شام پر امریکی حملہ اور حقائق
- تحریر چوہدری ذوالقرنین ہندل
- اتوار 09 / اپریل / 2017
- 4514
گزشتہ روز ملک شام کے ائیر بیس پر امریکی حملے کے نتیجہ میں شامی ائیر بیس مکمل طور سے تباہ ہو گیا۔ یہ حملہ شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف کیا گیا۔ اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اسلامی ملک شام پر پہلی امریکی یک طرفہ فوجی کاروائی کی گئی۔ جس میں 59 ٹام ہاک کروز میزائل استعمال کئے گئے۔ جس کے نتیجہ میں ائیر بیس تباہ اور 9 فوجی جاں بحق ہو گئے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں سے معصوم لوگوں پر حملہ نا قابل قبول ہے ۔ امریکی صدر کے دل میں معصوم لوگوں کے لئے ہمدردی ہے بہت اچھی بات ہے۔ مگر تاریخ بہت سی تلخ حقیقتوں سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسرائیل کی فوجوں نے فلسطین کے معصوم بچوں، عورتوں، بزرگوں کو بلڈوزروں کے نیچے کچلا ۔ گولیوں سے چھلنی کیا اور ظلم کی داستانیں رقم کیں۔ کشمیر میں بھارتی فوجیں ظلم اور بربریت کی مثالیں قائم کر رہی ہیں۔ کشمیریوں کو جوحشیانہ طریقے سے کچلا جا رہا ہے۔ بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے، عزتوں سے کھیلا جا رہا ہے ظلم کی انتہا کی جا رہی ہے۔ مگر افسوس کہ دہرا معیار، نرم گوشہ رکھنے والے نمبر دار امریکہ کو یہ ظلم نظر نہیں آتا۔ ان علاقوں کے معصوم بلبلاتے لوگ نظر کیوں نہیں آتے۔ شاید امریکہ کو ان سے وابستہ کوئی مفاد نظر نہیں آتا۔
امریکہ کا کوئی دوست نہیں۔ صرف مفاد سے اس کی دوستی ہے ۔ یہی سپر پاور کی اصلیت ہے۔ تاریخ میں اامریکی مفاد پرستی کی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ داعش کا بانی و حامی کون ہے۔ حقیقت میں بشارالاسد اور شامی فورسز دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے۔ شام میں باغیوں کو ہوا دینے والا بھی امریکہ ہی ہے۔ امریکہ شام کو بھی عراق جیسا دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ عراق کے ساتھ شام پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرنا امریکی کھیل کا حصہ ہے۔ روس نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ اور ساتھ ہی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بھی امریکی پراپیگنڈا کا نام دیا ہے۔ شام کی حفاظت کے لئے روسی افواج شام میں ہیں۔ ایران نے بھی روسی موقف کی حمایت کی ہے۔
چین نے امریکی طاقت کے استعمال کو غلط قرار دیا اور امن کے حل کو ترجیح دی۔ پاکستان نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی اور امن کی کوششوں پر زور ڈالا۔ جبکہ اسرائیل نے امریکی حملے کا خیر مقدم کیا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، یورپ اور برطانیہ نے امریکی حمایت میں بیانات دئیے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایسے مواقع پر ڈبل اسٹینڈرڈ بیانات دیئے ہیں یعنی کسی کی بھی حمایت نہیں کی۔ عرب ممالک سمجھتے ہیں کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت گرا کر وہ اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیں گے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ امریکہ اس علاقے کے سر پر جنگ کی تلوار لٹکانا چاہتا ہے اور روس بھی امریکہ سے بدلہ لینے کے لئے اس زمین کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ دونوں بڑی طاقتیں اس علاقے کو میدان جنگ بنانے کی کاوش میں ہیں۔
اسلامی ملک کسی بھی موقف پر اکٹھے نہیں بلکہ بٹے ہوئے ہیں جوکہ اسلامی ریاستوں کہ لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ دنیا کی تاریخ کو دیکھا اور پرکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑے دہشتگرد خود امریکہ اور روس ہیں۔ جن کے کھیل اور اثر و طاقت کے دکھاوے اور استعمال نے دنیا میں کروڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔ کیونکہ مسلمان بار بار طاقت کے اس کھیل میں کود جاتے ہیں۔ بکھرے ہوئے مسلمانوں کو فوری متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں سعودیہ اور ایران کا ایک پیج پر ہونا اتہائی ضروری ہے۔ ورنہ تاریخ کا یہ کھیل مسلمانوں کی تقدیر کے ساتھ یوں ہی کھیلتا رہے گا۔
ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم بھی نمبر ون امریکہ نے ہی گرا کر تباہی کی حد کو عبور کیا تھا۔ مسلمانوں کو حقیقت سے آگاہ ہو کر پوری مسلم امہ کے مفاد کو ترجیح دینا چاہئے۔ نہ کہ امریکی کھیل کو۔ امریکہ ہر صورت بشارالاسد کو ہٹانا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بشارالاسد کے بعد شام کا اگلا صدر کون ہوگا ۔ اگر اس تنازعہ میں داعش شام پر قابض ہوگئی تو اس کا انجام کیا ہوگا۔ اگر روس نے بشارالاسد کو بچانے اور امریکہ سے بدلہ لینے لئے کوششیں شروع کردیں تو بھی شام میں تباہی پھیلے گی۔ اس طرح شام پر ایک بڑی جنگ مسلط ہو سکتی ہے۔
دنیا ، انسانیت کی باتیں کرنے والوں، نرم گوشہ رکھنے والوں ، میڈیا ، اسلامی ممالک اور سوشل میڈیا پر شعور رکھنے والوں کو شام کی حمایت کے لئے کھل کر میدان میں آنا چاہئے۔ تاکہ بڑی طاقتیں شام کو اس کے حال پر چھوڑ دیں۔ اور اس کی مشکلات میں اضافہ نہ کریں۔