مشعال خان کو کس نے مارا

پچھلے دنوں عبدالولی خان یونیورسٹی میں جو المناک واقعہ پیش آیا ہے، وہ کسی مہذب معاشرے میں پیش آیا ہوتا تو پورا ملک اور پورا معاشرہ ہل کر رہ جاتا۔ اور اس ملک کے ارباب اختیار اور سارے دانشور سر جوڑ کر بیٹھ جاتے اور ہر ممکن کوشش کرتے کہ ایسا سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ لیکن میں قربان جاؤں اپنے ارباب اختیار اور دانشوروں پر جن کے سامنے بالکل ایسے ہی اور اس سے بھی بڑے کئی سانحات گزر چکے ہیں اور یہ اپنی روش قائم رکھے ہوئے ہیں۔

اب  ہماری کاروائیاں ملاحظہ ہوں۔ حکومتی زعماء حسب عادت مذمت کرتے ہیں اور واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہیں، افسوس کا اظہار کرتے ہیں، شاید متاثرین کی کچھ مالی امداد بھی کریں گے۔ اور یہ فرماتے ہیں کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔  (حالانکہ آج تک کسی نے بھی قانون ہاتھ  میں لینے یا اپنی عدالت لگانے سے پہلے کبھی حکومت سے اجازت طلب ہی نہیں کی ہے) سپریم کورٹ نے بھی حسب معمول ازخود نوٹس لے لیا ہے اور 36 گھنٹے میں رپورٹ بھی حاصل کر لی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کی مذمت بھی جاری ہے اور ہر کوئی مرنے والے کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔ اور کچھ کا خیال یہ بھی ہے کہ مشعال خان کو مارنے سے پہلے صفائی کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ میں قربان جاؤں ان دانشوروں کے جو اس واقعہ کی مذمت کے ساتھ ساتھ کسی حد تک اس واقعہ میں ملوث افراد کے حق کا بھی خیال رکھنا چاہتے ہیں۔ یا یوں سمجھئے کہ ایسے واقعات کا جواز تراشنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

ایک انتہائی معتبر (پاکستان کے) کالم نگار نے تو یہاں تک بھی لکھ دیا ہے کہ چونکہ حکومت اور عدالتیں ایک آمر کے بنائے ہوئے قانون پر پوری طرح عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی ہیں، جس کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اب میں اپنی سول سوسائٹی کی کیا بات کروں، وہ تو ہمیشہ کی طرح خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ان کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ 2013 کے انتخابات کے موقعہ پر کسی نے ان سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدے پر ووٹ حاصل کیے تھے اور 4 سال گزرنے کے بعد لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کر دیا ہے ایک بار پھر میں قربان ان دانشوروں پر جو یہ لکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میاں برادران بہت ہوشیار ہیں اور انہوں نے بجلی اس لیے چھپا رکھی ہے کہ وہ عین الیکشن کے موقع پر بجلی سامنے لا کر لوگوں کو سرپرائیز دیں گے ۔

خیر بات ہو رہی تھی ہمارے عوام کی۔ ان کی تو یہ حالت ہے کہ ان پر سے شدید سردی میں کوئی لحاف یا کمبل اتار کر لے جائے تب بھی وہ اس وقت تک خاموش رہتے ہیں جب تک کوئی عمران خان آکر ان کو یہ نہ بتائے کہ آپ ننگے ہو چکے ہیں۔ عوام بیچارے تو اس مخمصے سے ہی نہیں نکل پاتے کہ ایسے واقعات میں مذمت کس کی کرنی ہے  (ممتاز قادری کے واقعہ کو یاد کریں)۔ اس ملک میں کوئی سچ کیسے بول سکتا ہے۔ کوئی سوال کیسے کر سکتا ہے۔ کوئی اپنے خیال سے سوچ کیسے سکتا ہے۔ یہاں کوئی سچی گواہی کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ یہاں تو ہر گلی کی نکڑ پر منصف اپنا اپنا انصاف لیے بیٹھے ہیں۔ جیسے ہی کسی نے اپنے ذہن یا سوچ کے مطابق بات کی جو ان منصفوں کے خیال سے متصادم ہوئی تو عدالت بھی تیار اور جلاد بھی حاضر۔

