میں نے مشعل کو قتل کیا ہے

جب اُس کی روح پرواز کر رہی تھی، میں اُس وقت سو رہا تھا۔ پھر بھی مجھے یقین ہے کہ اُسے میں نے ہی قتل کیا ہے۔ آپ حیران کیوں‌ ہوتے ہیں؟ یاد کیجیے وہ دِن جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر گرنے کا منظر دیکھ کر میں خوشی سے جھومنے لگا تھا کہ امریکا کی تباہی قریب ہے۔ آپ اُس وقت بھی حیرت سے منہ کھولے میری صورت تک رہے تھے۔

مجاہدین اسلام نے بامیان کے نادر مجسمے گرائے تو میری روح سرشار ہو گئی تھی کہ بت شکن غزنوی کو جس فریضے کی ادائی کے لیے ہندستان کا سفر کرنا پڑتا تھا، وہ ان دین داروں نے وہیں پورا کر دیا۔ بدلے میں امریکا نے عراق کو کھنڈر بنا دیا، افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، لیکن یہ ذرا بھی گھاٹے کا سودا نہیں۔ میں یہ نوید دیتا ہوں کہ امریکا کا انجام قریب ہے۔ دین کی سربلندی کے لیے ایک عراق، ایک افغانستان کیا، میں سارے پاکستان کو بھی داؤ پر لگا سکتا ہوں۔ حتا کہ پوری مسلمان نسل کو قربان کرنا پڑا تو کر دوں گا کہ دین پر میرے ماں‌ باپ بھی قربان۔ مجھے آج بھی یقین ہے، ایک نہ ایک دن امریکا برباد ہو کے رہے گا۔

آپ کو یاد ہے جب ملالہ کو گولی ماری گئی تھی۔ میں نے اُسی روز بتا دیا تھا کہ وہ امریکن ایجنٹ ہے۔ آپ نہیں مانے۔ آپ آج بھی نہیں مانیں گے۔ کیوں کہ آپ دین کو سمجھنے سے عاری ہیں۔ آپ عافیہ کو بھول گئے۔ قوم کی بیٹی کو بھول کر امریکا کی ایجنٹ کا ذکر کرتے ہیں تو افسوس کا مقام ہے۔ ملالہ کو نوبیل پرائیز یونہی تو نہیں دے دیا گیا۔ کسی پاکستانی مسلمان کو تو نوبیل پرائیز مل ہی نہیں سکتا جب تک وہ احمدی نہ ہو یا امریکن ایجنٹ نہ ہو۔ دیکھئے ناں عبدالستار ایدھی کو نوبیل پرائیز نہیں ملا، کہیے کیا اُن کا حق نہ تھا۔ آپ نے مجھ پر الزام لگایا کہ میں طالبان کا حامی ہوں جب کہ میں طالبان کا حامی نہیں۔ بس امریکا کا دشمن ہوں۔ امریکا جس نے ہیرو شیما پر بم گرایا۔ انسانیت کا قاتل ہے امریکا۔ وہی امریکا ہمارے شہروں میں خودکش بم بار بھیجتا ہے، الزام معصوم طالبان پر لگا دیا جاتا ہے۔ مجھے دکھائیے کیا ثبوت ہے یہ خودکش حملے طالبان کرتے ہیں۔ صہیونی میڈیا کس برتے پر کہہ دیتا ہے کہ یہ حملہ طالبان نے کیا۔ طالبان تو بس وہ کرتے ہیں، دین نے جس بات کا حکم دیا۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔ جی ہاں یہ سوچ میری ہی تھی۔ یہ سوچ میری ہی ہے۔

جب امریکا نے اسامہ بن لادن شہید کی بازیابی کے لیے ایک جھوٹا آپریشن کا ڈراما رچایا، میں نے اسی وقت خبر دے دی تھی کہ شیخ اسامہ بن لادن وہاں تھے ہی نہیں۔ ایسا کوئی آپریشن ہی نہیں ہوا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکا نے دُنیا کے مطلوب ترین فرد کو گولی مار دی ہو لاش سمندر میں بہا دی ہو اور اُس شہید کی ایک تصویر بھی نہ جاری کی ہو۔ آپ کی عقل میں یہ بات سماتی ہو تو سمائے میں نہیں مان سکتا۔ امریکا نے یہ ڈراما اس لیے رچایا کہ اس کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا مل سکے۔
 
میں وہی ہوں جس نے کہا تھا کہ ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو گولی مار کے اسلام کا پرچم بلند کیا۔ آپ چیختے رہے کہ دین فرد کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ قانون ہاتھ میں لے لیکن میں نے اُس وقت بھی وضاحت کر دی تھی کہ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں دین کیا کہتا ہے۔ میں ایسی صورت احوال میں وہی کروں گا جو ممتاز قادری نے کیا۔ اور یہ بات میں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں کہ آپ دین کی بات مت کیا کیجیے کیوں کہ آپ نہیں جانتے دین کیا ہے۔ دین کی تشریح مجھی کو کرنا ہے۔

