پاک بھارت تعلقات کی پیچیدگیاں
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 17 / اپریل / 2017
- 5315
پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بہتری میں سب سے اہم رکاوٹ دونوں اطراف پائی جانے والی بداعتمادی کی فضا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں طرف سے موجود ڈیڈ لاک دو طرح کے مسائل پیدا کررہا ہے ۔ اول مستقل بنیادوں پر ڈیڈ لاک کی کیفیت کو مضبوط کرنا اور دوئم پہلے سے موجود مسائل، مشکلات، تعصب اورالزام تراشیوں پر مبنی سیاست کو طاقت فراہم کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ اگرچہ پاکستان نے پچھلے کچھ عرصہ میں بھارت سے بہتر تعلقات میں کئی قدم اٹھائے ہیں لیکن بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت اس میں کوئی بڑی پیش رفت یا آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں ۔ حال ہی میں کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے فیصلے پر جو ردعمل بھارت کی طرف سے آیا ہے، وہ بھی مستقبل میں بہتر تعلقات میں رکاوٹ پیدا کرے گا۔
بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے راجیو سبھا اور لوک سبھا میں جو خطاب کیا ہے وہ بھارت کے سخت ردعمل کو ظاہر کرتا ہے ۔ ان کے بقول کلبھوشن بھارت کا بیٹا ہے ، اس کو بچانے کے لیے بھارت آخری حد تک جائے گا ۔ وکلا کی خدمات حاصل کی جائیں گی، صدر پاکستان سے رابطہ کیا جائے گا ، سزا پر عملدرآمد سے دو طرفہ تعلقات خراب ہوں گے ، اس سزا پر عملدرآمد کو عملی طو رپر بھارتی شہری کا قتل سمجھا جائے گا۔ اسی طرح لوک سبھا میں اس سزا کے خلاف ایک مذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی ہے ۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کو ہر سطح پر کلبھوشن کی سزا پر گہری تشویش ہے ۔ اور وہ اس کے خلاف بہت آگے تک جاسکتا ہے ۔ بھارت کے میڈیا پر بھی جو سخت گیر انداز اختیار کیا گیا ہے وہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کے ہمیں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ بھارت آنے والے دنوں میں اس واقعہ کو بنیاد بنا کر پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذ دونوں اطراف سے سخت ٹائم دے گا ۔
بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت بھارت کی سیاسی قیادت مجموعی طو ر پر سیکولر بھارت سے نکل کر ہندوتوا پر مبنی ریاست یا بھارت کے نقش قدم پر چل رہی ہے ۔ نریندر مودی کی حکومت نے داخلی سیاست میں بہت اچھے کام کیے ہوں گے لیکن اس وقت وہ بھارت کی سیاست میں ایک سخت گیر ہندوانہ کی سیاست کے علمبردار بن گئے ہیں ۔ ان کے خیال میں بھارت کی ترقی کا انحصار سیکولر سیاست سے نہیں بلکہ ہندوتوا پر مبنی سیاست سے جڑا ہوا ہے ۔ بھارت کی اس وقت کوشش ہے کہ وہ سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پرہر طرح کا فورم استعمال کرکے اور دوست ممالک کی مدد سے کلبھوشن بچاؤ مہم جوئی کو طاقت دے۔
بھارت کو اگر کلبھوشن کو ملنے والی سزا پر اعتراض ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی جائے اس میں بھی سیاسی ، قانونی جواز فہم ہونا چاہیے ۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اس مسئلہ کا حل پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیوں، الزامات اور پاکستان کو نقصان پہنچانے سے جڑ ا ہوا ہے تو یہ اس کی غلط حکمت عملی ہوگی۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سمیت ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاکستان کے داخلی استحکام کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کی بلوچستان اورکراچی میں مداخلت ہے ۔ پاکستان کے بقول اس کے تمام شواہد بھی ہم عالمی سطح سمیت بھارت کو بھی فراہم کئے جا چکے ہیں ۔ ایسے میں اگر کلبھوشن کی گرفتاری ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں شواہد کی بنیاد پر ان کی سزا کا فیصلہ ہوتا ہے تو اصولی طور پر تو بھارت کو اس معاملے میں خود تعاون کرنا چاہیے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا جب خود بھارت کی ریاست یا حکومت اس فیصلے میں شفاف ہوتی ۔ یہ شواہد موجود ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی کا گٹھ جوڑ پاکستان دشمنی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے سے جڑا ہوا ہے ۔