اب اگر کوئی حکومت ملک میں اپنی عملداری قائم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو اس سے بڑا کوئی مذاق ہو ہی نہیں سکتا۔ آج ایک طرف حکومت اور فوج انتہا پسندی کے خلاف برسر پیکار ہیں تو دوسری طرف انتہا پسندوں کے دوست بھی ہیں اور ایسے کسی بھی معاملہ میں زبان کھولنے کی جرات نہیں کرتے جو انتہا پسندوں کے ایجنڈے سے متصادم ہو۔ ایک طرف ہر کوئی جمہوریت جمہوریت پکار رہا ہے اور آمروں کو برا بھلا کہنے میں سبقت لینے کی کوشش کی جاتی ہے تو دوسری طرف آمروں کے بنائے ہوئے قوانین کو ختم کرنے کا نام بھی نہیں لیتے۔ اور جن قانون سازوں نے آمروں کو قوانین بنانے میں مدد کی تھی، وہ آج بھی حکومت اور اپوزیشن میں  براجمان ہیں۔ پھر ہم کیوں کر یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ آئیندہ سے ایسا کوئی سانحہ پیش نہ آئے گا۔  جو سیاستدان اور دانشور یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مشعال خان بے گناہ تھا ان سے میرا سوال یہ ہے کہ اگر وہ گنہگار ہوتا تو پھر کیا اسے ایسے  مارنا جائز تھا۔  پھر آپ کس بنیاد پر اس کی بے گناہی یا قصور وارہونے کی بات کر رہے ہیں۔

اگر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہے، اگر کوئی مذہب کے حوالے سے سوال کرنا چاہے، اگر کوئی اپنی سوچ ظاہر کرنا چاہے جو اکثریت کے خیالات یا عقائد سے متصادم ہو، تو کیا وہ ایسے ہی سلوک کا مستحق ٹھہرے گا جس کا حقدار مشعال خان کو ٹھہرایا گیا تھا۔  ذرا سوچئے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں اور یہاں تک لانے میں بڑا کردار کس کا ہے۔ کیا 1980 سے پہلے بھی ایسے واقعات اور سانحات پیش آتے تھے۔  کیا تب کوئی نورین لغاری میڈیکل کالج سے بھاگ کر جنگجو یا خود کش بمبار بننے کی کوشش کرتی تھی۔  کیا تب بھی کسی نے توہین رسالت، توہین قرآن یا توہین مذہب ہوتے دیکھے تھے یا ایسا کوئی واقعہ سنا تھا۔   کیا تب بھی کوئی جہاں چاہے کسی کو کافر قرار دے کر قتل کرتا تھا۔ کچھ یاد آیا کہ ان سانحات کا ذمہ دار کون ہے۔ چلو کسی کو یاد آئے یا نہ آئے لیکن اب ایسے سانحات سے نجات کیسے ممکن ہے اس پر تو سوچا جا سکتا ہے نا!

