’’ایک زرداری سب سے یاری‘‘

پاکستان بھر کی سیاسی جماعتوں نے باقاعدہ طور پر انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ ان میں حکومت اور اُس کی حلیف جماعتوں کے علاوہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ابھی انتخابی شیڈول کا اعلان ہوا ہے نہ پاناما کیس کا فیصلہ آیا ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی فیصلہ ساز کمیٹیوں نے باقاعدہ طور پر فیصلہ کیا ہے۔ لیکن ملک کے چاروں صوبوں میں اس مہم کا آغاز کردیا گیاہے، جسے انتخابی مہم کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔

لگتا یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کا اندازہ یہ ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ کچھ ایسا پیچیدہ اور مبہم ہوسکتا ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے تنبیہ تو ہوسکتی ہے لیکن وہ مجموعی طور پر کسی ایک فریق کے خلاف یا کسی ایک کے حق میں نہیں ہوگا۔ جس کے بعد سب اس فیصلے کی اپنے اپنے انداز میں تعبیر کریں گے، مگر یہ عملاً کسی ایک فریق کو فائدہ پہنچا سکے گا، نہ کسی کے لیے واضح نقصان کا باعث بنے گا۔ حکومت کے شہ دماغ سمجھتے ہیں اور انہوں نے اپنی قیادت کو اس سے آگاہ بھی کیا ہے کہ فیصلہ جو بھی ہو، حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اسی لیے نواز شریف اور شہبازشریف عملی طور پر انتخابی مہم کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ نوازشریف سندھ اور بلوچستان کو فوکس کررہے ہیں، اور شہبازشریف جنوبی  پنجاب کو خصوصی توجہ کا مرکز بنارہے ہیں۔

عملی طور پر اس وقت سندھ اور پنجاب میں باقاعدہ انتخابی مہم شروع ہوچکی ہے ۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، ان کی بہنیں اور پیپلزپارٹی کی قیادت پنجاب میں ڈیرے لگائے ہوئے ہیں جبکہ نوازشریف سندھ میں جلسے کررہے ہیں، وہاں مراعات اور گرانٹس کا اعلان کررہے ہیں، حیدرآباد اور کراچی کو ترقیاتی پیکیج دے رہے ہیں۔ سندھ کے زرعی پانی کے کوٹے میں اضافہ کررہے ہیں اور وہاں کے عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ پیپلزپارٹی سے پوچھیں کہ اُس نے عوام کے لیے کیا کیا۔  سندھ میں ٹوٹی سڑکیں اور کراچی میں کوڑے کے ڈھیروں پر بھی سوالات اٹھائیں اور ان سوالات کا جواب لینے کے بعد اپنے ووٹ کا فیصلہ کریں۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے سربراہ اور سابق صدر آصف علی زرداری لاہور میں بیٹھ کر اعلان کررہے ہیں کہ آئندہ انتخابات ہر حال میں جیتنا ہیں کہ چار سالہ مفاہمت کا دور ختم ہوگیا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں جو اب اتر چکی ہیں۔ اب ان کو (حکمرانوں کو) لگ پتا جائے گا کہ الیکشن کس کو کہتے ہیں۔۔۔

ان کا کہنا ہے کہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے تمام پارٹیوں سے رابطے کریں گے۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ ’’ایک زرداری سب پہ بھاری‘‘ کے بجائے ’’ایک زرداری سب سے یاری‘‘ کا نعرہ لگائیں ۔ تحریک انصاف کے رہنما اور ان کے لیڈر عمران خان مختلف شہروں میں ورکرز کنونشن کررہے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) بھی ورکرز کنونشن کے نام پر انتخابی مہم شروع کرچکی ہے۔ انتخابی مہم کے سلسلے میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما مسلسل رابطۂ عوام مہم پر ہیں۔ جمیعت العلمائے اسلام (ف) نے پشاور میں اپنی جو صد سالہ تقریبات منائی ہیں وہ بھی انتخابی مہم کا حصہ ہی ہیں۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا تمام سیاسی جماعتیں کسی ایجنڈے اور انتخابی منشورکے بغیر انتخابی مہم میں اتر آئی ہیں یا ان کے ذہنوں میں وہ مسائل موجود ہیں جن پر وہ اپنی انتخابی مہم کی عمارت کھڑی کریں گی۔ اس حوالے سے لگتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے اِس بار بھی سب سے بڑا مسئلہ الیکٹیبلز (Electables) کی تلاش ہے۔ وہ ہر حلقے میں مؤثر یعنی پیسے، طاقت، اثر رسوخ اور ذات برادری کی بنیاد پر امیدوار سامنے لائیں گی ۔ تاہم آئندہ انتخابات میں بھی چند ایسے ایشوز ہیں جو قومی سطح پر زیربحث آئیں گے۔

گورننس یا طرزِ حکمرانی آئندہ انتخابات میں ایک بڑا ایشو بنے گا۔ جو جماعتیں اِس وقت اقتدار میں ہیں یا ماضی میں رہی ہیں ان کے طرزِ حکمرانی پر سوال اٹھیں گے اور انہیں ان کا جواب دینا ہوگا۔ چونکہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس وقت یا ماضئ قریب میں اقتدار میں رہی ہیں اس لیے ان کا طرزِ حکمرانی ایک ایشو کے طور پر انتخابی مہم کا حصہ بنے گا۔ اس بار کرپشن بھی ایک بڑا انتخابی ایشو ہوگا۔ اس پر بہت عرصے سے تیر و نشتر چل رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں پاناما اور کرپشن کے دوسرے معاملات کو بھی انتخابات میں زیربحث لائیں گی اور اس موضوع پر عملاً چوراہے میں پوتڑے(گندے کپڑے) دھوئے جائیں گے لیکن شاید نتیجہ کچھ نہ نکل سکے۔ کیوں کہ دونوں طرف سے الزامات ہوں گےاور ایک بار پھر ایسے انتخابات ہوجائیں گے جن کو سب گزشتہ انتخابات کی طرح مسترد کریں گے لیکن قبول بھی کر لیں گے۔