ممبئی سے گلی قاسم جان تک
- تحریر امتیاز گورکھپوری
- اتوار 16 / اپریل / 2017
- 6391
ادب سے آؤ کہ غالب کی سرزمین ہے یہ
ادب سے آؤ کہ ہے میر کا مزار یہاں
قومی کونسل برائے فروغ اردو کی چوتھی عالمی کانفرنس کاانعقادبھی بڑے ہی شاندار پیمانے پر کیا گیا ۔ 17 سے 19 مارچ کے دوران اردو کانفرنس کے اجلاس منعقد ہوئے جن میں اٹھارہ ممالک کے نمائندہ ادیبوں اور افسانہ نگاروں نے شرکت کی ۔ اور سامعین ان کے خیالات اور مقالات سے مستفیض ہوئے۔
اس عالمی اردو کانفرنس کا موضوع ’ہندوستان اور بیرون ممالک میں اردو زبان و ادب کا عالمی منظر نامہ‘ تھا۔ اس موضوع پر بیرون ملک سے آئے ہوئے شرکا اور مقامی ادیبوں ، افسانہ نگاروں نے اپنے بہترین افسانے اور مقالے پیش کئے۔ یہ سلسلہ تین دِنوں تک جاری رہا ۔ جن افسانہ نگاروں اور ادیبوں نے اپنے افسانے اور مقالے پڑھے ان میں لندن سے فہیم اختر ، ایران سے وفا یزدان منش اور ایران سے ہی زینب سعیدی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ کینیڈا سے مشہور و معروف شاعر اور داستان گو دانش جاوید نے ایک نہایت ہی پُر کشش اور معنی خیز داستان گوئی کا پروگرام (Mono Act)پیش کیا۔ جسے لوگوں نے بہت سراہا۔
اجلاس کے دوسرے روز آخری پہر ایک مشاعرہ منعقد ہؤا جس کی نظامت کے فرائض ابوظہبی متحدہ عرب امارات سے آئے ہوئے معروف شاعر ظہور الاسلام جاوید نے بخوبی ادا کئے ۔ اس مشاعرہ میں اشفاق احمد، اور شہاب الدین کا تعلق دوحہ قطر سے تھا۔ آپ دونوں نے اپنے کلام بلاغت نظام سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔ ان کے علاوہ چند مقامی شعراء اور شاعرات نے بھی اپنے کلام سے نوازا ۔ خاص طور پر دلّی کے مشہور و معروف شاعر معین شاداب کو بھی لوگوں نے بہت سراہا، اور داد و تحسین سے نوازا۔ اجلاس کا دوسرا دن اس وجہ سے بھی ہمارے لئے بہت اہم رہا کہ اُسی روز مشاعرہ منعقد ہونے سے قبل ہم نے ماہنامہ ’اردو آنگن‘ کے خصوصی شمارہ برائے خواتین کے اجراء کی رسم بیرون ملک سے آئی ہوئی خواتین کے ہاتھوں مکمل کی ۔ ایران کی وفا یزدان منش اور امریکہ کی مشہور و معروف شاعرہ عذرانقوی کے ہاتھوں سے یہ اجرا عمل میں آیا ۔ لندن سے آنے والے مشہور و معروف افسانہ نگار فہیم اختر اور کینیڈا سے تشریف لانے والے مشہور و معروف و داستان گو دانش جاوید نے بھی اس مختصر مگر خوبصورت تقریب کو رونق بخشی۔
اجلاس کے آخری دن مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل حکومتِ ہند جاوڈیکر نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی اور ارد وکے حوالے سے ایک دلچسپ تقریر کی۔ اردو زبان کے فروغ کے لئے اپنی اور حکومت کی جانب سے کئی قیمتی مشورے بھی دیئے اور تعاون کے وعدے بھی کئے۔ اُسی روز آخر میں افسانہ گو کا پروگرام منعقد ہوا، جس میں کئی اچھے افسانے سننے کو ملے۔ اس کے ساتھ یہ سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس اپنے اختتام تک پہنچی ۔ آخر میں قومی کونسل برائے فروغ اردو کے ڈائریکٹر ارتضیٰ کریم اور اُن کی پوری ٹیم کی عمدہ کارکردگی پر اگر انہیں بہت سی دلی مبارکباد اور نیک خواہشات سے نہ نوازا جائے تو یہ ان کے حق میں نا انصافی ہوگی۔ موصوف بذاتِ خود ہر سیشن میں بہ نفس نفیس حاضر رہے اور مہمانوں کی خاطرخواہ دیکھ بھال اور حوصلہ افزائی بھی کی۔ اور اس بات کا پورا خیال رکھا کہ کسی بھی مہمان کو کوئی دقّت پیش نہ آئے۔ یہاں پر اس امر کا تذکرہ بھی ہم پر لازم ہے کہ ہم اس سہ روزہ اجلاس کے دوران بہترین قیام و طعام کے انتظامات کا تذکرہ بھی کریں۔ کونسل کی جانب سے مہمانوں کے لئے بہترین طعام و قیام کا انتظام کیا گیا اور وقفہ وقفہ سے ناشتہ اور چائے بھی پیش کی گئی۔ تاکہ سامعین اور مہمانان کو دورانِ اجلاس راحت کے لمحے نصیب ہوں اور وہ مستعدی سے دوسرے سیشن میں حصہ لے سکیں ۔ ہم قومی کونسل برائے فروغ اردو کے ڈائریکٹر ارتضیٰ کریم کا ایک بار پھر تہہ دل سے شکر یہ ادا کرتے ہیں اور انہیں دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔
اس عالمی کانفرنس کے دوران ترکی سے آنے والے خاقان قیوم جو کہ وہاں کی یونیورسٹی کے اردو کے پروفیسر ہیں اور ان کے ساتھی جناب رجب صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ اس کے علاوہ لندن سے آنے والے فہیم اختر جو ایک مشہور و معروف افسانہ نگار ہیں اُن سے اور زینب سعیدی سے جن کا تعلق ایران سے اور جو ایک مترجم اور اسکالر ہیں اور افسانہ نگاری کرتی ہیں ، ان دودانشوروں سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ساتھ ہی کلکتہ کے معروف افسانہ نگار اور شاعر ڈاکٹر محمد زاہد سے بھی ملاقات ہوئی۔ اُن چند ایام میں مندرجہ بالا تمام حضرات کے ساتھ بہت سی حسین اور یادگار لمحات گزارنے کا شرف حاصل ہوا۔ اور ان چند ایام میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہم لوگ ایک دوسرے کو کافی عرصہ سے جانتے ہیں اور ہم پُرانے شناسا اور دوست ہیں۔
ممبئی شہر کی دوڑتی بھاگتی زندگی سے چند ایّام چراکر اگر دلّی تک کا یہ کامیاب اور پُر سکون ، معلوماتی اور دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت یادگار رہا۔ ہم نے پُرانی دلّی کی خوب سیر کی۔ انواع اقسام کے لذیذ کھانے بھی کھائے۔ نظام الدین اولیاء کے مزار پر حاضری دی غالب کی حویلی جو گلی قاسم جان میں واقع ہے، وہاں بھی کچھ قیمتی لمحات گزارے اور جیسے ہی حویلی میں داخل ہوئے انہی کا ایک شعر برجستہ زبان پر آگیا کہ :
وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
اور گویا غالب صاحب ہم سے یوں کہہ رہے ہوں:
ہے خبر گرم اُن کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
ہم نے ان کے مزار پر حاضری دی، جیسے ہی ہم وہاں پہنچے ایک شعر پھر ذہن پر دستک دینے لگا:
ہوئے ہم جو مرکے رسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
دلّی کی بہت سی حسین اور دلچسپ یادوں کو اپنے دل میں سمائے ہم اپنے شہر جسے عروس البلاد کہئے یا مایا نگری، بخیر و عافیت واپس آئے۔