عام طور پر ہمارے مذہبی رہنما یہ کہہ کر کہ ایسے واقعات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے، بات ٹال دیتے ہیں۔   لیکن صاحب اب تو بات مدرسوں سے نکل کر ہماری یونیورسٹیوں تک جا پہنچی ہے اور اس میں ملوث طلباء خالص مومن ہیں۔ بلکہ بات صرف طلباء تک محدود نہیں رہی بلکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ بھی اس میں شامل ہے۔ اب پھر ذرا سوچئے کہ ایسے سانحات کی روک تھام  کی طرف پہلا قدم کون اٹھائے گا اور اس کا انجام کیا ہوگا ۔ یہ کام وہی کرے گا جو اپنے انجام سے صرف نظر کرنے کی جرات رکھتا ہوگا۔ اگر حکومت، اپوزیشن، اعلی عدالتیں یا فوج ایسے سانحات کی روک تھام چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ان کو لوگوں کی سوچ سے پہرے ہٹانے ہوں گے۔ اپنے ملک کے نصاب کو بدلنا ہوگا اور ان کو دور حاضر کے مطابق بنانا ہوگا۔ مساجد کے اندر پڑھے لکھے لوگوں کو ذمہ داریاں سونپنا ہوں گی اور ان کے بیانیے کو اپنے قومی بیانیے کے تابع بنانا ہوگا۔ (بشرطیکہ ہمارا کوئی قومی بیانیہ ہے تو ) ۔ تمام مدرسوں کو قومی تحویل میں لے کر ایک قومی بیانیہ اور اسلام کی روح کے مطابق نصاب تعلیم ایک کرنا ہوگا۔ کشمیر اور فلسطین کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے والوں پر پابندی لگانا ہوگی اور یہ کام حکومت کے زیر انتظام کسی ادارے کے سپرد کرنا ہوگا یا حلال احمر جیسی کسی بین الاقوامی تنظیم کع دینا ہوگا۔

سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے مخصوص گروپوں کی اجارہ داری ختم کرنا ہوگی۔ لوگوں کو اپنی وضع قطع اپنی مرضی سے بنانے کی اجازت دینا ہوگی (بشرطیکہ وہ اخلاقیات کے دائرے میں ہو)۔ حکمرانوں کو سچ بولنا ہوگا اور عوام کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جھوٹ پر مبنی چونچلے کرنے کی بجائے حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ ملک بھر سے فرقے بندیوں کی بنیاد پر جھگڑوں کو مکمل طور پر ختم کرکے ہر کسی کو اس کے عقیدے اور سوچ کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا پورا حق دینا ہوگا۔ مساجد میں اللہ کی عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کی تربیت دینا ہوگی۔ لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف اس طرح ڈالنا ہوگا کہ وہ روز مرہ کے معاملات میں ایمانداری کا مظاہرہ کریں۔ لوگوں کو ایسی تعلیم دینا ہوگی جس سے وہ یہ سمجھ سکیں کہ سر پر ٹوپی پہننے یا ہاتھ میں تسبیح پکڑنے سے زیادہ نیکی سچ بولنا، پورا تولنا، ملاوٹ نہ کرنا، لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آنا اور حقوق انسانی کا خیال رکھنے میں ہے۔

آج ہر گھر میں انتہا پسند موجود ہیں تو پھر یہ کیوں کر ممکن ہوگا کہ ہم عبدالولی خان یونیورسٹی جیسے اور جامشورو میڈیکل یونیورسٹی جیسے واقعات کی روک تھام کر سکیں۔ میں ذاتی طور پر کسی نہ کسی طرح اپنی سول سوسائٹی کو جگانے کی کوشش کر رہا ہوں اور یہ جان کر افسوس ہوتا ہے کہ نہ صرف لوگ سوئے ہوئے ہیں بلکہ ان کی سوچ بھی سو چکی ہے اور ضمیر بھی مر چکے ہیں۔ ہر کوئی اپنی ذات میں گم ہے اور ذاتی مفادات کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ اسی لئے میں یہ کہتا ہوں کہ پاکستان میں اس وقت سب سے بڑی برائی ذاتی مفادات ہیں اور کوئی بھی اس سے نکلنے کی کوشش کرتا نظر نہیں آتا ۔

میری اپنے تمام دوستوں اور پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ پوری طرح غور کریں کہ کہیں وہ بھی عبدالولی خان یونیورسٹی کے سانحہ کے ذمہ دار تو نہیں۔ کیا وہ بھی صرف اپنی ذات تک محدود تو نہیں ہیں۔ کیا وہ سوسائٹی کا درد محسوس کرتے ہیں۔ کیا آپ کوئی ایسا عمل کر رہے ہیں جس سے معاشرے میں بہتری کی امید پیدا ہو۔ اگر نہیں تو برائے مہربانی دوبارہ سوچیے اور اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیجئے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