چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 12 / اپریل / 2017
- 6705
مسائل ہماری زندگی میں چہار طرف ہیں۔ اور برہنہ و بے ہنگم حقیقت کی طرح ہمارے آگے پیچھے موجود ہیں۔ ہم پاکستانیوں نے تمام مسائل سے نمٹنے کی ذمہ داری سرکار کو دے رکھی ہے اور سرکار ہے کہ نظر ہی نہیں آتی اور آتی بھی ہے تو ایسے کہ کالے شیشوں اور ٹھنڈی گاڑیوں میں ہم سے پرے پرے گزر جاتی ہے۔ اب جب سرکار نظر نہیں آتی تو یقیناً مسائل ہی نظر آئیں گے جو روز بروز بچوں کی عمر سے کہیں تیزی سے بڑھتے نظر آتے ہیں۔
ہمارے ملک میں کم و پیش تمام ادارے سیاست یا سیاستدانوں کے تابع ہیں۔ اگر ادارے میں اکثریت حکومتی جماعت سے وابستہ لوگوں کی ہے تو ادارے کچھ نا کچھ کام کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اگر صوبائی یا علاقائی حکومت کا تعلق بھی اسی سیاسی جماعت سے ہے تو پھر وہاں کے لوگوں کے وارے نیارے ہو سکتے ہیں۔ مگر پاکستان تو سب کا ہے اور ہم سب پاکستانی ہیں۔ سب وسائل پر حق کی برابری کی بات کرتے ہیں تو مسائل کے حل کیلئے کیوں ایک دوسرے کی جانب دیکھا جاتا ہے یا پھر مسائل اچھال کر دوسرے کی جھولی میں کیوں ڈال دیئے جاتےہیں۔ ان سوالوں کے جواب کبھی نہیں ملیں گے۔
عوام یہ بات سمجھنے لگے ہیں کہ اگر مسائل ختم ہوجائیں تو ہمارے نام نہاد سیاستدان کیا کریں گے۔ ہمارے ملک میں ہمیشہ سے مسائل کے حل پر سیاست کو ترجیح دی جاتی رہی ہے اور تنقید برائے تنقید کا فارمولہ عوام استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں سب کے سب ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں۔ مگر جب کوئی سیاسی گٹھ جوڑ ہوتی ہے تو مل بیٹھتے ہیں۔ 2005 میں آنے والے زلزلے نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں قیامت ڈھائی اور زندگیاں پیوندِ خاک ہوگئیں۔ مکان زمیں بوس ہوگئے۔ پاکستانی قوم نے بیک آواز میں لبیک کہہ کر اپنے ہم وطنوں کی مدد شروع کردی۔ اس جذبے کہ پیچھے نہ کوئی سیاست تھی اور نہ ہی کوئی فرقہ بندی۔ سب کے پیش نظر صرف پاکستان تھا اورانسانیت تھی۔ قوم کے اس جذبے نے مشکل ترین حالات میں اپنے ہم وطنوں کی بے دریغ مدد کی۔ اس کے بعد 2010 میں سیلاب کے موقع پر پاکستانیوں نے ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔
دھماکوں نے اس قوم کو لہولہان کر کے رکھ دیا جہاں ہم آرمی پبلک اسکول کو کبھی نہیں بھولیں گے تو لاہور کے پارک میں ہونے والا واقعہ بھی نا قابلِ فراموش ہے۔ نورانی کا دھماکہ اور پھر سہون کا سانحہ ایسے بہت سارے واقعات جن میں پاکستانیوں نے اپنے اتحاد کا عملی مظاہرہ کیا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو مٹی میں ملا دیا۔ اس سارے ماحول میں پاکستانی عوام نے تو ایثار کیا لیکن سیاستدانوں کے رویہ میں تبدیلی نہیں آئی۔ سیاست دانوں نے ان واقعات پر بھی سیاست چمکائی۔
انتخابات کہ دن جوں جوں قریب آنا شروع ہو رہے ہیں اقتدار کے متلاشی سڑکوں پر گلی محلوں میں عوام کو بہلاتے پھسلاتے نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ معصوم عوام ان کی جھوٹی تسلیوں میں آکر ان کے حق میں نعرے لگاتے نظر آنے لگیں گے۔ جبکہ ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ چار دن کی چاندنی ہے اور پھر اک طویل اندھیری رات ہماری منتظر ہوگی۔ یہی مسائل ہوں گے اور یہی ہم لوگ ہوں گے۔