گائے کو نہیں عورت کو تحفظ چاہئے

ہم کسی کے مذہبی عقیدے کی ہتک یا توہین کرنے یا اس کے بارے میں منفی تبادلہ خیال کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔  حالانکہ  آج دنیا آزادی اظہار کو بھرپور طریقے سے استعمال کر رہی ہے،  اس پر روشنی ڈالنے کی  ضرورت نہیں ہے ۔ یہ  آزادی اظہار استعمال بھی ہمارے ہی خلاف ہو رہی ہے۔ بلکہ ہمارے پیارے نبی ﷺ اور تمام انسانیت کےلئے رحمت العالمین کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

ہم ایک ایسے نبی ﷺ کے امتی ہیں جنہوں نے سارے مذاہب کا احترام کرنے کا درس دیا اور آپ ﷺ کی ساری تعلیمات  حسنِ سلوک کے درس پر مبنی ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ دنیا کے کسی فرد سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اکیسویں صدی میں جب سائنس اور ٹیکنالوجی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے تو بھی آپ ﷺ کی تعلیمات ہی مشعل راہ رہیں گی۔

بھارت  دنیا میں میڈیائی ترقی کی دوڑ میں بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اس ملک کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے اور یہ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر ریاست کہلواتا ہے۔ جبکہ ایک اندازے کے مطابق اسی (80٪) فیصد  لوگ ہندو مذہب کو ماننے والے اس ملک کے رہائشی ہیں۔  وہاں  ہر ہندو مذہبی تہوار  زور و شور سے منایا جاتا ہے۔  بلکہ اکثریتی گروہ اقلیتی مذاہب کو خوفزدہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔  اس سیکولر ملک کا ہر چلتا پھرتا فرد مذہبی دیکھائی دیتا ہے اور گمان یہ کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ سیکولر ہیں۔ ان کے سیکولر ہونے کی ایک دلیل یہ تو ضرور ہوسکتی ہے کہ ان کے ملک میں عورت سے کہیں زیادہ گائے اہم ہے۔ عورت کو صرف تسکین نفس کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ گائے کی  عبادت کی جاتی ہے۔

عورت  کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی سمجھی جاتی ہے اگر معاشرہ اس ہستی کی عزت اور احترام سے عاری ہے تو پھر معاشرہ تنزلی کی جانب رواں دواں ہوگا۔  اسلام نے عورت کو اعلیٰ مرتبہ اور مقام دیا ہے جو دوسروں کے لئے بھی نمونہ بن سکتا ہے۔  لیکن بھارت میں عورتوں کے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں کے واقعات میں افسوسناک حد تک  اضافہ ہو رہا ہے۔  حیرت ہے بھارت میں گائے کے تحفظ کے لئے تو انسانوں کو مار دیا جاتا ہے لیکن عورتوں کی حفاظت اور ان کا احترام کرنے کا رویہ کم ہو رہا ہے۔

بھارت کی اداکارہ  اور سیاست دان نے ایک بیان میں کہا ہے  کہ " گائے کو نہیں عورت کو تحفظ فراہم کرو"۔  ان کا یہ بیان بھارت کے معروضی حالات میں وقت کا تقاضا ہے اور بھارتی لیڈروں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