۔ 1895 میں جب وہ اسکول سے پاس ہو کر فارغ ہوئے تو چار بہترین طلباء میں ان کا نام مصطفی کے ساتھ کمال کے لاحقے کے ساتھ تھا۔ جو ان کے حساب کے ماسٹر نے ان کی حساب کے مضمون پر گرفت پر  انہیں عطا کیا تھا۔ یہ تو تھی ان کی ابتدائی زندگی۔ کسے معلوم تھا کہ یہ نوجوان جواپنے بچپن کی صعوبتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی بجائے ان سے لڑ بھڑ کر اپنی راہ ہموار کرنے کا ہنر سیکھ رہا تھا، ایک دن اتاترک کہلائے گا۔

جنوری 1915 میں کمال پاشا کی بار بار کی جانیوالی درخواست منظور ہوئی اور وہ 19 ویں ڈویثزن کی پانچویں آرمی کی گالیپولی نامی جزیرے پر بطور کمانڈو تعینات ہوئے۔ یہاں سے انہوں نے اتحادی قوتوں کے داردالینے پر قبضے کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ان کی یہ کامیابی ایک شاندار فوجی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے ساتھ ساتھ ونسٹن چرچل کے لارڈِ اول کی شکست کا شاخسانہ بھی بنی ۔ لیکن ان کے اس وقت کے فوجی افسر انور پاشا کے سامنے یہ پھر بھی کوئی اہم مقام حاصل کرنے سے قاصر رہے اور عین ممکن تھا کہ انہیں سبکدوشی یا کسی اور جگہ تعیناتی کا پیغام ملتا، ایک جرمن فوجی افسرلیمان فون سانڈرے کی سفارش پرانہیں بحال رکھا گیا۔1916 میں مصطفی کمال کو ایدیرنے میں متعین کیا گیا یہاں ان کے ذمہ انطالیہ کی مشرقی سرحد پر پہلے سے تعینات تیسری آرمی کی مدد کرنا تھا۔ گالیپولی کی کامیاب فوج کشی پر اس وقت انہیں تاخیر سے بطور جنرل ترقی دی گئی اور پاشا کا خطاب بھی ملا۔

1917 میں روسی انقلاب کی وجہ سے ترکی کی مشرقی سرحدی انتشار کی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انور پاشا کا خیال تھا کہ یہ مناسب موقع ہے کہ میثوپوٹامیہ اور مصر کی جانب ترک فوج پیش قدمی کرے۔ مصطفی کمال نے اس بات کی مخالفت کی۔ ان کا خیال تھا کہ انطالیہ کی سرحد اس عمل سے کمزور پڑسکتی ہے مصطفی کمال پاشا کے اس علی لاعلان مخالفت کی وجہ سے انہیں بیمار قرار دے کر جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔ 1917 کے اواخر اور 1918کے اوائل میں مصطفی کمال پاشا کو وحیدالدین نے، جو وارثِ تاج شہزادہ تھے، انہیں قیصرِ ولیم دوم کا فوجی اتاشی، اسپا، بلجیئم میں جرمن سرحد کے قریب مقرر کیا ۔ مصطفی کمال کے فوجی پلان کو وحیدالدین کئی بار کوشش کے باوجود عملی جامہ پہنانے میں مدد نہ کر سکے۔ تاہم جون 1918میں وحیدالدین نے سلطنتِ عثمانیہ کی باگ ڈور سنبھالی تو انہیں فلسطینی سرحد پر اہم عہدے پر تعینات کیا گیا۔  جولائی  1918میں انہیں کارلس باد، جرمنی گردے کے علاج کے لیے آنا پڑا جہاں ان کی ملاقات سلطنتِ عثمانیہ کے ایک اہم رکن اور ان کے پہلے سے مدد گار ساتھی جمال پاشا سے ہوئی۔

