لیاری کا ڈان عزیربلوچ اور پیپلز پارٹی
- تحریر سید انور محمود
- بدھ 19 / اپریل / 2017
- 6615
عزیر جان بلوچ لیاری کے رہنے والے ایک کامیاب ٹرانسپورٹر فیض محمد فیضو کا بیٹا ہے۔ جنوری 2016 میں اس کے پاس سے دو قومی شناختی کارڈ ملے۔ دونوں میں اس کی تاریخ پیدائش مختلف تھیں۔ پہلے شناختی کارڈ میں اُس کی تاریخ پیدائش 10اکتوبر 1973 درج تھی جبکہ دوسرے شناختی کارڈ میں اُس کی تاریخ پیدائش 10اکتوبر1977 درج تھی۔ لیکن دونوں شناختی کارڈ پر اُس کا نام عزیرعلی اور ولدیت کے خانے میں فیض محمد درج تھا۔
عزیر بلوچ نے ابتدائی تعلیم ایک پبلک اسکول میں حاصل کی مگر چونکہ تعلیم سے زیادہ اس کو الٹے سیدھے کاموں میں دلچسپی تھی اس لیے صرف چند کلاسیں ہی پڑھ سکا، ٹرانسپورٹر باپ کو بھی شاید بیٹے کو پڑھانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر کچھ اثر لیاری کے ماحول کا بھی تھا۔ لیاری ہمیشہ سے جرائم پیشہ عناصر کا گڑھ رہا ہے اس لیے اس علاقے میں تعلیم کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ عزیربلوچ کی زندگی میں ایک موڑ اس وقت آیا جب اس کے والد کو ارشد پپو گروپ نے اغوا کرکے قتل کردیا۔ اس زمانے میں سندھ کےسابق صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقارمرزا لیاری پر بہت مہربان تھے اور انہوں نے ایک قاتل رحمان ڈکیت کو پیپلز پارٹی کےعسکری ونگ پیپلز امن کمیٹی کا سردار بنایا ہوا تھا۔ رحمان ڈکیت نے عزیر بلوچ کواپنے گینگ میں شامل کرلیا۔ سال 2009 میں ایک پولیس مقابلے میں رحمان ڈکیت مارا گیا تو عزیر بلوچ نے اس گینگ کی سربراہی سنبھال لی اور لیاری کا ڈان بن گیا۔ لیاری کے اس نئے ڈان کو بھی ذوالفقارمرزا کی پوری حمایت حاصل تھی۔ اب ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت پیپلز پارٹی انقلابی تو نہ تھی لیکن مجرموں کی سرپرست تھی۔ پیپلز امن کمیٹی کا سردار اور ڈان بننے کے بعد عزیر بلوچ نے پیچھےمڑکرنہیں دیکھا۔ اس کےمسلح کارندے کراچی کے کاروباری و صنعتی علاقوں میں خوف و دہشت کی علامت بن گئے۔ جہاں بھتہ خوری اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ وہ پوری کراچی میں خوف کی علامت بن گیا تھا۔ اس کے کارندے کراچی کے غیر بلوچ علاقوں لیاقت آباد اور لانڈھی میں بھی دندناتے پھرتے تھے۔ پھرپیپلز پارٹی کی چھتری میں رہتے ہوئے لیاری کے نئے ڈان عزیر جان بلوچ جلد ہی خودساختہ سردار بھی بن گیا۔
اپنی تازہ گرفتاری کے بعد عزیر بلوچ نے ایک مجسٹریٹ کے روبرو اعترافی بیان دیتے ہوئے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زردای کے حکم پر وہ بہت سارے غیر قانونی کاموں میں ملوث رہا ہے۔ آصف زرداری کے کہنے پر اپنے گروہ کے 15 سے 20 لڑکے بلاول ہاؤس بھیجے، بلاول ہاؤس کے پاس30 سے 40 بنگلے اور فلیٹ زبردستی خالی کرائے، ان گھروں کو خریدنے کے لیے آصف زرداری نے مالکان کو بہت کم رقم دی، اس نےپیپلز پارٹی کے لیے اور بھی بہت سے غیر قانونی کام کئے۔ قادر پٹیل کے کہنے پر کئی افراد کو قتل کیا، اویس مظفر ٹپی اور آصف زرداری کیلئے 14 شوگر ملز پر قبضے میں مدد دی۔ عزیر بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر قائم علی شاہ اورفریال تالپور سے ملا تھا۔ ملاقات میں اس نے اپنے خلاف مقدمات اورسرکی قیمت ختم کرنے پربات کی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2012 میں عزیر بلوچ کے سر کی قیمت بیس لاکھ مقرر کی تھی مگر 2013 کے انتخابات سے دو ماہ پہلے سندھ حکومت نے عزیر بلوچ پر انعام کا اعلان واپس لے لیا۔ یہ کارنامہ فریال تالپور اور آصف زرداری کے کہنے پر ہوا تھا۔ جب عزیر بلوچ کے مقدمات اور سرکی قیمت ختم کی گئی تھی، فریال تالپور کی جانب سے اسے ملک سے باہر جانے کےلیے بھی کہا گیا۔ ایک مرتبہ اس نے اپنے لیاری والے گھر میں پیپلز پارٹی کے رہنماوں فریال تالپور، قائم علی شاہ اور قادر بلوچ کی دعوت بھی کی تھی۔
