یہ تبادلے : تماشہ ہوا گِلہ نہ ہوا
- تحریر
- جمعہ 07 / اپریل / 2017
- 5187
اک تماشہ ہوا گِلہ نہ ہوا۔ تسلیم کہ حکومت سندھ کو اپنا آئی جی تبدیل کرنے اختیا ر ہے۔ قانون اور آئین میں اس کا طریقہ بھی طے ہے لیکن گزشتہ ہفتے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی تبدیلی ایک اچھا خاصہ تماشہ بن گئی۔ حکومتِ سندھ کے لیے بھی اور ان کے لیے بھی۔ تبدیلی کی اس خبر کے بال کی یار لوگوں نے کیا کیا کھال نہ اتاری۔ حکومت سندھ کے ساتھ ان کے تعلقات اور تحفظات کا ایک ایک پیچ و خم مستعد میڈیا نے لوگوں کے سامنے رکھ دیا۔
انہوں نے ترقیوں اور بھرتیوں کے لیے میرٹ اپنانے کا ایک طریقہ کار وضع کیا جو حکومت کو نہ بھایا۔ ایک ناپسندیدہ چھاپے کا ذکر بھی خوب رہا اور حکومت کے احکامات کی اس انداز میں تعمیل نہ ہونے کا شہرہ بھی رہا جس کی ان سے توقع تھی۔ آنے والے الیکشن کے لیے میدان صاف کرنے کے لیے ‘اپنا‘ افسر لگانے کے لیے سیاسی دباؤ کا ذکر بھی بار بارہوا ۔ ایک شام تویہی غلغلہ رہا کہ خواجہ صاحب گئے اور قائم مقام آئی جی کے طور پر سردار عبدالمجید آئے۔ اہل شہر تماشے کے رسیا اور میڈیا تماشہ دکھانے میں یکتا، اس شام اچھا خاصا تماشہ لگ گیا۔ میرزا غالب اس تماشے پر بہت یاد آئے:
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا گِلہ نہ ہوا
اگلے روز اس تماشے میں نیا موڑ آگیا۔ اعلیٰ عدالت نے تبادلے کے احکامات معطل کر دیئے اور اے ڈی خواجہ کو بدستور اپنے عہدے پرکام کرنے کا حکم دیا۔ اس پر حکومت سندھ نے اپیل کا اپنا حق استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا کہ حکومتی رِٹ کا سوال ہے۔ کابینہ نے اس سے اگلے روزطے کیا کہ سر پنچوں کی بات سرآنکھوں پر لیکن اس دوران اختیارات کا پرنالہ قائم مقام آئی جی کے ہاں ہی رواں رہے گا۔ بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔ بیوروکریسی کے تبادلے اور ترقیوں میں سیاسی حکمرانوں کی دلچسپی نئی نہیں۔ ایم اپی اے ہوں یا ایم این اے ، ان کی ایس ایچ او ، ڈی ایس پی، ایس پی، اے سی اور ڈی سی سمیت تحصیل اور ضلع کے انتظامی افسران کی تعیناتی اور ٹرانسفر کے پنجرے میں جان اٹکی ہوتی ہے۔ بات بات پر بات وزیر اعلیٰ تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ گزشتہ تین چار دِہایوں کی کی سیاسی عملداریوں میں طاقت اوروجاہت کے لیے تمام سیاسی قوتوں نے اس معاملے کو اپنی کامیابی کی کلید سمجھا اوراس کلید کے لیے ہر پاپڑ بیلے۔ میرٹ اور شفافیت کے اکثر پرزے ہوئے اور اصول ضابطے مفادات کے کوڑے دان کی نذر ہوئے۔
سندھ میں تو یہ تبادلہ سیاسی اور انتظامی چشمک کی وجہ سے میڈیا پر نمایا ں ہوا لیکن ایک ٹرانسفر اسی ہفتے اسلام آباد میں بھی ہوئی مگر میڈیا پر حشر سامانی کا باعث نہ بنی۔ وزیر داخلہ نے چارسال میں تیسری بار اپنا وفاقی سیکریٹری تبدیل کیا۔ یہ تبدیلی اچانک کی گئی۔ وزیر داخلہ نے ایک روز قبل وفاقی سیکریٹری وزارت داخلہ کے چھٹی پر جانے کی اطلاع میڈیا کو دی اور ایڈیشنل سیکریٹری کو چارج تفویض ہو گیا۔ اگلے ہی روز وفاقی سیکریٹری کی خدمات اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کر دی گئیں تاکہ موصوف چھٹی سے واپس آئیں تو کہیں رواروی میں اپنے دفتر نہ پہنچ جائیں ۔ ساتھ ہی وزیر موصوف نے ایڈیشنل سیکریٹری کے بارے میں بر سرِ میڈیا ارشاد فرمایا کہ اگر ان کی ‘کارکردگی تسلی بخش ‘ رہی تو انہیں اسی پوسٹ پر ترقی عطا کر دی جائے گی !