اکتوبر میں فلسطینی سرحد پر ناکامی کے بعد انور پاشا اور ان کے اہلکار ملک سے فرار ہوگئے اس سے قبل کہ ہم مصطفی کمال کی زندگی کے حالات کی روشنی میں ترکی۔ سلطنتِ عثمانیہ سے جدید جمہوریہ ترکی کی کہانی آگے بڑھائیں ہم آپ کو پیچھے لیے چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ کیا تھی اور اس کا یورپ میں کیا کردار تھا۔

خلافتِ عثمانیہ تقریباَ 1299سے لیکر 1922 تک قائم رہی۔ 14 ویں صدی میں یہ تب معرض وجود میں آئی جب بازنطینی سرحد کے قریب سلجوقیانِ روم کی سلطنت میں ایک صوبے نے، منگولی ایلخان کی سربراہی میں سلجوقی سلطنت سے آزادی حاصل کی اور ایک علیحدہ ریاست کی بنیاد ڈالی۔ جس کا پایہ تخت 1326کے بعد سے بصرہ بنا، 1368 کے بعد آدریانوپل میں اس کا دارلخلافہ منتقل ہوا اور پھر 1853 کے بعد اس کا دارلخلافہ سے قسطنطنیہ جسے  1876 سے استنبول کے نام سے جانا جا تا ہے، منتقل ہو گیا۔  اس خلافت کی سرحدیں شمال میں بحرِ احمر سے  مغرب میں جنوبی یورپ تک پھیلی ہوئیں تھیں۔  کئی صدیوں تک یہ سلطنت یورپ کی سیاسی، معاشی اور فوجی طاقت کی دعویدار رہی۔ اس کے مقابل یورپ کی دوسری سلطنتوں میں مقدس رومی سلطنت، فرانسیسی اور سلطنتِ برطانیہ اور روسی زار سلطنت قائم تھیں۔ 19 ویں صدی میں یورپ میں آزادی اور خود مختاری کے اٹھتے ہو ئے طوفان کے سامنے یکے بعد دیگرے جن پانچوں بادشاہت کو سرنگوں ہونا پڑا، ان میں سے ایک ترک سلطنت بھی تھی۔ اول تو سلطنت عثمانیہ کے ہاتھ سے یورپ جاتا رہا۔ پھر پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی جوکہ ترکی کا حواری تھا، کی شکست نے بھی ترکی میں توڑ پھوڑ مچادی۔

خلافتِ عثمانیہ نے 1876 میں ہی 23 دسمبر کو ایک قانونِ اساسی پیش کیا جوکہ اس سلطنت کا پہلا اور آخری تحریری آئین کہا جاتا ہے۔ جس کے تحت پہلی مرتبہ سلطان نے اپنی قوت کو محدود کرکے دو علیحدہ علیحدہ طریقے سے منتخب شوری یا اسمبلی کی بنیاد ڈالی۔ اس آئین کو 1878 میں سلطان عبدالحمید دوم نے معطل کر کے30 سال تک دوبارہ مطلق العنانی سے حکومت کی۔ 13 جون 1878 کو برلن معاہدہ بھی عمل میں آیا مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کی تاریخ بھی مرتب ہونے لگی۔ سلطنتِ عثمانیہ کی خلافت کے زوال کے ساتھ ہی دارالخلافہ بھی استنبول سے انقرہ منتقل ہو گیا۔ سن 1921 سے1923 کے دوران مصطفی کمال پاشا نے عظیم قومی اسمبلی جس کے وہ خود ہی بانی تھے، کی روایت ڈال کر عظیم جمہوریہ ترکی کی بنیاد رکھی ۔ 24 مئی 1924 کو جمہوریہ ترکی میں نیا  آئین نافذ کر دیا گیا۔