لیاری کا ڈان اور نام نہاد سردارعزیر بلوچ 2013 میں ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کراچی میں رینجرز آپریشن شروع ہونے پر بیرون ملک فرار ہوگیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ابتدا میں عزیر بلوچ کو رینجرز نے 90 روز تک حراست میں رکھا اور تفتیش کے بعد پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ ملزم کو بعد ازاں کراچی کی سینٹرل جیل میں قید رکھا گیا جہاں عزیز بلوچ کو متعدد ٹرائل کا سامنا تھا۔ عزیر بلوچ کوانسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 40 مقدمات میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ لیاری میں 2012 میں ہونے والے پولیس آپریشن کے دوران عزیر بلوچ اور ان کے دیگر ساتھیوں پر قتل، اقدام قتل اور پولیس حملوں سے متعلق 35 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ لیاری سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے ایک رکن قومی اسمبلی اور کچھ پولیس افسران کے ساتھ ارشد پپو، اس کے بھائی یاسر عرفات اور ساتھی جمعہ شیرا قتل کیس کے ٹرائل کا سامنا بھی کررہا ہے۔ ان لوگوں کو مارچ 2013 میں ڈیفنس سے اغوا کے بعد لیاری میں قتل کردیا گیا تھا۔ عزیر بلوچ پرقتل، بھتہ خوری ، اغوا برائے تاوان اور پولیس پر حملوں کے بعد اب جاسوسی کا بھی الزام لگ گیا ہے۔
بارہ اپریل 2017 کو پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کسی ملک کی نشاندہی کیے بغیر بتایا کہ عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی ایکٹ1923 کے تحت تحویل میں لیا گیا۔ عزیر بلوچ پر حساس معلومات غیر ملکی ایجنسیوں کو دینے کا الزام تھا۔ وہ بلوچستان میں غیر ملکی خفیہ اداروں کو کارروائی کے لئے خفیہ معلومات دیتا رہا ہے۔ عزیر بلوچ پر جاسوسی کا الزام اس سے پہلے بھی لگا تھا ۔ عزیر بلوچ نے 24اپریل 2016 کو مجسٹریٹ کے سامنے اہم شخصیات سے تعلق اور غیرملکی ایجنسیوں سے رابطے کا اعتراف کیا تھا۔ عزیر بلوچ نے بتایا تھا کہ وہ حاجی ناصر کو ایرانی خفیہ ایجنسی کے نمائندے کے طو پر جانتا تھا۔ اسی حاجی ناصر نے ایران میں ایرانی خفیہ ایجنسی کے افسر سے اس کی ملاقات کروائی تھی۔ اس نے ایرانی انٹیلی جنس افسر کو کراچی میں کور کمانڈر، اسٹیشن کمانڈر اور نیول کمانڈر کراچی سے متعلق معلومات دیں۔ عزیر بلوچ کا نیٹ ورک فشریز کی انکوائری کے بعد سامنے آیا تھا۔ شاید کلبھوشن یادیو اور عزیر بلوچ سے تحقیقات کرنے کے بعد ہی عذیر بلوچ کو فوجی حرا ست میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں عزیر بلوچ اور کلبھوشن کا آپس میں کوئی ایسا تعلق بھی نکل آئے کہ عزیر بلوچ بھارت کےلیے بھی جاسوسی کرتا رہا ہے۔
صولت مرزا جس کو کے ای ایس سی کے سربراہ کے قتل کے الزام میں سزائے موت ہوئی تھی، اس کے لیے ایم کیو ایم نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ ہم اسے نہیں جانتے بلکہ یہ کہا کہ ہم اس کو ایم کیو ایم سے فارغ کرچکے ہیں ۔ آج اس کے برعکس پیپلز پارٹی کے رہنما متعدد ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے باوجود عزیر بلوچ کے ساتھ اپنی لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں جن میں سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ بھی شامل ہیں۔ سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقارمرزانے رحمان ڈکیٹ کے بعد عزیر بلوچ کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ سال عزیر بلوچ کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر ذوالفقارمرزا کا کہنا تھا کہ میں نہ صرف عزیر بلوچ کو جانتا ہوں بلکہ میں عزیر بلوچ کو آج بھی اپنا بھائی سمجھتا ہوں۔ کیا اب جبکہ عزیر بلوچ پر ملک کے خلاف جاسوسی کرنے کا الزام ہے ذوالفقارمرزا اپنے کہے پر قائم رہیں گے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کا کہنا یہ ہے کہ عزیر بلوچ نے اگر کوئی ایسا کام کیا جس پر اس کا ملٹری ٹرائل بنتا ہے تو ضرور ہونا چاہئے۔ عزیر بلوچ کے معاملہ میں ابھی تک صرف ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو گرفتار کیا جاسکتا ہے، وہ علی الاعلان ان تمام چیزوں کو مانتے رہے ہیں۔ عذیر بلوچ سے اگر غلط کام کروائے گئے ہیں تو اس میں صرف ڈاکٹر ذوالفقارمرزا ہی ملوث نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی شامل ہے۔ آج کل آصف زرداری کے خاص لوگ غائب ہورہے ہیں۔ ہوسکتا ہے ان لوگوں سے بھی عزیر بلوچ کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہوں۔ اگر عزیر بلوچ پر جاسوسی کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو اس کو وہی سزا ملنی چاہیے جو ایک جاسوس کی ہوتی ہے۔ لیکن اگر عزیر بلوچ پر جاسوسی کا الزام لگاکر اس کو پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ اس جمہوری نظام کے لیے نقصان دے ہوگا جو ابھی بھی پاکستان میں لڑکھڑا کے چل رہا ہے۔