شام کے معصوم بچوں پر کیمیائی ہتھیار

سینے میں اگر دل دھڑک رہا ہے تو آپ ابھی زندہ ہیں مگر اس زندگی کو آپ پر اگر اجیرن کر دیا جائے یعنی آپ کی دھڑکنوں کو قید کرنے کی کوشش کی جائے۔ آپ کی سانسوں کو روکنے کی کوشش کی جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ بالکل بے اختیار ہوجائیں اور آپ کے پاس  اپنا دفاع  کرنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔ اس وقت شام مکے لوگ اور ان کے بچے ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہیں۔ کیا ایسے میں ہمارے لئے کیا یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ان کا مذہب کیا ہے یا ان کا فرقہ کیا ہے۔ ہمیں ان کی کھال کی رنگت معلوم کرنی چاہئے یا صرف ہمدردی کے لفظ بول کر اپنا فرض ادا کیا جا سکتا ہے۔

گھٹن زدہ آب و ہوا میں دم توڑتی سانسیں تو ان ہی معصوم بچوں نے لینی ہیں جو شام نامی ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا قصور کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ قدرت نے انہیں شام کی سرزمین پر پیدا کیا ہے۔ ملک شام اور اس کے باشندے معلوم نہیں کس کی انا کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ جو کوئی بھی ہے انتہائی درجے کی بے حسی میں مبتلا ہے اور ہلاکو اور چنگیز خان کی بدترین تاریخ کو دہرانے کہ درپے ہے۔ انڈیا نے کشمیر میں اپنے ظلم کےجھنڈے گاڑ رکھے ہیں اور اسرائیل نہتے فلسطینیوں پر جدید اسلحہ آزما رہا ہے۔ مگر اب شام میں سب سے زیادہ ظلم ہو رہا ہے۔  جہاں ظلم و بربریت کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ ظلم اور بربریت کی ایسی داستانیں کہ مورخ کا قلم بھی لکھتے ہوئے شرم سے پانی پانی ہوجائے گا۔  انسانیت کی ایسی توہین و تذلیل کبھی نہ سنی اورنہ دیکھی گئی تھی۔

واضح طور پر سمجھ آنے لگا ہے کہ انسانی زندگیوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی بلکہ انسانوں سے کہیں زیادہ اہمیت زمین پر پائے جانے والے جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کی ہوچکی ہے۔ اب اس بات کا تعین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ ان درندہ صفت لوگوں کو اقتدار پر قبضہ کرنا ہے یا پھر خالی زمین پر قبضہ چاہئے۔ آخر کب تک اتنی خاموشی سے معصوم بچوں کی سہمی بلکتی تصویریں دیکھتے رہیں گے اور بس ہاتھ  پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔ کھانے کا انتظام کردینا یا دوائیں مہیا کردینا یا پھر پینے کے لئے صاف پانی فراہم کردینا، ان لوگوں کے مسائل حل نہیں کرسکتے۔ ان کے گھر ٹوٹ چکے ہیں۔ یہ بے آب آسرا ہیں۔ اقوام متحدہ اور اقوام عالم کی بے حسی پر مبہوت بیٹھے ہیں۔ یہ دنیا کی خوشحال قوموں میں شمار کی جانے والی قوموں میں سے ایک ہے۔ ان کا سکون ان کا چین سب غارت ہوگیا ہے اور اس کی بنیادی وجہ  اقتدار ہے۔

آج میرا دل شام کے معصوم بچوں کی گھٹتی ہوئی سانسوں کو محسوس کر کے زاروقطار رور رہا ہے، بلک رہا ہے۔ میں اس مضمون کے ذریعے شام کے مظلوموں سے اظہارِ یکجہتی کرتا ہوں اور دنیا میں امن کی شمع جلانے والوں کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اپنا  کچھ کردار ادا کری ۔ اور ان معصوم بچوں کی داد رسی کریں۔ یہ معصوم تو ابھی ٹھیک طرح سے زندگی کو دیکھ بھی نہ پائے تھے کہ بے رحمی سے انہیں موت کے حوالے کردیا گیا۔