مصطفی کمال اور انور پاشا اگرچہ  خلافتِ عثمانیہ  سے نجات کے خواہشمند تو تھے مگر ان کے راستے جدا جدا تھے اور طریقہ کار بھی۔ وزیرِ اعظم طلعت پاشا جو کہ وزیرِ داخلہ بھی تھے کے ساتھ انور پاشا پر ایک بڑا الزام ، آرمینی قوم کی ، جنگِ عظیم اول کے دوران نسل کشی میں شامل ہونا بھی تھا۔  ترکی نے آرمینی قوم کی نسل کشی کا یہ الزام کبھی قبول نہیں کیا۔ مگر موجودہ دور کے تمام تاریخ داں اس بات پر متفق ہیں کہ یہ نسل کشی  ترکی کی خلافتِ عثمانیہ پر ایک بد نما دھبہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ بدلتے حالات اور سلطنت کی کمزور ہوتی گرفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرمینی سیاست دانوں نے، غیر ملکی بالخصوص روسی حکومت کا ساتھ دیا ہو۔ اندرونی خلفشار بھی بپا ہوا ہوگا۔ مگر یہ تمام باتیں عام بے قصور شہریوں کی ایسی نسل کشی جس میں 3 لاکھ سے لیکر 15 لاکھ افراد تک کی ہلاکت ہوئی ہو ، کا کوئی جواز نہیں  ہو سکتا۔  نہ ہی اسے بھلایا جا سکتا ہے۔

انور پاشا کی غلط فوجی پالیسیسوں کی وجہ سے پے درپے ناکامیوں نے ترکی کی سلطنت کو بہت نقصان پہنچایا اور ترکی کو بالآخر جنگ عظیم اول میں شکست کا سامنا کر نا پڑا۔  سلطان محمود چہارم کی تاجپوشی کے ساتھ ہی انور پاشا کی بلندیوں کا چمکتا ستارہ ڈوبنے لگا۔ خاص کر فلسطین کی سرحد پر ناکامی اور حزیمت نے انہیں ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس مشکل گھڑی میں ایک جرمن بحریہ کی آبدوز کشتی نے انہیں پناہ دینے کی غرض سے سوار کر لیا اور جرمنی پہنچا دیا۔ انور پاشا اپنے ساتھی طلعت پاشا کے ساتھ پوٹسڈم نامی، برلن کے قریب واقع ایک شہر میں پناہگزین ہوگئے۔ جہاں وہ نیو بابلسبرگ نامی علاقے میں روپوش رہے۔ انہیں فریڈریش سارے ، ایک میوزم ڈائیریکٹر نے اپنے گھر میں چھپائے رکھا۔

انور پاشا کی کہانی کو یہاں نامکمل چھوڑتا ہوں اور ان کے پین ترکی مشن، فو جی گٹھ جوڑ اور دوسری داستانیں آئندہ پھر کبھی لکھوں گا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس دوران ان کے ہمعصر مصطفی کیا کر رہے تھے۔
جب مصطفی کمال کو جنرل انسپیکٹر بنایا گیا تو انہیں نے زمسون نامی بحرِ احمر کے علاقے میں یونانی گوریلوں کے خلاف ، گوریلا جنگ کر نے کی پلاننگ کی۔ ان کی مدد کے لئے مشرقی انطالیہ میں لگی نویں ڈویژن فوج کو ان کی ماتحتی میں دے دی گئی۔ ابھی وہ زمسون کے لیے روانہ بھی نہ ہوئے تھے کہ ازمیر میں اتحادی قوتوں کی ایما پر یونانی فوجیوں نے یلغارکردی۔ اس وجہ سے انہوں اپنافیصلہ  بدل ڈالا اورارادہ کیا کہ وہ وہیں رہ کر یونانی گوریلا یلغار اور اتحادی قوتوں کو اپنی گوریلا جنگ کو جاری رکھتے ہوئے منہ توڑ جواب دیں۔ انہوں نے بار بار استنبول تار بھیج کر اپنی زمسون کی تعیناتی کو ملتوی کروانے کی بے سود کوشش کی۔ اور آخر کار فوج کی وردی اتار کر اریزوروم اور سہیواز میں کانگریسی اور پھر 1920 میں انقرہ میں قومی اسمبلی کی بنیاد ڈالی۔ یہیں سے انہیں بطور حکمراں ، ترک سلطان کے خلاف قائم ایک متوازی حکومت کا سربراہ تسلیم کیا جانے لگا۔ جو کہ اتحادی قوتوں کے خلاف محاذ آرائی پر کمر بستہ رہی۔ مصطفی کمال کی اس جراتء رندانہ پر انہیں سلطان اور دیگر اہم ہمرکابِ سلطان کی مخالفت کا تو سامنا کر نا ہی پڑا، ساتھ ہی شیخ السلام استنبول نے ان کے خلاف قتل کا فتوی جاری کر دیا۔ دوسری جانب فوج نے ان کی عدم موجودگی میں ان کا کورٹ مارشل کرکے ان کی سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا۔

