چوری اس پر سینہ زوری
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعرات 13 / اپریل / 2017
- 5247
ہندو تاریخ میں ایک بادشاہ گزرا ہے جس کا نام بھارتا تھا۔ اس بادشاہ کہ نام پراس خطہ زمین کا نام اس وقت بولی جانے والی زبان سنسکرت میں بھارت پڑا۔ یعنی بھارت بہت قدیم اور کسی حد تک مذہبی آمیزش لئے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے ہندو مذہب ماننے والوں کےلئے اس نام کی بڑی اہمیت ہے۔ فارس کے لوگوں نے اس بھارت کو ہندوستان کے نام سے پکارا جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ زمینی حصہ کوہِ ہمالیہ اور سندھو دریا (دریائے سندھ) کے درمیان میں واقع ہے۔ سترہویں صدی میں یونانیوں اور یورپ والوں نے اس کو انڈیا کا نام دیا۔ اس کا سبب بھی دریائے سندھ ہی ہے۔ انگریزی زبان میں اسے انڈس کہتے ہیں۔ انڈس سے انڈیا بن گیا۔
اس طرح بھارت، ہندوستان اور انڈیا بھی کہلایا۔ بھارت درحقیقت ایک مذہبی عنصر کا نام ہے جو یقیناً بھارت میں بسنے والوں میں اور خاص طور پر ہندو مذہب ماننے والوں میں نسل در نسل سفر کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس مذہبی جنون نے جب بھی موقع ملا اپنے ساتھ بسنے والے مسلمانوں کا خون بہانے کی کوشش کی۔ اب اکیسویں صدی میں بھی بعض ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے قتلِ عام کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ کہنے کو تو انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جہموری سیکولر ریاست ہے۔ انڈیا ایک ایسی سیکولر ریاست ہے جہاں ایک گائے کی جان انسانی جان سے قیمتی سمجھی جاتی ہے۔ ایک گائے کہ ذبح ہونے پر لاتعداد مسلمانوں کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ انڈیا ایک ایسا سیکولر ملک ہے جو پچھلی سات دہائیوں سے نہتے کشمیریوں پر ظلم اور بربریت کہ پہاڑ توڑ رہا ہے۔ آفرین ہے ان مسلمانوں پر جنہوں نے نہ مسجدوں میں نمازیں چھوڑیں اور نہ ہی اپنے دین سے تعلق توڑا۔ ابھی گجرات میں ایک تازہ واقعہ رونما ہوا جب آٹھ مسلمانوں کو گائے کی نقل و حمل کو وجہ سے قتل کردیا گیا۔ انڈیا سفاکیت کی حدوں کو چھورہا ہے مگر کوئی بین الاقوامی انسانی حقوق کا ادارہ یا تنظیم اس جانب دھیان نہیں دے رہی۔ بے ساختہ اکبر الہ آبادی کا ایک مشہور شعر یاد آرہا ہے:
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
مسلمانوں نے ہندوستان پر لگ بھگ ہزار سال حکومت کی اور ایسٹ انڈیا کی بدولت ہندوؤں نےاس طویل اور نسل در نسل تسلط سے نجات حاصل کی۔ اب نجات کا خوب فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جا رہا۔ بھارت کے ناپاک عزائم گاہے بگاہے پاکستانیوں کو جھیلنے پڑتے ہیں۔ ہماری مستعد اور چابکدست فوج بروقت منہ توڑ جوابی کاروائی کرکے کسی دیرپا اقدام کوہمیشہ رد کردیتی ہے۔ اب تک کتنے ہی معصوم بچے، خواتین اور بوڑھے جوان معذور ہوئے ہیں اور کتنے ہی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ مگر وہ نقل مکانی پر آمادہ نہیں۔ 2001 سے لےکر آج تک ہم سنبھل نہیں سکے۔ پاکستان کو مسلسل داخلی و خارجی طور پر دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ان دہشت گردوں سے نمٹنے کےلئے مختلف فورسز کام کر رہی ہیں۔ اور ہماری ایجنسیاں بھی بھرپور طریقے سے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ دہشت گردی کا سہرا مختلف مذہبی تنظیموں کے سر بندھتا رہا ہے اور وہ خود بھی یہ ذمہ داریاں قبول کرتے رہے ہیں۔ انڈیا اپنے ناپاک عزائم ہمارے پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر پورے کر رہا تھا جس کی وجہ سے ملک میں باغی عناصر کے ذریعے انتشار پیدا کیا گیا۔ "را" کا ایجنٹ کلبھوشن یادیو پاکستان میں ایسی ہی سرگرمیوں کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ اس طرح بھارت کی اصلیت منظرِ عام پر آگئی۔
اب انڈین حکومت کی ہٹ دھرمی دیکھئے وہ اپنے اس دہشت گرد کو بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا اعلان کررہی ہے۔ یقیناً امریکہ سے بھی مدد مانگی جائے گی۔ امریکہ یا کسی بھی دوسرے ملک کو اس معاملے میں پڑنا نہیں چاہئے اور نہ ہی کچھ بولنا چاہئے۔ بلکہ یہ بات باور کرنی چاہئے کہ بھارت کا معاملہ تو ایسا ہی ہے کہ جیسے "ایک تو چوری اور اس پر سینہ زوری"۔ حکومت کو کلبھوشن کو اس کے جرائم کی سزا دینے میں کسی دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کے خلاف اقدام کرنے والے کو اپنے انجام تک پہنچنا چاہئے۔