آپ کو دین کی اتنی ہی پروا ہوتی تو اُس وقت خاموش نہ رہتے جب فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا تھا۔ کشمیر کے نہتے مسلمانوں پر گولی چلائی جا رہی تھی۔ ہندُستانی گجرات کے فسادات میں بھی آپ نے مذمت کا ایک لفظ نہیں کہا۔ آپ کو روہنگیا مسلمانوں سے بھی ہم دردی نہیں۔ آپ احمدیوں پر ہونے والے معمولی مظالم پر بڑے بڑے مضمون لکھ سکتے ہیں، کیوں‌ کہ اس کے لیے آپ کو امریکا سے رقم ملتی ہے۔ ہاں میں بھی خاموش رہوں‌ گا جب مزاروں پر خود کش حملے ہوں گے، چرچ اڑا دیے جائیں گے، مسیحیوں کی بستیاں جلا دی جائیں گی، گلیوں‌ میں، بازاروں میں دھماکے ہوں گے، حتا کہ اسکول کے بچوں پر فائرنگ کی جائے گی۔ میں چپ رہوں‌ گا کیوں‌ کہ میں نے اس کی مذمت کی تو آپ کے ایجنڈے کو فروغ ملے گا۔ میں امریکن ایجنڈے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔

مشعل خان کون تھا۔ میں نہیں جانتا وہ بچہ کون تھا، لیکن اس کو میں نے مار ڈالا۔ خدا لگتی کہوں گا، آپ خود سوچئے، یہ کیسے ممکن ہے کوئی کسی پر یونہی اتنا بڑا الزام لگا دے۔ کوئی مسلمان کسی پر اتنا بڑا بہتان نہیں باندھ سکتا۔ ویسے ہی جیسے ایک مسلمان نہتوں پر حملہ نہیں کرسکتا۔ مشعل خان نے کچھ نہ کچھ تو کہا ہی ہوگا۔ تبھی تو دین داروں کا کلیجہ شق ہو گیا۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ توہین رسالت کے مجرم کی سزا، تن سر سے جدا۔ ہاں یہ زیادتی ہوئی کہ مجرم کو برہنہ نہیں کرنا چاہیے تھا کہ دین میں اس کی گنجایش نہیں۔ اُن یونی ورسٹی کے لڑکوں‌ کی جگہ میں ہوتا تو بھی مشعل کا یہی انجام ہوتا۔ میں اُن مجاہدین کے ساتھ ہوں جنہوں‌ نے مشعل کو مارتے ہوئے کلمے کا ورد جاری رکھا۔ دین کی سر بلندی کے لیے ایک مشعل کیا پورے امریکا کو ختم کرنا پڑا، ختم کر دیا جائے گا۔ مرتدین اپنی زبانیں سنبھالیں کہ گلی گلی میں عاشق رسول بستا ہے، اور امریکا ان عاشقوں سے لرزہ بر اندام ہے۔

جب مشعل کو قتل کیا گیا، میں اس وقت سو رہا تھا۔ میں وہاں‌ ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جو باقیوں نے کیا۔ فرض بھی کرلیں کہ مشعل نامی بچہ معصوم تھا، اور اس نے توہین رسالت نہیں کی، تو اللہ کے یہاں‌ اس کے لیے بلند مقام ہے۔ وہ شخص جو معصوم مارا جائے جنت میں جائے گا۔ اُس کے قاتل بھی جنت میں جائیں گے کیوں کہ انہوں نے غلط فہمی میں یہ قدم اٹھایا، یا اقدام دین بچانے کے واسطے تھا۔ حملہ آوروں کی نیت ٹھیک تھی اور جیسا کہ کہا گیا ہے، اعمال کا دارو مدار نیت پر ہوتا ہے۔ اب ریاست اُن معصوموں کو ڈھونڈنے کوشش کرے جنہوں نے مشال کو مارا، تو ان سے پوچھا جائے کہ وہ امریکی ریمنڈ ڈیوس کو تو سنبھال نہیں پائے، بس ان معصوم بچوں کے پیچھے لگ گئی ہے۔ صاف کہتا ہوں، کسی میں ہمت ہے تو آئے میرے خلاف کارروائی کرے، کہ میں ہی مشعل کا قاتل ہوں۔

(ظفر عمران کی یہ تحریر ایک آئینہ ہے۔ جو چاہے اس میں اپنی تصویر دیکھ لے اور جاننے کی کوشش کرے کہ پاکستان کا معاشرہ آج جس مقام پر پہنچا ہے، اس میں اس کا اپنا کتنا کردار ہے۔ مدیر)