ہندوستان کے آئین میں اقلیتی حقوق

ہندوستان چونکہ تکثیری معاشرہ ہے لہذا آئین میں اس بات کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ وطن عزیز کی اس خوبی کو برقرار رکھا جائے۔ نیزمختلف ثقافتیں نہ صرف اپنی شناخت باقی رکھیں بلکہ انہیں پروان چڑھنے اور مستحکم ہونے کے مواقع بھی پرسکون حالات میں میسر آئیں۔ دراصل یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنا پر ملک میں بے شمار نظریات ،عقائد و مذاہب کے ماننے والے طویل عرصہ سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان میں خود کو ہندو کہنے والے اس بنا پر ہندوکہلانا پسند کرتے ہیں کہ وہ سب مورتی پوجا کے قائل ہیں۔ اس کے باوجود بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو مورتی پوجا کے منکر ہیں۔ ان میں سکھ بھی آتے ہیں اور جین مذہب کے ماننے والے بھی۔ دوسری طرف یہ ہندو، بے شماردیوی دیوتاؤں کی عبادت کرنے کی وجہ سے اندرون خانہ بری طرح تقسیم ہیں۔  لہذا وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اپنی شناخت مخصوص ثقافت اور رسم و رواج کے ساتھ برقراررہے۔ اس کی بنیادی وجہ جو عموماً سامنے آتی ہے وہ ہندوتہذیب میں ذات پات کا نظام ہے جو انہیں مختلف حیثیتوں سے تقسیم کرتا ہے۔ وہیں ہندوستان میں بڑی تعداد میں عیسائی اور مسلمان بھی رہتے ہیں جواپنا مخصوص معاشرتی نظام ، رسم و رواج اور ثقافت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

انہیں حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئین کی دفعہ 29 اور 30  تشکیل دی گئی ہیں۔ ان دفعات میں کہا گیا ہے کہ (1) بھارت کے علاقہ میں یا اس کے کسی حصہ میں رہنے والے شہریوں کے کسی طبقہ کو جس کی اپنی الگ جداگانہ زبان ، رسم الخط یا ثقافت ہو اس کو محفوظ رکھنے کا حق ہوگا نیز(2) کسی شہری کو ایسے تعلیمی ادارہ میں جس کو مملکت چلاتی ہو یا جس کو مملکتی فنڈ سے امداد ملتی ہو داخلہ دینے سے محض مذہب، نسل، ذات، زبان یا ان میں سے کسی کی بنا پر انکار نہیں کیا جائے گا۔

اقلیتوں کو تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق کا تذکرہ دفعہ30 میں ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ (1) تمام اقلیتوں کو خواہ وہ مذہب کی بنا پر ہوں یا زبان کی ، اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔ اسی کی تفصیل میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ  کسی اقلیت کے قائم کردہ اور زیر انتظام کسی تعلیمی ادارے کی کسی جائداد کے لازمی حصول کی نسبت کوئی قانون بناتے وقت مملکت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ ایسی جائداد کے حصول کے لیے ایسے قانون کی رو سے مقررہ یا اس کے تحت تعین شدہ رقم  محدود یا ساقط نہ ہو جائے۔ اور(۲) مملکت تعلیمی اداروں کو امداد عطا کرنے میں کسی تعلیمی ادارے کے خلاف اس بنا پر امتیاز نہ برتا جائے کہ وہ کسی اقلیت کے زیر انتظام ہے خواہ وہ اقلیت مذہب کی بنا پر ہو یا زبان کی۔

درج بالا دفعات میں  ایک جانب مختلف ثقافتوں کو برقرار رکھنے کا تذکرہ ہے وہیں حق ملکیت کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ آئیے اب مملکت میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے سماجی نظام کو قائم کرنے کے تذکروں اور دفعات کا ذکر کرتے چلیں۔ اس سلسلے میں چند عملی ہدایتی اصول قائم کئے گئے ہیں جنہیں دفعہ 38 اور 39  میں بیان کیا گیا ہے۔ دفعہ 38 میں کہا گیا ہے کہ(1) مملکت ایسے سماجی نظام کو جس میں قومی زندگی کے سب ادارے سماجی ، معاشی اور سیاسی انصاف سے بہر ور ہوں جہاں تک اس سے ہوسکے مکمل طور پر قائم اور محفوظ کرکے لوگوں کی بہبود ی کو فروغ دینے میں کوشاں رہے گی۔(2) مملکت خصوصی طور پر نہ صرف افراد کے مابین بلکہ مختلف علاقوں کے رہنے والے یا مختلف پیشوں میں کام کرنے والے اشخاص کے مابین آمدنی میں عدم توازن کم کرنے کی کوشش کرے گی۔ نیز حیثیت، سہولتوں اور مواقع میں عدم توازن ختم کرنے کا اقدام کرے گی۔

