تنہا رات رلاتی ہوگی
- تحریر سید شاہد عباس
- منگل 18 / اپریل / 2017
- 5761
پر آشوب دور میں لفظوں میں جذبات کہنے کا فن یقیناًایک ایسی صلاحیت ہے کہ معاشرہ تعمیری جہتیں پا سکتا ہے۔ برداشت کا معاشرے میں سے مفقود ہوتا ہوا پہلو، اور خون ارزاں ہوجانالمحہ فکریہ ہیں۔ مگر ان سخت حالات میں اپنے لفظوں سے معاشرے کی اصلاح کے ساتھ ساتھ رویوں کی درستگی کا بیڑا اُٹھا لینا کسی بھی طرح سے عام فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس پہ مستزاد یہ کہ شاعری کی صنف کو اس مقصد کے لیے چن لینا اپنی ذات میں خود ایک نہایت دشوار گزار راستہ ہے۔ جس پہ چلنے سے یہ خطرہ بھی رہے کہ کانٹے بھی چبھ سکتے ہیں۔ آبلے رِس بھی سکتے ہیں۔ اور مشکلات کا ایک پہاڑ ہو گا جو اوپر گرنے کو بیتاب ہو گا۔ مگر اس کے باوجود اپنا مقصد نہ چھوڑنا یقیناًہمت والوں کا کام ہے۔ اور ڈاکٹر لبنیٰ عکس کا شمار انہی لکھاریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے شاعری سے نہ صرف اصلاح کا بیڑا اٹھا لیا بلکہ رومانویت کو بھی ایک نئی جہت سے روشناس کروایا۔
"عکس درعکس" کی صورت صاحب کتاب ہونے اور اس کے بعد ایک نہ رکنے والے سلسلے کی مسافر بن کر لفظوں سے جادو جگاتے رہنا نامساعد حالت میں یقیناًایک کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کے لیے آگے بڑھنا مشکلات سے بھرا سفر ہے:
تنہا رات رلاتی ہوگی
یاد وطن کی آتی ہو گی
جس سادگی اور نفاست سے شاعرہ نے پردیسیوں کے دکھ اور کرب کو چند لفظوں میں سمیٹ دیا ہے ایسا کرنا کسی عام لکھاری کے بس کی بات نہیں ہو سکتی ۔اُن کی ایک اور غزل کا شعر ہے:
ویرانی دل میری اس درجہ بڑھ گئی ہے
اس شہر خموشاں میں بستا ہی نہیں کوئی
اس کمال سے انہوں نے رومانویت اور موجودہ حالات کو ایک جگہ اکٹھاکر دیا ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک طرف یہ شعر رومانوی لحاظ سے مکمل ہے اور کچھ گہرائی میں اسی شعر کو پرکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس شعر میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ موجودہ حالات کی بے حسی پہ لب کشائی کی گئی ہے:
زمانے کی فکروں کو ٹھوکر لگا کے
بہت ہو چکی اب میں آگے بڑھوں گی
میں انگلی پکڑکے کہاں تک چلوں گی
بہت ہو چکی اب میں آگے بڑھوں گی
ایک عورت ہی ایک عورت کا دکھ اور سکھ سمجھ سکتی ہے۔ ان الفاظ میں ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے لفظوں میں معاشرے میں پسی ہوئی عورت کی کچھ ایسے ترجمانی کی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چند لفظوں میں انہوں نے محروم ہوئی عورت کی ہمت کی داستان بیان کر دی ہے۔ ا ن لفظوں میں معاشرے میں عورت کی مضبوطی اور اس کے ارادے کی پختگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ کہ عورت کسی بھی طرح کمزور نہیں ہے اور وہ اگر کچھ کرنے کی ٹھان لے تو کوئی چیز اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔
ڈاکٹر لبنیٰ عکس طب کے شعبے سے وابستہ ایک پروفیشنل ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ شاعرہ ہیں۔ ان کے لفظ اس مشکل دور میں معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار حصہ بقدرجثہ کی صورت ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کو ڈاکٹر صاحبہ جیسے بہت سے لوگوں کی اشد ضرورت ہیں۔ کیوں کہ یہی لوگ ہمارے معاشرے سے ناپید ہوتے برداشت کے عنصر کو واپس لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ بلاشبہ ایک ایسی ہستی ہیں جنہوں نے اپنے لفظوں میں معاشرے کی فلاح کو پیش نظر رکھا ہے۔ وہ چونکہ طب کے شعبے سے وابستہ ہیں تو ان کے لفظوں میں انسانیت کا درس ہمیں مستقل معنوں میں دکھائی دیتا ہے۔ وطن عزیز کی حالت پہ ان کے چند الفاظ:
کہ تم بھی آج سے اس شہر کے بوسیدہ پنجر ہو
شہر ایسا کہ جس میں اُداسی راج کرتی ہے
چلو آؤ تمہارے لیے بھی پوشاک رکھی ہے
جو پنجر کو چھپاتی ہے مگر سر کو جھکاتی ہے
ان کی ایک نظم کا عنوان ہی اس قدر درد پیدا کر دیتا ہے کہ شاعری میں کیا سوز ہو گا۔ "لاش نئی پھر گھر آئی ہے " ایک لمحہ بند آنکھوں سے ان کی نظم کا عنوان دوہراتے ہوئے ہی دل میں اک ٹیس سی اٹھتی ہے جو اس بات کی غماز ہے کہ وہ منفرد لہجے، زندہ لفظوں والی ایک ایسی شاعرہ ہیں جن کے ایک ایک لفظ میں درد اور اثر موجود ہے۔