عمران خان کی سادگی
- تحریر حسین شہادت
- سوموار 10 / اپریل / 2017
- 4426
عمران خان پاکستان کی سیاست میں دو دہائیون سے موجود ہیں ۔ وہ کرکٹ کے کھیل میں بڑا نام بناچکے ہیں۔ کینسر ہسپتال کے قیام کی وجہ سے ان کی عوامی مقبولیت اور بھی بڑھی ۔ انہوں نے اس کے بل بوتے سیاست میں قدم رکھا ۔ اورنئے لوگ ان کے قافلے میں شامل ہوںے لگے۔
سیاست میں صبر وتحمل بنیادی عنصر ہوتا ہے لیکن عمران خان میں اس کی کمی دیکھی گئی۔ وہ نوجوانوں میں اپنی مقبولیت کی بنا پر سیاست میں پاؤں جما رہے تھے کہ انہوں نے پرانے ساتھیوں کی بجائے سیاست کی بساط کے پرانے مہروں پر تکیہ کرنا شروع کردیا ۔ یہ ان کی پہلی سیاسی غلطی تھی ۔ انہوں نے خیبر پختون خواہ میں حکومت تو بنالی لیکن سیاسی افق پر نمایاں تبدیلی نہ لا سکے ۔ حکومت اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیا مگر اپنے اندر موجود خرابیوں کو دور کرنے میں ناکام رہے ۔ان کی پارٹی میں تنظیم سازی کا فقدان عرصہ سے موجود ہے اور وہ ہر تھوڑے دنوں کے بعد اس میں اصلاحات کےلئے اقدامات کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سابق چیف جسٹس وجیہہ الدین ناکام ہوئے اور اب سابق گورنر چوہدری سرور نے پی ٹی آئی کی تنظیمی اصلاح کا بیڑا اٹھارکھا ہے ۔ وہ اس میں بہتری لانے کیلئے سرگرم ہیں ۔
اس دوران عمران خان نے پاناما کیس پر سیاست چمکائی۔ لیکن پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ ہوچکا ہے ۔ ایسے میں اب عمران خان کے پاس کوئی کام نہیں رہا ۔ ان کا سیاسی کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے ۔ ان کے پاس میڈیا کے لوگ وقت گزاری کےلئے آتے ہیں ۔ ذرا سا ٹٹولو تو ان کے دل کی بات زبان پر آجاتی ہے۔ وہ سیاسی نزاکتوں سے لاعلم بھی ہیں اور بے پروا بھی۔ دھرنے میں انہوں نے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کرکے ایک جانب یہ واضح کردیا کہ وہ سیاست کے داؤ پیچ نہیں سمجھتے تو دوسری طرف بہت لوگوں کو مایوس کیا۔ عمران خان عرصہ سے وزیراعظم بننے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ ان کی گفتگو میں اس کے اشارے موجود ہوتے ہیں۔ اب وہ اس بارے میں کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہوچکے ہیں ۔
عمران خان اپنے دل کی بات زبان پر تو لے آئے ہیں کہ انہیں وزیراعظم بننا ہے لیکن کیوں۔ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا کوئی آسان جواب نہیں ہے۔ وہ خود بھی اس کا جواب دینے سے معذور لگتے ہیں ۔ سولوں کا جواب وہ ایک عام کم فہم آدمی کی طرح سے دیتے ہیں۔ کپتان کا یہ حال ہے جیسے کوئی عام آدمی سوچے کی لاٹری نکل آئے تو اس کے سارے مسئلے حل ہو جاءٰن گے۔ اسی طرح عمران خان بھی یہی سمجھتے اور کہتے ہیں کہ وہ وزارت عظمیٰ مل جانے کے بعد تمام خرابیوں کو دور کردیں گے۔ تمام ریاستی اداروں کا قبلہ درست کردیں گے ، قوم کا مزاج بدل دیں گے۔
تبدیلی کا نعرہ وہ عرصہ دراز سے لگارہے لیکن اسے حقیقت کا روپ کب اور کیسے دیں گے ۔ اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ لیکن وہ اپنی کارکردگی سے بہت زیادہ مطمئن نظر آتے ہیں۔ ان کی سیاست میں اول اقتدار ہے جس کے حصول کے بعد ہی وہ تبدیلی لاسکتے ہیں ۔ یہی سیاسی نا پختگی ان کی ناکامی کا سبب ہے۔ اب کوئی ان پر طعنہ زنی کرے یا ان کی عقل پر ماتم کرے ، انہیں برا نہیں لگنا چاہئے ۔ کیونکہ ان کا تندیلی کا نعرہ دراصل حصول اقتدار کی خواہش کا اظہار ہے۔
وہ تبدیلی کے نام پر جس سادگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ، عام طور سے ایسا رویہ بچے اختیار کرتے ہیں۔ سیاست میں یہ رویہ کارآمد نہیں ہو سکتا۔