آئین اور قانون کی حکمرانی

کسی بھی ریاست یا معاشرہ کی حقیقی طاقت اس کا دستور اور قانون وانصاف پر مبنی حکمرانی کا نظام ہوتا ہے ۔ کیونکہ جس ریاست یا معاشرہ میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا تصور ہوگا اس کی سیاسی ساکھ داخلی اور خارجی دو نوں محاذوں پر اسے برتری کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ بالخصوص معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے آئین اور قانون کی حکمرانی کا نظام اوراس تک باآسانی رسائی اسے ریاست اور شہری کے درمیان باہمی تعلق کے نظام کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں وہ ریاستیں اورمعاشرے جو آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو ایک مقدس گائے سمجھ کر اسے محض شیشوں کے گھروں تک سجا کر رکھتے ہیں، وہ مجموعی طور پر ریاست، حکومت اور شہری کے درمیان تعلق کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے معاشروں کو لوگ کمزور ریاستوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی ، آئینی اور قانون کی حکمرانی سمیت مجموعی طور پر حکمرانی کے نظام کی کہانی اپنے اندر کئی طرح کے تضادات اور پیچیدگیاں رکھتی ہے ۔ کیونکہ ریاست، حکومت اور اداروں کی سطح پر موجود قیادت نے آئین اور قانون کی حکمرانی کے نظام کے مقابلے میں یہاں افراد کی حکمرانی کو طاقت فراہم کی ہے ۔ ان کے بقول افراد کو ریاست، ، حکومت ، اداروں یاقانون کے تابع ہونے کی بجائے ان سب کو ہمارے تابع ہونا چاہیے ۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو اس ریاست میں آئین اور قانون کی حکمرانی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر موجود ہے ۔ مثال کے طور پر’’ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رپورٹ 2016‘‘ کے مطابق پاکستان قانون کی حکمرانی کے نظام میں دنیا کے 113ملکوں کے مقابلے میں 106کی پوزیشن پر کھڑا ہے۔ ہمارے بعد جن ملکوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں افغانستان، ایتھوپیا، زمباوے ، کیمرون، مصر، کمبوڈیا اور وینزویلا شامل ہیں ۔
ساؤتھ ایشیا میں پاکستان کے مقابلے میں نیپال 63، بھارت66، سری لنکا 68، بنگلہ دیش103پر ہے جبکہ برتری میں پہلے تین ممالک جن میں ڈینمارک، ناروے اور فن لینڈ شامل ہیں ۔ جبکہ نچلی سطح سے افغانستان111، کمبوڈیا112اور وینزویلا 113ویں نمبر پر ہیں ۔

اس رپورٹ کے مطابق  44 ایسے انڈیکیٹرز کا چناؤ کیا گیا جو ان ملکوں میں قانون کی حکمرانی کے نظام کو سمجھنے میں مدد فراہم کرسکتے تھے ۔ ان میں Constranits of Govt Powers, Absence of Corruption, Open Government, Fundamental Rights, Order and Security, Regulatory Enforcement, Civil Justice and Criminal Justice شامل ہیں ۔

دنیا میں ہر برس 10اپریل کو آئین اور قانون کی حکمرانی کا دن منایا جاتا ہے ۔ اس دن کا مقصد عالمی دنیا سمیت ہر ملک میں اس نکتہ کو اجاگر کرنا ہوتا ہے کہ ملکوں کی بہتری کی درجہ بندی اب آئین اور قانون کی حکمرانی سے جڑی ہوئی ہے ۔ پاکستان میں بھی کچھ سنجیدہ افراد اور ادارے اس عالمی دن کے تناظر میں یہاں بحث کو اٹھاتے ہیں کہ ہمیں بھی آئین اور قانون کی حکمرانی کے نظام کو حقیقی طاقت فراہم کرنا ہے ۔ یہ سب جانتے ہیں کہ یہ کام کوئی جادوئی عمل سے فوری طو رپر ممکن نہیں ہوگا ، بلکہ اس کے لیے ایک طویل جدوجہد درکار ہے ۔ لیکن اس جنگ کے لیے جہاں جدوجہد کرنی ہے وہیں اپنی فکر اور فہم کے مطابق ایک مضبوط حکمت عملی بھی درکار ہے ۔ ایسی حکمت عملی جو عملی طور پر ایک بڑی مشاورت سے جڑ ی ہو اورجس پر سب کا اتفاق ہو، وہی نتیجہ خیز بھی ہوسکتی ہے ۔ کیونکہ آئین اور قانون کی حکمرانی کا مضبوط نظام محض خواہش کی بنیاد پر تو نہیں قائم ہوسکے گا ۔ اس کے لیے خواہش یا مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات پر مبنی نظام بھی درکار ہے جو ہماری سیاسی ساکھ کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کی کہانی میں بار بار فوجی مداخلتوں کے باعث آئین کو معطل کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی ، جمہوری اور دستوری نظام کا تسلسل بھی  مضبوط جڑ نہیں پکڑ سکا ۔ اس عدم تسلسل کی پالیسی کو بنیاد بنا کر ہی ہم اب بھی یہ بات اٹھاتے ہیں کہ یہ ملک ارتقائی عمل سے گزررہا ہے اور اسے کسی بڑے تصوراتی عمل میں نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ لیکن یہ ایک تلخ سچ ہے اوراس کا اعتراف بھی موجود ہے  لیکن ایک دوسرا سچ ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام سمیت اداروں کے اپنے کردار اور طرز عمل سے جڑا ہوا ہے ۔ اگر فوجی مداخلتوں نے اس ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو طاقت نہیں دی ، تو یہی طور طریقہ جمہوری حکمرانوں نے بھی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے ۔

پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت میں ایک بڑی کامیابی 18ویں ترمیم کی منظوری تھی ۔ اس ترمیم کے تحت وفاق، صوبوں اور اضلاع کے درمیان اختیارات میں توازن پیدا کیا گیا تھا ۔ سیاسی پنڈتوں کے بقول 18ویں ترمیم کی منظوری ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی سمیت عام آدمی کو تحفظ دینے میں معاون ثابت ہوگی ۔ لیکن اب خود سیاست کے سنجیدہ افراد یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس ملک میں بدقسمتی سے 18 ویں ترمیم کے عمل کی روح کو قبول کرنے کی بجائے اسے کمزور کرکے پھر مرکزیت پر مبنی حکمرانی کے نظام کو طاقت فراہم کی جارہی ہے ۔ اسی 18ویں ترمیم کے تحت وفاق نے صوبوں کو اختیارات دیئے ، لیکن اب صوبے مقامی نظام حکومت کو آئین کی شق140-Aکے تحت سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات دینے کی بجائے ایک کمزور مقامی نظام حکومت چلارہے ہیں ۔

اسی طرح آئین کی شق25-A کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلا تفریق سب کو تعلیم دیں ، لیکن آدھی سے زیادہ آبادی ناخواندہ ہے ۔19 -Aکے تحت معلومات تک رسائی کے نظام میں بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر کوئی ایسے شاندار کام نہیں ہوئے جس کو سنہری حروف میں لکھا جاسکے ۔ وفاق ابھی تک صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مقابلے میں صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خود مختاری دینے کے لیے تیار نہیں اور اس میں وفاق اوروفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔ سول سروسز ریفارمز کے لیے بھی کوئی آئینی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ابھی تک مشترکہ مفادات کونسل کا مشترکہ سیکرٹریٹ مستقل بنیادوں پر کام شروع نہیں کرسکا۔ 270-AA کے تحت آئینی علمدرآمد کمیشن سفارشات پر بھی عمل نہیں ہوسکا ۔ کمیشن ان سٹینڈرڈ ہائراایجوکیشن بھی نہیں بن سکا ۔ فیڈرل لسٹ پارٹ ٹو کے تحت 18امور مشترکہ مفادات کونسل کے اختیارات میں شامل تھے ، تاحال ان 18امور پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔

سینٹ کے چیرمین رضاربانی سمیت کئی سیاسی اور قانونی ماہرین اعتراف کررہے ہیں کہ وفاق اور صوبوں سمیت  عدم مرکزیت کے مخالفین جان بوجھ کر 18ویں ترمیم کے خلاف کام کررہے ہیں ۔ اس میں بیوروکریسی بھی شامل ہے جو سیاست دانوں کو بہلا پھسلا کر خود بھی اختیارات کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے ۔ جواز یہ دیا جاتا ہے کہ صوبوں میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ خود مختار انداز میں کام کرسکیں ۔ اس رویہ کی بنیاد پر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کا طاقت ور گروہ چاہے وہ کسی بھی شعبہ سے وابستہ ہو، کیسے اختیارات کو اپنی حد تک محدود کرکے پورے نظام کی اہمیت اور افادیت کو نقصان پہنچارہا ہے ۔

اداروں کی اصلاح کرنا ، اصلاحات کو آگے بڑھانا اور اداروں کی صلاحیت کو مضبوط کرکے ان کو سیاسی ، مالی اور انتظامی خود مختاری دینے کی بجائے ہم اداروں کو برباد کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ یہ کام ماشااللہ ہم جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سمیت آئین کی چھتری کے نیچے بیٹھ کر بڑی ڈھٹائی سے کررہے ہیں ۔ یہ طعنہ تو دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی فوجی آئین کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف آئین کی شق چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جائے ، ضرور چلائیں لیکن یہی فارمولا پھر جمہوریت کے ان چیمپنز کے خلاف بھی لگنا چاہیے جو جمہوریت اور آئین کی خلاف ورزی کرکے اپنے ذاتی ، سیاسی مفادات کو تقویت دیتے ہیں ۔ لیکن یہاں ہمارے جمہوریت سے وابستہ افراد ذاتی مفادات کے لیے سمجھوتے کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

یہ بات سب کو سمجھنی ہوگی کہ ہمیں اس ریاست اورمعاشرہ کو آئین اور قانون کے تابع بنانا ہے۔ لیکن اس میں جمہوریت کے مخالفین اگر مسئلہ پیدا کرتے ہیں تو ہمیں اسی طرح جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے حامیوں میں سے بھی کالی بھیڑوں کا صفایا کرنا ہوگا۔ جو لوگ بھی عملی طور پر آئین ، قانون ، جمہوریت اور منصفانہ نظام میں رکاوٹ ہیں یا تضاد کے ساتھ ملک کو  برباد کررہے ہیں، ان کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت ہونی چاہیے ۔ لیکن یہ مزاحمت بھی آئین ، قانون اور جمہوریت کے دائرے کار میں ہی ہوگی اوراسی میں ملک اورقوم دو نوں کا مفاد جڑا ہوا ہے ۔