پاکستان میں انتخابات کا سیاسی کلچر

پاکستان کا انتخابی منظر نامہ ابھی تک ایک مضبوط سیاسی کلچر اور عوام کی حقیقی تبدیلی کے ساتھ نہیں جڑ سکا ۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے یہاں جمہوریت  ارتقائی عمل سے گزررہی ہے ، ویسے ہی انتخابات کا سیاسی کلچر بھی اپنے اندر کئی طرح کے تضادات اور فکری مغالطوں کے ساتھ اپنی ابتدائی شکل میں ہے ۔ جمہوریت یا کسی بھی سیاسی نظام میں انتخابات اہم ہوتے ہیں ۔ یہ عمل جہاں ملک میں جمہوریت کے تسلسل کو مضبوط بناتا ہے وہیں جمہوری طرز حکمرانی کے نظام کو بھی طاقت فراہم کرتا ہے ۔عمومی طو رپر طاقت ور جمہوری معاشروں میں انتخابات کی بنیاد میں چار اہم شرائط ہوتی ہیں ۔ اول انتخابات کا صاف اور شفاف نظام ، دوئم سیاسی جماعتوں کا انتخابی منشور کو بنیاد بنا کر انتخابی مہم میں حصہ لینا اور سوئم ووٹروں کا سیاسی شعور یا بیداری کا عمل اور چہارم سیاسی جماعتوں کا داخلی جمہوری کلچر۔

پاکستان میں جمہوریت اور انتخابات کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک عدم تسلسل کی پالیسی نظر آتی ہے ۔ جمہوریت تسلسل کے ساتھ نہیں چل سکی اور اس کی وجہ بار بار کی فوجی مداخلتیں ہیں ۔ لیکن اس حقیقت کے بعد اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ خود سیاسی جماعتوں اوران کی قیادت کو جمہوریت کے تناظر میں جتنا موقع ملا وہ بھی کوئی بڑی اچھی مثالیں پیش نہیں کرسکے ۔ خود انتخابات کی سیاست کو جس انداز سے سیاسی جماعتوں اوران کی قیادت نے عوامی مفادات سے لاتعلقی  اختیار کی وہ بھی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے نام پر ایک بڑا سوال ہے ۔ اصل مسئلہ انتخابات کی سیاست میں ایک جذباتی کیفیت کا ہے جو مثبت سیاست میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے ۔

پاکستان کی انتخابی سیاست میں منشور کی بنیاد پر کبھی بھی انتخابی مہم نہیں چلائی گی۔ کوشش کی گئی کہ اس میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جذباتی اور الزام تراشیوں یا ذاتیات پر مبنی سیاست کو بنیاد بنایاجائے۔ انتخابی منشور جسے  انتخابات سے کئی  ماہ قبل سامنے آنا چاہیے ، محض الیکشن کمیشن کی انتظامی مجبوری کے لئے چند دن پہلے سامنے آتا ہے ۔ حقیقی معنوں میں انتخابی منشور نہ تو سیاسی جماعتوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے اور نہ ہی یہ انتخابی سیاست میں سیاسی جماعتوں کے تناظر میں ایک بڑی بحث کا حصہ بنتا ہے ۔ ووٹرز تو کجا خود سیاسی جماعتوں کے اہم لوگوں اور قومی و صوبائی امیدوران کو بھی انتخابی مہم میں اپنی ہی سیاسی جماعت کے منشور سے کوئی آگاہی نہیں ہوتی ۔ میڈیا میں بھی وہی بحث عام ہوتی ہے جو انتخابی مہم میں منفی سیاست کے طور پر موجود رہتی ہے ۔

سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی یا اہل دانش کے ایسے کوئی تھنک ٹینک نہیں جو انتخابی سیاست میں انتخابی منشور کو بنیاد بنا کر کوئی بڑی حکمت عملی  وضع کرسکیں ۔ کیونکہ یہ تھنک ٹینک بھی اسی سیاسی محاذ آرائی  اور الزام تراشی کی سیاست میں مصروف ہو جاتے ہیں جو بڑی سیاسی جماعتیں اپنی سطح پر پیدا کرتی ہیں ۔ تھنک ٹینک کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے منشور پر تجزیاتی بحث اور ووٹروں کو شعور دینے کے حوالے سے بھی بحث بہت کمزور ہے ۔ ووٹ کی سیاست بھی ابھی تک میرٹ کی بجائے ذات، برداری ، فرقہ ، مذہبی رنگ اور طاقت ور طبقات کے درمیان گھری نظر آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں انتخابی سیاست میں کچھ تماشے دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن کوئی بھی ایسی سیاست نظر نہیں دیتی جو قوم کو آگے لے جانے میں معاون ثابت ہو۔اس کا فقدان ہے ۔ حکومت اپنی پچھلی پانچ برس کی  کارکردگی کی بجائے ساری توجہ اس بات پر دیتی ہے کہ اس کے مخالفین ترقی یا ملک کے دشمن ہیں اور جو کام ہم نہیں کرسکے اس کی وجہ ہمارے سیاسی مخالفین ہیں۔