جنگِ عظیم اول کے خاتمے پر ترکی کی استنبولی حکومت نے 10 اگست  1920 کو ایک معاہدے پر دستخط کئے جس کے تحت نہ صرف یہ کہ ترکی اپنے وسیع علاقوں جیسے حجاز، آرمینا، میسو پوٹامیا وغیرہ سے دستبردار ہوگیا بلکہ اسے اتحادی قوتوں برطانیہ، فرانس، روس، یونان اور اٹلی کے تسلط کو اپنے باقی ماندہ علاقوں پرتسلیم بھی کر نا پڑا۔ اسی معاہدے کی شق۶۲ کے تحت کردستان کی خود مختار ریاست ماننا اور اس کو شق 62 کے تحت رفتہ رفتہ ایک آزاد مملکت تسلیم کیا جانا بھی مقصود تھا۔ انقرہ کی قومی اسمبلی نے اس معاہدے کو تسلیم کر نے سے انکار کر دیا اور اس پر دستخط کر نے والوں کو ترک قوم کا غدار قرار دیکر اعلانِ جنگ کر دیا۔ 1921کے جنوری اور مارچ کے مہینوں میں آزادئ ترکی کے تحت عصمت انونو کی سربراہی میں مغربی سرحد پہ لڑی جانیوالی جنگ، جو یونانیوں کے خلاف تھی، میں دو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ان کامیابیوں کی منصوبہ بندی کا سہرا بھی مصطفی کمال کے سر بندھا۔ جس کے بعد ہی مصطفی کمال کو قومی اسمبلی کی جانب سے فوج کا سربراہ مان لیاگیا۔ اور اگست  1921 میں ان کی قیادت میں تر ک فوجوں نے مزید کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن ابھی مشکلات کے دن  ٹلے نہیں تھے۔ کمال پاشا نے 26 اگست 1922 کو ایک اچانک حملے میں یونانی فوجوں کو حتمی طور پر سرزمینِ ترکی سے نکال باہر کیا۔ بعد میں ایک معاہدے کے تحت ترک اور یونانی شہریوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

سلطنت عثمانیہ کے سلطان محمود چہارم کے قدم اکھڑ چکے تھے۔ ان کے اتحادی قوتوں کے ساتھ مراسم بھی ناکام ہو چکے تھے، چونکہ ان سے کیے گئے معاہدوں کو ترک قوم نے کمال پاشا کی سربراہی میں نامنظور قرار دے دیا تھا۔ چنانچہ 29 اکتوبر 1923 کو نئے آئین کے لاگو ہونے پر ترکیہ جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا اور مصطفی کمال پاشا ترکی کے صدرمنتخب ہو گئے۔  اتا ترک مصطفی کمال پاشا کے دیئے گئے بنیادی اصولوں میں کمال ازم، لائسسزم، حکومت اور مذاہب کے جداگانہ مقام کے تعین میں پوشیدہ ہے۔ اور ان کے یہ اصول ترکی کو جدید ترین ملک بنانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوئے۔ ان میں جمہوری طرزِحکومت، عوامی قوت، یکجہتی من حیث القوم ایک اہم ستون ہے۔ سلطنت عثمانیہ ،خلافت، خلیفہ کی سربراہی اور اس کی موجودگی کے مذہبی جواز کو یکسر ختم کر دیا گیا۔ مصطفی کمال نے خلیفہ کو جلاوطنی پر مجبور کیا۔ عثمانیہ خاندان کو ترکی سے باہر نکال دیا گیا۔  خانقاہوں کو بند کر دیا گیا۔ مذہبی عدالتوں کو معطل کر دیا گیا۔ مدرسوں کو ممنوع قرار دے دیا گیا اور پہلی جماعت سے لازمی تعلیم کا قانون نافذ کیا گیا۔ تما م ججوں کو فارغ کر دیا گیا۔

