تعلیم سے گریز، مسلمانوں کی بے حسی کا شاخسانہ
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 19 / اپریل / 2017
- 5766
سب سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ دنیائے اسلام یا امہ یا مسلم ممالک یا جو بھی آپ کہیں، میں صرف 498 یونیورسٹیاں ہیں جبکہ امریکہ میں 5758 ، ہمارے ہمسائے اور ’’دشمن‘‘ نمبر ایک بھارت میں امریکہ سے بھی زیادہ یعنی 8500 یونیورسٹیاں ہیں۔ دوسری طرف ڈیلی ٹائمز کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 285 مذہبی جماعتیں اور پارٹیاں کام کر رہی ہیں جن میں سے 28 سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہیں جبکہ 124 نے اپنا ٹارگٹ جہاد بنا رکھا ہے۔
مسلم ممالک میں شرح خواندگی 25 سے 28 فیصد کے درمیان ہے اور بعض ملکوں میں تو محض دس فیصد تک ہے ان کی تعداد 25 ممالک کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ ایک بھی مسلم ملک میں شرح خواندگی سو فیصد نہیں ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق او آئی سی میں 76 مسلم ملک شامل ہیں اور ان میں بین الاقوامی سطح کی محض پانچ یونیورسٹیاں ہیں یعنی تیس لاکھ مسلمانوں کےلئے ایک یونیورسٹی۔ جبکہ امریکہ میں 6 ہزار، جاپان میں نو سو پچاس، چین میں نو سو اور بھارت میں 8500 نجی و سرکاری یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں۔ ادھر پوری دنیا میں یہودیوں کی تعداد ایک کروڑ چالیس لاکھ ہے اور مسلمان سوا ارب، یعنی ایک یہودی سو مسلمانوں کے برابر ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک یہودی سو مسلمانوں پر بھاری ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں 71 یہودیوں کو تحقیق، سائنس اور ادب کے شعبے میں نمایاں خدمات کے عوض نوبل انعام مل چکا ہے جبکہ مسلم دنیا میں صرف تین افراد یہ انعام حاصل کر سکے ہیں۔ یہاں تک کہ ’’کنگ فیصل انٹرنیشنل فاؤنڈیشن سعودی عرب‘‘ جو کہ ایک مسلم آرگنائزیشن ہے کی جانب سے دیئے جانے والے کنگ فیصل ایوارڈ کےلئے میڈیکل سائنس اور تحقیقی وادب کے شعبے میں کوئی ایک امیدوار بھی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ کیا یہ بات نیل کے ساحل سے لےکر تابخاک کاشغر کے مسلمانوں کےلئے باعث شرم و ننگ نہیں ہے کہ ڈیڑھ کروڑ ’’خدا کے دھتکارے ہوئے‘‘ یہودی ہر میدان میں پیش پیش ہیں۔
22 عرب ممالک بھی مل کر اسرائیل کی ایک اینٹ نہیں اکھاڑ سکے نہ سائنس میں، نہ تحقیق و ریسرچ میں، نہ میڈیکل میں اور نہ ہی بے تیغ یا باتیغ سپاہی کے طور پر۔ اس کے برعکس سوا ارب سے زائد مسلمان اختلاف و انتشار اور فتنہ و فساد میں حرفِ آخر ہیں۔ اسلام کی ترقی یا اسلام کے کارگر ہونے یا اسلام کےلئے کوئی نظام چیلنج نہ ہونے یا دنیا تیزی سے اسلام کے قریب یا مشرف بہ اسلام ہوتی جا رہی ہے کی خوش فہمی، یا اسلام کے نظام تعلیم میں ترقی پانے یا اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے یا تقویٰ و خوف خدا کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں سے میرا سوال ہے کہ کیا مغرب کی جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے بغیر مسجد الحرام میں 30 لاکھ افراد کے بیک وقت نمازیں پڑھنے کا عمل ممکن ہو سکتا تھا۔ حرم شریف میں بجلی کا جدید نظام، آسمان کو چھوتی عمارتیں، کیا یہ سب اسلامی تعلیمات کی وجہ سے عالم وجود میں آیا۔ یہ سب مغربی تعلیم اور عیسائی یا یہودی سائنس دانوں کی برکت سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔ درجنوں منزلوں پر لاکھوں نمازیوں کو چند لمحوں میں لے جانے والے Escalaters (معاف کیجئے گا میرے پاس اس کا اردو متبادل نہیں ہے) جو ہیں وہ ’’مومنوں‘‘ کی ایجاد نہیں ہیں، حرم میں بہترین قسم کا ساؤنڈ سسٹم ہے جس سے حرم شریف اور اس کے اطراف کی درجنوں بلڈنگوں میں واقع ہزاروں کمروں میں بھی امام کی آواز واضح سنائی دیتی ہے۔ یہ ساؤنڈ سسٹم بھی خدا کے مقرب مسلمانوں کی ایجاد نہیں ہے، یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ وہی ساؤنڈ سسٹم ہے جس کی ایجاد پر حرم شریف سے ہی ’’حرام‘‘ کا فتویٰ جاری کیا گیا تھا۔ اللہ اللہ.....
