گورنر، گورننس اور جنوبی پنجاب کی محرومی

  • تحریر
  • جمعہ 14 / اپریل / 2017
  • 4326

پنجاب کی سیاست میں جنوبی پنجاب کا ذکر دو موقعوں پر بڑے تواتر سے آتا ہے، ایک الیکشن سے کچھ پہلے اور دوسرے الیکشن کے کچھ دیر بعد۔ خیر سے نئے الیکشن کی آمد کا بگل بج چکاہے سو اب ایک بار پھر جنوبی پنجاب کا ذکر گونج رہا ہے۔ حکومت کا اصرار ہے کہ اس نے جنوبی پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام کر کے اپنا فرض پورا کر دیا ہے اور جنوبی پنجاب کو اس کا حق لوٹا دیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ بقول ان کے،  گزشتہ الیکشن میں تو ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے لیکن اب انہوں نے کمر باندھ لی ہے، اب خلق خدا کے دیکھنے کی باری ہے کہ خدا کیا کرتا ہے۔ تحریک انصاف بھی درون خانہ خوب تیاریوں میں مصروف ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ اس بار ٹکٹوں کی تقسیم کی نگرانی خود کریں گے۔

گزشتہ ہفتے سول سروسز افسران کی پاسنگ آؤٹ کے موقع پر گورنر پنجاب مہمان خصوصی تھے۔ پروگرام کے بعد گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ سے ملاقات ہوئی تو بات کا رخ جنوبی پنجاب کی طرف مڑ گیا۔ موقع محل اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کے لیے ناکافی پا کر دو روز بعد ملاقات کا وقت طے ہوا۔ پہلا سوال یہی کیا کہ آپ کے انتخاب کے وقت یہ امر نمایاں بتایا گیا کہ آپ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ گورنر کی پوزیشن انتظامی نہ سہی لیکن اپنی پارٹی کی حکومت ہوتے ہوئے آپ نے جنوبی پنجاب کے لیے کیا کیا۔ بولے، میرا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ وہیں رہتے ہوئے وکالت بھی کی اور سیاست بھی کی۔ سب سے بڑا مسئلہ یہی دیکھا کہ تمام محکموں کے صوبائی دفاتر لاہور میں ہیں۔ ریونیو کا مسئلہ ہو یا تعلیم کا، صحت کا ہو یا زراعت کا، کسی نہ کسی معاملے میں لاہور تک رسائی کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے۔ رحیم یار خان ہو یا راجن پور، بھکر ہو یا بہاول نگر، ڈی جی خان ہو یا لیہ، لاہور سے واسطہ پڑے بغیر معاملات مشکل ہی حل ہوتے ہیں۔ دور دراز سے آمد و رفت کے اخراجات اپنی جگہ، لاہور میں دفتر ڈھونڈنا اور ان دفتروں میں صاحب لوگوں کا مل جانا کبھی بھی یقینی نہیں ہوتا۔ لہذٰا ایک چھوڑ اکثر اوقات بار بار کے چکر سے بھی معاملات حل نہیں ہوتے۔ اس لیے ہم نے کوشش کی کہ انتہائی اہم اور کلیدی محکموں کے سب آفس یا انتظامی افسران کی ان علاقوں میں تعیناتی کر دی جائے تاکہ انہیں لاہور آنے کے بجائے نزدیک ترین شہر ملتان یا بہاول پور میں یہ سہولت میسر ہو۔ اس پر بیوروکریسی کے چند اعلیٰ افسران کی مزاحمت کے باوجود پیش رفت کی گئی ہے۔

ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے لیے کئی میگا پروجیکٹ زیر تعمیر ہیں بلکہ کچھ تو مکمل ہو چکے۔ ملتان میٹرو بس ، خواتین کے لیے ایک ہی جگہ پر شکایت سے لے کر انصاف کے مراحل کا اہتمام، زرعی اور انجینئرنگ کالج اور یونیورسٹی کا قیام، نشتر میڈیکل کالج کے توسیعی منصوبے کے لیے دو ہزار بیڈ کی تیاری، انڈسٹریل اسٹیٹ کی ڈویلپمنٹ وغیرہ۔ جنوبی پنجاب سے تعلق ہونے کے ناطے گورنر رفیق رجوانہ مطمئن دکھائی دیئے کہ انہوں نے اپنے علاقے کی ترقی کے لیے ممکنہ حد تک کوششیں کی ہیں ۔

جنوبی پنجاب سے ہمارا پیدائشی تعلق ہے۔ رحیم یار خان کے دیہات میں ہماری پیدائش ہوئی، گریجو ایشن خواجہ فرید ڈگری کالج ر حیم یار خان سے کی اور ایم بی اے بہاء الدین یونیورسٹی ملتان سے کیا۔ والد مرحوم غالباٌ 1942 کے لگ بھگ پہلے پہل بہاول نگر میں آبادکاری کے لیے آئے، کچھ عرصہ ڈی جی خان رہے اور پھر ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور کے نہری بنگلے باغ و بہار کے نزدیک ایک گاؤں میں مقیم ہوئے۔ انہیں سرائیکی زبان سے عشق تھا۔ ان کے بہت سے دوست فارسی، اردو اور سرائیکی زبانوں میں علم و فضل میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ والد مرحوم کا سرائیکی زبان سے یہ قلبی تعلق ہمارے حصے میں بھی آیا۔ ہمیں فخر ہے کہ دونوں مادری زبانوں پر عبور حاصل کیا، ماں بولی پنجابی زبان پر بھی اور دھرتی ماں بولی سرائیکی زبان پر بھی۔ ذرا ہوش سنبھالا تو اس تلخ حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان علاقوں میں آبادکاروں کے سبب آبادی کا تناسب بھی بدلتا گیا۔ اکثر علاقوں میں مقامی لوگ سکڑتے گئے ، کاروبار میں بھی اور ملازمتوں میں بھی۔

نئے آبادکاروں نے مقامی زبان کو شاذ ہی اپنایا۔ یوں اپنے ہی دیس میں بیگانگی کا اندازہ صرف مقامی لوگ ہی لگا سکتے ہیں۔ اس پر مستزاد کہ کاروبار اور ملازمتوں کے مواقع میں انہیں تعلیم میں پسماندگی کی وجہ سے متناسب حصہ نہ ملا۔ اپنے لیے زندگی کے نئے امکانات ڈھونڈنے کے لیے مقامی لوگوں کی کثیر تعداد دھیرے دھیرے بیرون ملک، کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور دیگر شہروں میں محنت کے لیے جا مقیم ہوئی۔ زندگی کی اس دوڑ میں مشقت کرتے کرتے مالی اعتبار سے تو معاملات لشٹم پشٹم چلے سو چلے لیکن سرائیکی زبان کے ادب، شاعری اور کلچر کو اپنا وجود قائم رکھنے کی ایک جہدِ مسلسل در پیش ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر بڑے شہروں اور ریٹنگ کا اس قدر قبضہ ہے کہ پنجابی کے چینل بھی اپنی جگہ نہ بنا سکے، سرائیکی زبان کے لیے تو اور بھی مشکل تھا۔ سرائیکی کے دو ٹی وی چینل ہیں جن میں سے ایک تو صرف لائسنس کی بقاء کے لیے جاری ہے جبکہ دوسرا اپنے گروپ کے دیگر چینلز کے اشتہارات کے ساتھ جڑا ہونے کی وجہ سے زندہ ہے۔ لیکن دونوں چینلز کی پروگرامنگ کراچی اور اسلام آباد کے شہروں میں محدود ہے اور مایوس کن بھی ہے۔
اسکولوں میں پنجابی کی طرح سرائیکی بھی نہیں پڑھائی جاتی ، لہذٰا سرائیکی پڑھنے والے بہت کم ہیں۔ کتابوں اور رسالوں کی اشاعت بھی اسی لیے بہت کم ہے۔ آج سے پانچ سال قبل ایک شام ہم ملتان کینٹ کے تینوں نمایاں کتاب گھروں میں سرائیکی شاعری پر کتابیں ڈھونڈنے گئے تو جھٹکا سا لگا۔ ایک دوکان پر تو سرائیکی کی ایک بھی کتاب نہ تھی جبکہ دیگر دو دوکانوں پر چند پرانی بچی ہوئی خستہ حالت میں کتابیں ایک ہی شیلف میں سمائی ہوئی تھیں۔ سرائیکی زبان کو اس کے توانا شاعروں اور گلوکاروں نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ خواجہ فرید تو خیر ایک شہرہ آفاق شاعر ہیں۔ ماضی قریب اور حالیہ سالوں میں احمدخان طارق، جانباز جتوئی، دلچسپ، اقبال سوکڑی ، شاکر شجاع آبادی سمیت کئی نامور شعراء نے محدود وسائل اور حلقہ ہونے کے باوجود با کمال تخلیقی معرکے سر انجام دیے ہیں۔

الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب کا ذکر اپنی اپنی ضرورت کے مطابق شروع ہو چکا۔ ماضی کی طرح حکومت کی تان انتظامی اقدامات اور منصوبوں کی مالیت کے اربوں کے ٹوٹل پر رکے گی۔ اور یہ وعدہ بھی کہ اگلی حکومت بنائی تو خزانے کا منہ مزید کھول دیا جائے گا۔ اپوز یشن پارٹیاں بھی اپنے اپنے انداز میں جنوبی پنجاب کو لبھانے کی ہر ممکنہ کوشش کریں گی۔ جنوبی پنجاب کے لیے انتظامی اقدامات اور میگا پروجیکٹس اور صوبہ بنانے کا عزم اپنی جگہ لیکن سرائیکی زبان ، کلچر اور ادب کا فروغ بھی ترجیحات میں لانے کی ضرورت ہے کہ قومیں اینٹ روڑے کے منصوبوں سے نہیں اپنی زبان، کلچر، ادب اور لوک گیتوں میں سانس لے کر زندہ رہتی ہیں۔

گورنر پنجاب اور ان کی پارٹی کی کوششیں اپنی جگہ لیکن سرائیکی زبان اور کلچر کا فروغ بھی ان اقدامات کا حصہ بن سکے تو کیا ہی اچھا ہو ۔ ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ، کسے یاد ہے کہ چولستان کے کنارے ہاکڑا نام کا دریا بھی بہتا تھا۔ دور کیا جانا پچاس پچپن سال قبل دریائے ستلج نامی دریا بھی بہتا تھا۔ ہزاروں سال پرانی ولایت ملتان کی حیثیت کتابوں کی زینت ہو چکی۔ ریاست بہاول پور کی تاریخ عباسی خاندان تک محدود کر دی گئی۔ کسے یاد ہے کہ یہاں ہاکڑہ تہذیب صدیوں زندہ رہی۔ جنوبی پنجاب کو صرف انتظامی اقدامات یا انتظامی بنیادوں پر الگ صوبے کی ہی ضرورت نہیں بلکہ اس کی زبان اور کلچر کی خوب صورتی کو قومی سطح پر تسلیم کرنے اور مقامی علاقوں میں زندہ رکھنے کے لیے سرپرستی اور عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔
سرائیکی کے شہرہ آفاق شاعر خواجہ غلام فرید کی ایک خوب صورت کافی پر اختتام ہے:
آ چنوں رَل یار ِ پیلو پَکیاں نی وے
آیاں ِ پیلو چنن دے سانگے
اوڑک تھیّا ں فریدن وانگے
چھوڑ آرام قرار
ہَکّیاں بَکّیا ں نی وے

( وہ آئیں تو پیلو چننے کی خاطر تھیں لیکن فرید کی طرح تیرِ عشق سے ایسی گھائل ہوئیں کہ اپنا آرام و سکون چھوڑ کر نقش حیرت بن گئیں)