ترقیوں پر اثر اندازی کا معاملہ انفرادی ہو یا بڑے پیمانے پر، متاثرین کو ریلیف کے لیے عدالت کا ہی راستہ دکھائی دیتا ہے۔ اے ڈی خواجہ نے بھی یہی کیا۔ اس سے چند ہفتے قبل گریڈ اکیس اور بائیس میں بورڈ کی طرف سے سفارش کنندگان کی خاصی بڑی تعداد کو وزیراعظم ہاؤس سے نا منظور کر دیا گیا ۔ ان کا معاملہ بھی اعلیٰ عدالت کے سامنے ہے۔ حالیہ مہینوں میں پنجاب اور سندھ میں پولیس افسران کی شولڈر پروموشن اور آؤٹ آف ٹرن پوموشن کا معاملہ بھی عدالت کے فیصلہ سے تبدیل ہؤا۔
بیوروکریسی کا ادارہ تقریباٌ دو سو سال قبل برطانوی راج نے کھڑا کیا۔ ان کی ضرورت تھی کہ ایک ہزار کے لگ بھگ انگریز افسران کے ساتھ وہ بر صغیر پر اپنی حکومت کی گرفت مظبوطی سے قائم رکھیں۔ اس مقصد کے لیے دیگر سیاسی اور انتظامی اقدامات کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کا اداراہ ان کی کامیابی کا مرکزی ستون رہا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ ادارہ جوں کا توں جاری رہا۔ ابتدائی سالوں میں سیاست دانوں کی باہمی رقابتوں اور مفادات کے کھیل میں بیوروکریسی مزید مظبوط ہو گئی۔ اسی بیوروکریسی میں سے ملک غلام محمد گورنر جنرل بنے۔ اسی بیوروکریسی سے اسکندر مرزا کابینہ میں ایسے پہنچے کہ بالآخر صدر بن بیٹھے۔ اسکند مرزا ہی نے ایوب خان کی کابینہ میں داخلے کی راہ ہموار کی۔ اس سے بعد کے معاملات ہم میں سے بیشتر کے ذہنوں میں اچھی طرح تازہ ہیں۔
بیوروکریسی کو حاصل آئینی تحفظ تہتر کے آئین میں ختم کر دیا گیا۔ اٹھارویں ترمیم کے وقت اس تحفظ کو بحال کرنے کا سوچا گیا لیکن اس سے ممکنہ طور پر بیوروکریسی کے بے مہار ہونے کا خدشہ حقیقی جان کر اس تردد سے گریز ہی کیا گیا۔ بیوروکریسی کے ادارے میں اصلاحات کی بھی ہر دور میں ضرورت محسوس کی گئی بلکہ شاید پاکستان میں ایک ہی ادارے کے لیے شاذ ہی اتنی بار اصلاحات کا ڈول ڈالا گیا۔ 1947 سے لےکر 2016 تک UNDP کی ایک رپورٹ کے مطابق 38 بار اصلاحات کی کوشش کی گئی۔ کم و بیش بیس کمیشن اور کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ صرف 1996 سے لے کر 2008 تک کم از کم چھ اسٹڈیز کی گئیں جن میں بیوروکریسی میں خامیوں کا جائزہ لیا گیا ۔ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں پرویز مشرف دور میں ایک کمیشن قائم کیا گیا۔ دو سال تک کی طویل چھان پھٹک کر جب کیشن کی سفارشات سامنے آئیں تو پرویز مشرف کے اپنے اقتدار کا چل چلاؤ تھا۔ یوں وہ سفارشارت رپورٹ کی زینت بنے رہ گئیں۔ اس سے قبل ڈیولیوشن کے نام پر 2001 میں انتظامی عہدوں کا نام اور نسب تبدیل کر دیا گیا۔ ڈی سی کا عہدہ ڈی سی او ہو گیا۔ کمشنر کا عہدہ ختم ہوا لیکن 2008 میں یہ تبدیلیاں واپس ہو گئیں۔ دھیرے دھیرے سب کچھ بحال ہو گیا، ڈی سی بھی اور کمشنر بھی۔ بلکہ اب مقامی حکومتوں کی بحالت مجبوری بحالی کے بعد اختیارات پر ایک بار پھر اسی ڈی سی کا پہرہ ہے۔