جہاں تک فوجی عدالت سے کلبھوشن کی سزائے موت کا تعلق ہے تو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس مجرم کو فوجی قواعد وضوابط اور آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ گرفتاری کے وقت بھارت کی بحریہ کا افسر تھا اور را کے لیے کام کرتا تھا ۔اس بات کا انکشاف کلبھوشن نے دوران تفتیش کیا ہے ۔ اس لیے فوجی عدالت میں مقدمہ چلانا اور سزا دینا مسلمہ عالمی اصولوں کے عین مطابق ہے ۔ ویسے بھی ہماری سیاسی قیادت نے دو سال کے لیے فوجی عدالتوں میں توسیع کی ہوئی ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف غیر معمولی اقدام کے عمل سے گزررہے ہیں ۔ بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ کلبھوشن کے الزامات کو مانتا ہے تو اس سے اس کی داخلی اور خارجی دونوں محاذ پر خاصی سبکی ہوگی ، جس کے لیے وہ تیار نہیں ۔
کچھ دن قبل امریکہ کی جانب سے پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں ثالثی کی پیشکش سامنے آئی لیکن بھارت نے اس کو بھی کچھ سوچے سمجھے بغیر ہی رد کردیا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر بھارت اور پاکستان نے بہتری کی جانب آگے بڑھنا ہے تو اس کی پہل کیسے ہوگی اور کون اس کی ابتدا کرے گا۔ بھارت کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ پاکستان اس وقت خود داخلی محاذ پر انتہا پسندی و دہشت گردی سے نمٹنے کی بڑی جنگ لڑرہا ہے ۔ اس جنگ کی اہمیت داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ہے ۔ ایسے میں بھارت کا یہ الزام کے پاکستان کی ریاست خود دہشت گردوں کی سرپرستی کرتی ہے ، حقیقت پر مبنی نہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان سے ماضی میں کافی غلطیاں ہوئی ہیں اور ان غلطیوں کا ہمیں بڑا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے لیکن یہ اعتراف بھی کیا جانا چاہیے کہ کافی حد تک اب ہماری ریاست سمیت دیگر فریقین کو اپنی غلطیوں کا احساس بھی ہے۔ وہ اس کا ازالہ بھی کرنا چاہتی ہے ۔
اس لیے نریندر مودی ، سشما سوراج ، سبرا مینیم سوامی ، راج ناتھ سنگھ اور سخت ہندو قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے خلاف الزام تراشیوں کی سیاست سے خطہ کی سیاست میں استحکام پیدا نہیں ہوگا۔ بھارت کے موجودہ طرز عمل نے پاکستان میں موجود ان طبقوں کو بھی سخت مایوس کیا ہے جو پاکستان میں بیٹھ کر بھارت سے بہتر تعلقات استوار کرنے کے لیے ریاست اورحکومت پر دباو ڈالتے تھے ۔ اس دباؤ کے عوض میں ان لوگوں کو بھارت نواز ہونے کا خطاب ملتا تھا لیکن اب یہ لوگ بھی موجودہ بھارتی قیادت کے طرز عمل سے خاصے نالاں نظر آتے ہیں۔ اور ان کے بقول مودی قیادت نے امن کے امکانات کو اور زیاد ہ محدود کردیا ہے ۔
یہ بات بجا ہے کہ پاکستان دشمنی کا ایجنڈا پورے بھارت کا نہیں بلکہ اس کے مقابلے میں وہاں بھی ا یسے لوگ اور جماعتیں بھی موجود ہیں جو مودی سرکار کی انتہا پسندی کو خود ملکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں ۔ لیکن اس ہندوتوا کی سیاست اور میڈیا پر پاک دشمنی کے ایجنڈے میں یہ آوازیں پیچھے رہ گئی ہیں ۔ اب تو ایک قدم آگے بڑھ کر بھارت کے آرمی چیف کے بقول وہ پاکستان کے خلاف فوری اور تباہ کن حکمت عملی پر مشتمل ’’ ڈاکٹرئن کولڈ اسٹارٹ‘‘ کا آپشن بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ یعنی وہ جنگ میں پہل کا آپشن ہوگا۔
پاکستان کو موجودہ صورتحال میں زیادہ سنجیدگی اور تدبر پر مبنی پالیسی اختیار کرنی چاہیے ۔ ہمیں جذبات سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ہم بھی بھارت کی جذباتی سیاست کا شکار ہوکر وہی کچھ کریں جو بھارت کررہا ہے تو یہ عقلمندی نہیں ہوگی ۔ ہمیں اپنے ملک میں اور ملک سے باہر لوگوں کو سفارتی اور ڈپلومیسی کی مدد سے یہ باو رکروانا ہے کہ کلبھوشن کی پھانسی سیاسی نہیں قانونی اور عدالتی فیصلہ ہے ۔ اسی طرح اب ہمیں بھارت کی مخالفانہ مہم کے مقابلے میں خود ایک ایسی مہم کی ضرورت ہے جو ہر سطح پر لوگوں کو باور کرواسکے کہ کلبھوشن یا دیگر افراد اس ملک میں دہشت گردی کو تقویت دے رہے ہیں ۔ یہ کام سیاسی نعروں ، جذباتی تقریروں سے نہیں بلکہ ٹھوس شواہد اور حقائق کی بنیاد پر اختیار کی جانے والی ڈپلومیسی سے ممکن ہے ۔ پاکستان کی عسکری قیادت نے حالیہ کورکمانڈر کانفرنس کے اعلامیہ میں واضح کردیا ہے کہ وہ کسی بھی طور پر کلبھوشن یادیو سمیت ریاست مخالف سرگرمیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کا جو داخلی بحران ہے یا جو ہم سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر سنگین غلطیاں کرتے ہیں ، ایسے میں کیا ہماری سیاسی قیادت وہ فہم اور تدبررکھتی ہے کہ وہ بھارت کی اس جنگی جنون کا مقابلہ کرسکے۔ اور سفارتی محاذ پر دنیا کو یہ باور کرواسکے کہ بھارت کا موجودہ طرز عمل پاک بھارت تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اور ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