عالمی سطح پر تعلیمی میدان میں مسلمانوں کا تناسب 6.3 فیصد ہے اور اسی عالمی سطح پر مسلمان دوسری قوموں سے 85 سال پیچھے ہیں۔ جب ساتویں صدی میں تاتاریوں نے حملہ کیا تو ہم سے ایک بھیانک غلطی ہو گئی ہم نے دینی علوم کو عصری و جدید علوم کے مقابل لا کھڑا کیا۔ وہیں سے علم دوستی جاتی رہی اور آج ہم 700 سال پیچھے چلے گئے۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ پھر ہمارے ’’عہد عروج‘‘ میں کیا تھا۔ جواب ہے غلام تھے، لونڈیاں تھیں، ہاتھ کاٹنے کی سزا تھی، سنگسار تھا، مال غنیمت تھا، متعہ تھا، سازشوں کا انبار تھا، قبائلی روایات تھیں، غیر جمہوری اقدار تھیں، تین خلفاء کی ’’شہادت‘‘ تھی، کیا نہیں تھا۔ کیا یہی مکمل اور جامع سیاسی و مذہبی حکومت تھی۔ اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمرا کی باقیات کے سوا اسلام کے پیروکاروں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا۔ یہی حال سونے کی چڑیا ہندوستان کا ہے یہاں بھی آگرہ کا تاج محل، دلی کا لال قلعہ اور لاہور کی جامع مسجد وغیرہ وغیرہ کے سوا مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت اور اس کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔
تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کا زوال 1350 کے بعد تیزی سے ہوا۔ مسلم سلاطین و شہنشاہوں میں ایک بڑی کمی یہ تھی کہ انہوں نے تعلیم گاہوں کی جانب کوئی توجہ و دھیان نہ دیا نہ ہی اتنے مدرسے، اسکول، یونیورسٹیاں اور تجربہ گاہیں بنائیں جیسی کہ دوسری قوموں نے اور نہ ہی تعلیم کو وہ اہمیت دی جو کہ دی جانی چاہئے تھی۔ دوسری طرف نصرانی، یونانی اور طورانی وغیرہ علوم سے فیض یاب ہوتے رہے اور یہی نہیں بعد میں انہوں نے بین الاقوامی شہرت کی تجربہ گاہیں بھی بنوائیں جنہیں ’’شمسیہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ مسلمانوں نے جو علوم بالخصوص سائنس کے تئیں بے رخی برتی وہ آج بھی برقرار ہے۔ حکومت چاہے ہندوستان کے مغلوں کی ہو، ایرانی صفی حکمرانوں کی ہو، عثمانی ترکوں کی ہو یا دیگر سلاطین کی ہو، سوال یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں سائنسی علوم کا مطالعہ کیوں ختم ہو گیا اور مسلمان اس علمی ترقی سے کیوں مستفیض نہ ہو سکے۔ طویل اور تلخ واقعات کی تفصیل میں جائے بغیر صاف بات یہ ہے کہ جو علم کے دروازے پر دستک دے گا اسی کےلئے دروازہ کھلے گا۔ یہی وجہ ہے کہ علم کا در تو ہے لیکن مسلمانوں کےلئے نہیں، جنہوں نے دستک دی ان کےلئے۔
ظالم ہیں مظلوم بھی ہم ہر شر سے منسوب ہیں ہم
ایسا حال ہوا کیوں اپنا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