دفعہ 39 میں مملکت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ عمل کرے۔ دفعہ 39 کہتی ہے :مملکت اپنی حکمت عملی کو خاص طور سے اس امر کے اطمینان کے لیے عمل میں لائے گی کہ:(الف) مرد اور عورت سب شہریوں کو مساوی طور پر معقول ذرائع معاش کا حق حاصل ہو (ب) قوم کے مادی وسائل کی ملکیت اور ان پر نگرانی کی اس طرح تقسیم ہو جس سے حتی المقدور عام بھلائی مقصود ہو۔(ج) معاشی نظام اس طرح نہ چلایا جائے جس سے دولت اور پیداوار کے ذرائع ایک جگہ جمع ہو کر عوام کے لیے مضر رساں ہوں۔(د) عورتوں اور مردوں دونوں کے لیے مساوی کام کے لیے مساوی مواقع یافت ہوں۔ (ہ) کام گر مردوں اور عورتوں کی صحت، طاقت اور بچوں کی کم سنی سے بے جا فائدہ نہ اٹھایا جائے اور شہری، معاشی ضرورت سے ایسے پیشے میں جانے پر مجبور نہ ہوں جو ان کی عمر یا طاقت کے لیے نا مناسب ہوں۔  (و)بچوں کو صحت مند طریقہ سے اور آزاد و پروقار ماحول میں پڑھنے کے مواقع اور سہولتیں فراہم کی جائیں اور بچپن اور جوانی میں استحصال اور اخلاقی و مادی بے اعتنائی سے انہیں محفوظ رکھا جائے۔

اسی طرح مساویانہ انصاف اور مفت قانونی امدادکے سلسلے میں دفعہ 39 الف میں کہا گیا ہے کہ: مملکت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ قانونی نظام پر ایسا عمل درآمد ہو جس سے مساوی مواقع فراہم کرتے ہوئے انصاف کو فروغ ہو اور بالخصوص مناسب قانون سازی سے یا اسکیمیں مرتب کرکے یا کسی دیگر طریقے سے مفت قانونی امداد اس طرح فراہم کی جائے جس سے اس امر کا تیقن ہو کہ معاشی یا دیگر نا اہلیتوں کی بنا پر کسی شہری کو انصاف حاصل کرنے کے حق سے محروم نہیں رکھا گیا ہے۔

اسی طرح دفعہ40 میں گرام پنچایتوں کی تنظیم کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ: مملکت گرام پنچایتوں کو منظم کرنے کے لیے تدابیر اختیار کرے گی اور ان کو ایسے اختیارات و اقتدار دے گی جو حکومت خود اختیاری کی اکائیوں کی حیثیت سے کار منصبی انجام دینے کے لیے ضروری ہوں۔ اسی طرح بعض صورتوں میں کام ، تعلیم اور سرکاری امداد کا حق دفعہ 41 میں فراہم کیا گہا ہے۔ یہ دفعہ کہتی ہے کہ: مملکت اپنی معاشی گنجائش و ترقی کی حدود میں کام پانے، تعلیم حاصل کرنے نیز بے روز گاری ، پیرانہ سالی، بیماری اور معذوری اور ناروا حاجت کی دوسری صورتوں میں سرکاری امداد پانے کا حق حاصل کرنے کی ضمانت دینے کے لیے موثر توضیع کرے گی۔ ساتھ ہی کام کے مناسب اور انسانیت پر مبنی حالات اور امداد زچہ کی نسبت توضیعات کا تذکرہ دفعہ 42 میں کیا گیا ہے۔ یہ دفعہ کہتی ہے کہ: مملکت کام کرنے کے مناسب اور انسانیت پر مبنی حالات نیز امداد زچہ کی نسبت ضمانت دینے کے لیے توضیع کرے گی۔ ساتھ ہی کام گراں کے لیے قابل گزارہ اجرت وغیرہ کے سلسلے میں دفعہ43 کہتی ہے کہ : مملکت مناسب قانون سازی یا معاشی تنظیم کے ذریعہ یا کسی دوسرے طریقہ سے زرعی، صنعتی یا کوئی دوسرا کام کرنے والے سب کام گراں کے لیے کام اور قابل گزارہ اجرت دلانے اور کام کے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرے گی جن سے بہتر معیار زندگی اور فرصت اور سماجی اور ثقافتی ترقی کے لیے ساز گار حالات سے پوراپورا استفادہ کرنے کی ضمانت ہو۔ خاص طور سے مملکت گھریلو صنعتوں کو دیہی رقبوں میں انفرادی یا امدادی باہمی کی بنا پر ترقی دینے کی کوشش کرے گی۔

آخر میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہندوستان کا وہ تصور جو آئین کی دفعات فراہم کرتی ہیں کیا اُسی حقیقی تصورکے ساتھ ہندوستان اور اہل ہندوستان پیش رفت کررہے ہیں یا اس کے برخلاف ہندوستان میں معاملات کو حل کیا جاتا ہے۔  اس سلسلہ میں کسی دوسرے مضمون میں بحث کریں گے۔