مصطفی کمال نے اپنی ڈائری کے ورق پر لکھے درج زیل عزم کو پورا کر دکھایا کہ:
’’اگر مجھے موقع ملے یا پھر میرے پاس اتنی قوت ہو تو میں اس بات کو سب سے بہتر سمجھوں گا کہ میں اپنے معاشرے کو یک دم، فوری طور پر اور نہایت مختصر مدت میں بدل کر رکھ دوں۔ اور لوگوں کی طرح میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ غیر تعلیم یافتہ افراد کو آہستہ آہستہ علم سے مرصع کرنے کے بعد ایسی کوئی تبدیلی لائی جاسکتی ہے تاکہ قوم کوئی اونچا مقام حاصل کر سکے ۔ آخر کس وجہ سے میں عام غیر تعلیم یافتہ لوگوں کے مقام پر خود کو لا کھڑا کروں جبکہ میں نے ساری زندگی علم حاصل کیا ہے۔ انسانوں کے ارتقا کی، معاشی ترقی کی تعلیم اور اس وجہ سے زندگی کے ہر موڑ پر میں نے سکون صرف آزاد ہونے کی صورت میں ہی محسوس کیا ہے۔ میں اس بات کو ممکن بناؤں گا کہ وہ غیر تعلیم یافتہ اس مقام پر آجائیں جہاں میں ہوں نہ کہ میں جہالت کے نیچے مقام پر جھک جاؤں ‘‘ ۔

آج کا جدید ترکی جس میں عوام کو بنیادی طبی سہولیات مہیا ہیں، ہر ہزار شہری پر ۱یک اعشاریہ 23 ڈاکٹرز مقرر ہیں۔ اوسط عمر مردوں کی 70 سال اور عورتوں کی 75 سال ہے۔ انسانی آسائیش کے زمرے میں 188 ملکوں میں سے ترکی 72 سے نکل کر 16 ویں نمبر پر آ کھڑا ہوا ہے۔  دولت کی تقسیم کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ 39 اعشاریہ 4 فیصد عوام امیروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ترکی میں 98 اعشاریہ 7 فیصد بچے بنیادی لازمی تعلیم کے لیے اسکولوں میں تعلیم کی حصول کی غرض سے داخل کئے جاتے ہیں۔ اور ناخواندگی کا تناسب مردوں میں 2 اعشاریہ 21 اور عورتوں میں 19 عشاریہ 77 فیصد ہے۔ 33 فیصد زیرِتعلیم طلباء اسکول کی تعلیم کے بعد یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے ہیں۔  ترکی کی یہ تیز رفتار معاشی، معاشرتی، سماجی اور تعلیمی ترقی دراصل اتا ترک کے ان چند حرفی ڈائری کے ورق میں لکھے حروف کو عملی جامہ پہنانے کے عزم میں پوشیدہ ہے۔

اب جبکہ ترکی ان تمام ترقی کے مراحل سے آگے نکل کر ترقی کی شاہراہ پر چل پڑا ہے تو ترکی کو موجودہ حکومت نے اسے ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ترک قوم کو 16 اپریل کو فیصلہ کر نا ہے کہ آیا وہ ان جمہوری اور ترقی کے اصولوں کو سامنے رکھ کر آگے بڑھیں گے ، اپنے پارلیمانی نظام کو بحال رکھیں گے، یا وہ ایک ایسے صدارتی نظام  کو قبول کر نے کے لیے تیار ہیں جس کی بنیاد سلاطینِ ترک نے رکھی تھی۔