2018  کی انتخابی مہم  قبل ازوقت ہی شروع ہوچکی ہے ۔  بڑی چھوٹی سیاسی جماعتیں وقت سے پہلے ہی لنگوٹ کس کر میدان میں کود پڑی ہیں ۔ ان تمام سیاسی جماعتوں سے وابستہ قیادت کی سیاسی تقریریں سنیں تو اس میں سوائے جھوٹ کی سیاست کے سوا کچھ نہیں ملے گا ۔ اچانک بڑی سیاسی قیادتوں کو ایسے صوبوں ، علاقوں اور غریب لوگوں کا احساس ہوا ہے جن سے پچھلے پانچ برس تک یہ لوگ لاتعلق رہے ۔ اب بڑے بڑے سیاسی نعرے، دعوے اور سیاسی بڑھکیں مار کر ملک کو ہانگ کانگ ، پیرس اور لندن بنانے کے دعوے کیے جارہے ہیں ۔ وہ علاقے جہاں بھوک ، افلاس ، تنگ دستی اور پس ماندگی ہے، وہاں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات سے عوام کے زخمی دلوں کو اور زیادہ تکلیف دی جارہی ہے ۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وہ جماعتیں جو کئی برس سے وفاق اور صوبوں میں جمہوریت کے نام پر حکمرانی کررہی ہیں وہ بھی ملک کو پیرس اور لندن بنانے کی باتیں کرتی ہیں ۔ اول توان کا کڑا احتساب اور سیاسی آڈٹ ہونا چاہیے کہ وہ بتائیں برس ہا برس کے اقتدار کے باوجود وہ لوگوں کے بنیادی مسائل بھی حل نہیں کرسکے ۔ دوئم  پاکستانی سیاست دانوں سے گزارش ہے کہ وہ خدارا اس ملک کو پیرس، لندن ، ترکی اور سنگا پور بنانے کی بجائے اسے پاکستان ہی بنادیں ۔ وہ پاکستان جہاں لوگوں کو بنیادی  سہولیات حاصل ہو اور وہ ایک ایسی زندگی  گزارسکیں جو محرومی اور تضادات کی سیاست سے پاک ہو۔ ترقی کا زینہ بڑ ی بڑی عمارتیں یا بڑے بڑے ترقیاقی منصوبے نہیں ہوتے ، بلکہ اس کی اصل روح انسانی ترقی کے عمل کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔
ہمیں ایسی سیاست درکار ہے جہاں انسانوں پر بلا تفریق بڑی سرمایہ کاری ہواور اس کے بنیادی مسائل کو انتخابی سیاست سمیت جمہوری طرز حکمرانی میں اولین فوقیت حاصل ہو۔ لیکن اس کے لیے اصولی طور پر ایک جمہوری معاشرہ ، جمہوری کلچر ، جمہوری سیاسی جماعتیں اور قیادت درکار ہیں ۔  جن لوگوں نے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے نام پر سیاست اور انتخابی دوکانیں سجا کر عملی طور پر کاروبار پر مبنی سیاست اور ذاتی وخاندانی سیاست کوفروغ دیا ہے اس کے خلاف بھی انتخابی سیاست میں ووٹروں کو بڑی بغاوت کرنی چاہیے ۔

اصولی طور پر تو انتخابی مہم میں   اقتدار میں شامل جماعتوں اور ووٹروں کے درمیان احتسابی عمل ہونا چاہیے۔ لیکن جس انداز سے ان بڑی جماعتوں نے انتخابی مہم کا  آغازالزام تراشیوں پر مبنی سیاست کے ساتھ  کیا ہے اس سے اس آنے والے انتخابات کے منظر نامہ کی اصل تصویر کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ بے روزگاری ، لوڈ شیڈنگ، معاشی بدحالی ، انصاف، بنیادی سہولتوں کی فراہمی ، اداروں کو مضبوط بنانے ، غربت کو کم کرنے ، سرمایہ کاری کے پھیلاؤ ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ، امن وامان ، مافیا کی حکمرانی ، شفاف اور احتساب پرمبنی نظام ، دولت کی منصفانہ تقسیم ، گیس کی لوڈشیڈنگ، چھوٹے علاقوں اور دیہی ترقی کے دعوؤں کے ساتھ یہ بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت جو عملی طور پر سیاسی تماشہ لگائیں گی ، وہ ناقابل یقین ہوگا ۔ انتخابات سے قبل حکومت میں شامل جماعتیں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح جعلی ہوں گے یا جن پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔ لیکن اس طرح سیاسی جال بچھایا جائے گا ۔ حکومت میں شامل جماعتوں نے اس کھیل کا آغا ز اپنے من پسند ارکان اسمبلی کو بڑے پیمانے پر ترقیاتی فنڈز کے اجرا کے ذریعے کردیا ہے۔ یہ ہتھکنڈے  سیاسی رشوت اور ووٹروں کو ترقیاتی کاموں سے گمراہ کرنے کے سواکچھ نہیں ۔

اصولی طور پر انتخابات کی سیاست کو درست سمت میں رکھنے اور سیاسی جماعتوں اوران کی قیادت پر دباؤ برقرار رکھنے میں سول سوسائٹی ، اہل دانش اور میڈیا سمیت رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ اگر انتخابی سیاست کے ماحول میں یہ ادارے غیر فعال ہوں یا اپنے مفادات کے تحت خود بھی سمجھوتوں کی سیاست یا خاموشی اختیا رکرلیں تو سیاسی جماعتوں اوران کی قیادت پر کون دباؤ ڈالے گا اور کون ووٹروں کو بیدار کرے گا کہ سچ اور جھوٹ میں کیا فرق ہے ۔ اس لیے انتخابات کی سیاست اہم ہے۔ لیکن اگر اسے درست سمت میں نہیں لے جایا گیا تو اس طرح مضبوط جمہوری اور منصفانہ سیاست کا آغاز نہیں ہو سکے گا۔