سیاسی مداخلت نے بیوروکریسی میں عدم تحفظ کا احساس وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط کیا ہے۔ مفادات اور مفاہمت کی سیاست نے اداروں کو مزید کمزور کیا ہے۔ من پسند بھرتیوں، سیاسی مفاد کے لیے منصوبوں کی تشکیل اور وسائل کی پسندیدہ تقسیم کے لیے منظورِ نظر افسران کی آؤٹ آف ٹرن پوسٹنگ کا چلن وفاق اور صوبوں میں کافی عام ہے۔ استثتنیات بھی ہوں گی لیکن انتہائی اہم پوزیشنز پر افسران کا انتخاب میرٹ کی بجائے ان کی وفاداری اور ضابطوں میں ضروری گنجائش پیدا کرنے کی صلاحیت پر موقوف ہو تا جا رہا ہے۔ سینئیر افسران کو نظرانداز کرکے جونئیر افسران کو ان کے گریڈ سے بلند پوزیشن پر فائز کرنا بھی ایک معمول سا بن رہا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مقامی حکومتوں اور صوبائی محکموں سے اختیارات سمیٹ کر اتھاریٹیز بنانے کا چلن عام ہو گیا ہے۔ خصوصی منصوبوں کے لیے کمپنیاں بنانے کا سلسلہ بھی زور شور سے جڑ پکڑ رہا ہے۔ اس سے ایک طرف تو صوبائی محکمے بے اختیار اور ان کے افسران اور سٹاف اصل کام سے محروم ہو رہے ہیں دوسری طرف ان اتھاریٹیز اور کمپنیوں میں مارکیٹ کے مطابق تنخواہیں اور مراعات کے نام پر من پسند سرکاری یا نجی شعبے سے افسران تعینات کیے جا رہے ہیں۔ یوں وفاق اور صوبوں میں بیوروکریسی کا ادارہ سیاسی مداخلت کے ہاتھوں ہر گزرتے دن کمزور ہور ہا ہے ۔
دنیا بھر میں پروفیشنل اور غیر سیاسی بیوروکریسی مستحکم سیاسی اور معاشی نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔ سنگاپور سمیت درجنوں مثالیں ہیں لیکن ہمارے ہاں بیوروکریسی میں اصلاحات بظاہر کل ترجیحات میں شامل تھی نہ شاید آج ہے۔ اب تو خیر سے الیکشن کا طبل بج چکا ہے۔ صوبوں اور وفاق میں تبادلوں کے کئی سیلابی ریلے متوقع ہیں۔ الیکشن میں پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر کئی محکمو ں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ سندھ میں اے ڈی خواجہ کا کیس ایک علامت ہے کہ سیاسی عملداری میں وہی سہاگن جو پیا من بھائے۔ اسلام آباد میں بھی نو من تیل کے لیے منظورِ نظررادھا کا ہی انتخاب ہوتا ہے۔ اگلی سیاسی صف بندیوں کا انحصار اب پانامہ کے فیصلے سے جوڑا جارہا ہے۔ فیصلہ جو بھی ہو، اس کے بعد انتخابی تیاریوں کے میلے میں ایسے کئی تماشے لگنے کا امکان ہے لیکن بقول غالب:
زخم گر دَب گیا لہو نہ تھما
کام گر رک گیا روا نہ ہوا