پاکستانی بیت المال کی کارکردگی

معیشت دن دُگنی ترقی کر رہی ہے۔  زرِ مبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح کو چُھونے لگے ہیں۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری موجودہ حکومت کی کامیاب معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ عالمی سروے بھی پاکستان کی اقتصادی ترقی پر مہرِ تصدیق کر رہے ہیں۔

لیکن ہماری گلی کے چوکیدار احمد نواز کو یہ بات کون سمجھائے۔ دس ہزار ماہوار تنخواہ میں بچوں کو تعلیم دینا اُس کے لئے محض ایک سہانا خواب تو ہو سکتا ہے حقیقت نہیں۔ مزید یہ کہ اُس کی بیوی کو کینسر کی تشخیص ہو گئی۔ اسلام آباد کے پوش علاقے میں بڑی بڑی کوٹھیوں کے مکینوں سے مایوس ہو کر وہ مُجھ جیسے معمولی استاد و  کالم نگار سے اُمید وابستہ کر بیٹھا۔ لگ بھگ ڈھائی لاکھ کے اخراجات کے لئے اُس کی راتوں کی نیند اُڑ گئی تھی۔ جب میں نے احمد نواز کی یہ پریشانی دیکھی تو اُسے  بتایا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں پاکستان بیت المال نادار مریضوں کی مالی معاونت کرتا ہے۔ یہ سُن کر اُسے اطمینان ہوا۔ چنانچہ اگلے ہی روز وہ بیت المال کا فارم سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر سے تصدیق کر وا کے لے آیا۔  اب ایک سرکاری افسر کی تصدیق کی ضرورت تھی۔ یہ مرحلہ بھی طے ہوا اور فارم مُکمل کرنے کے بعد جب وہ اگلے روز فارم بیت المال جمع کروانے گیا تو اُسے بتایا گیا کہ بیت المال کے فنڈ پچھلے دو ماہ سے ختم ہو چُکے ہیں اور حکومت مزید جاری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔  اُس کے پاؤں تلے زمیں نکل گئی۔

شام گئے گھر آیا تو احمد نواز کو مُتفکر اور مایوس پایا۔ سوچا بیت المال کے ایم ڈی عابد وحید شیخ سے بات کروں کیونکہ وہ اور اُن کا خاندان دردِ دل سے مالامال ہے اور اس عہدے سے قبل بھی انسانیت کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ پھر سوچا وہ اپنے محکمے کی مجبوریوں کا احوال سُنائیں گے۔ کسے فِکر ہے کہ احمد نواز کی بیوی کو زندہ رہنے کے لئے مالی اخراجات درکار ہیں۔ ریاست ہوگی ماں کے جیسی کے خواب دکھانے والے بین الاقوامی ائیر پورٹ پر بزنس کلاس کی قطار میں کھڑے ہیں۔

سینیٹ میں ایک سوال کے جواب میں  حکومت نے گزشتہ چھ ماہ میں گیارہ ارب روپے حُکمرانوں کی ذاتی تشہیر پر مبنی اشتہارات میڈیا میں جاری کئے ہیں لیکن اس کے پاس بیت المال کے فنڈ جاری کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ ایسی ریاست کھوکھلی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔  جس ریاست کے مذہبی طبقے کو یہ احساس نہ ہو کہ غریب مُسلمانوں کو صحت اور تعلیم فراہم نہ کرنا بھی توہینِ آدمیت ہوتی ہے۔ وہ ریاست کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔

ایسی حالت میں مجھے  اپنے نوجوان طالب علموں میں امید کی کرن  نظر آئی، جن کا جذبہ و جنوں چند دنوں میں ہی یہ رقم جمع کر لے گا۔ اس طرح احمد نواز اپنی بیوی کا علاج کروانے کے قابل ہو سکے گا۔