ایسا کب تک ہوتا رہے گا !

خیبر پختونخواہ کے شہر مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں تضحیک مذہب کے الزام میں مشتعل طلبا کے ہاتھوں قتل ہونے والے مشعل خان کے قتل نے ایک بار پاکستان کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس واقعہ کو رونما ہوئے کافی دن ہو چکے ہیں اس دوران صوبائی حکومت کی طرف سے جو تفصیلات منظر عام پر آئیں ہیں ان کو پڑھ کر ا یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہر طرف جاہلیت ، جنونیت ، بربریت بڑھتی اور پھیلتی جا رہی ہے۔

اس کے اسباب کیا ہیں اور وہ کونسے عوامل ہیں جن کی سبب اس  رویہ کو ہوا مل رہی ہے، اس طرف توجہ دینے کا کسی میں حوصلہ دکھائی نہیں دیتا۔ سرحدوں اور نظریات کی حفاظت کرنے والوں نے تعلیمی اداروں کی چاردیواری ہی گرا دی ہے کہ نفرت کی دیوی کے آنے جانے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ یہ سب کئی دہائیوں کی اس ملائیت کا شاخسانہ ہے جوملک کے اندر ملکی سیاست کی چھاؤں میں پھل پھول رہی ہے۔ قانون و آئین کو گھر کی لونڈی سمجھنے والے اب خود اپنی نظروں سے وہ فصل پکی ہوئی دیکھ رہے ہیں جو ایک نسل پہلے بوئی گئی تھی۔ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ آج ملکی سیاست اور سیاسی جماعتوں میں ایسے سیاستدانوں کی اکثریت ہے جو اسی ڈکٹیٹر کے دور میں سیاسی طور پر پیدا ہوئے اور بلوغت کو پہنچے جس نے مذہب کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کی بنیاد رکھی تھی۔ مشعل خان کا قتل کوئی پہلا واقع نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی متعدد بار مشتعل ہجوم کی طرف سے اقلیت و اکثریت سے تعلق رکھنے والے افراد پرحملے کئے گئے اور متعدد کو زندہ بھی جلایا گیا۔ لیکن ماضی میں ایسے واقعات پر ریاست نے کبھی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا اور ہی مجرموں کو کٹھہرے میں لایا گیا۔ بلکہ مٹی پاؤ پالیسی اختیار کئے رکھی۔ اس کا نتیجہ آج تعلیمی ادارے میں اس واقعہ کی شکل میں سامنے آیا ہے۔

ریاست ، سیاست اور عدلیہ کو یہ یقین کرانا ہوگا کہ کسی کو ناحق قتل کرنا اور زندہ جلانا اور قانون ہاتھ میں لیناسب جرائم کی شکلیں ہیں۔ ان واقعات کو جرم تسلیم کرے اور ایسے واقعات کوعقیدے یا فرقے کی نظر سے مت دیکھے۔ بلکہ قانون و آئین کی نگاہ سے دیکھے۔ یہ واقعہ ایک تعلیمی ادارے میں ہوا جہاں انسانی ذہن کو انسانی اقدار کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ احترام آدمیت کا سبق دیا  جاتا ہے۔ رواداری اور برداشت کے عملی مظاہرے دکھائے جاتے ہیں۔ انہی اداروں سے ایسی قیادت جنم لیتی ہے جو قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہیں۔ اور تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔  مشعل خان کے قتل نے سب کی آنکھیں کھول دی ہیں کہ دن میں خواب مت دیکھو بلکہ حقیقت کا اعتراف کرو۔ کہ پاکستان میں ملائی، جاہلیت، وحشت اور بَربَریت کا عفریت تعلیمی اداروں کے اندر تک پہنچ چکا ہے ۔ تین دہائیوں سے انتہاپسندی کی مذمت کرنے والوں نے اب بھی مرمت کا بیڑہ نہ اٹھایا تو یقین کرنا ہوگا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ سب خود انہی کے ہاتھوں مشعل خان کی طرح مارے اور تشدد کے بعد کچلے جائیں گے۔

مشعل خان کے قتل پرحکومتی و سیاسی اور عدلیہ کی شخصیات نے ردعمل کے طور پر جو کچھ کہا ہے وہ ریاست کی طرف سے اعتراف کے مترادف ہے۔  مذہب اب مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال ہونے لگا ہے۔ پاکستان کے اندر کی جنونیت و جذباتیت کا ماحول بدلنے کے لئے مساجد کے پیش اماموں کے کردار کو درست کرنا ہوگا کیونکہ اب تک پاکستان میں خصوصا پنجاب میں تضحیک مذہب کے نام پر جتنے بھی بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے ان میں مساجد کے پیش اماموں کا بہت کردار رہا ہے۔ جو بغیر تصدیق کے اعلانات کر کے علاقے میں اشتعال پھیلا دیتے ہیں۔ جس پر لوگ مشتعل ہو کر قانون کو ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ اس واقع میں بھی مشعل خاں پر الزام کی تصدیق بھی نہیں ہوئی تھی لیکن امام مسجد نے نماز جنازہ پڑہانے سے انکار کردیا۔ اس بات پر یقین کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ انسانی ہاتھوں سے بنایا ہوا ایک قانون اب آسمانی مذہب کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔

جمعہ کو خیبرپختونخواہ اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی کہ طالبعلم نے شان رسالتﷺ یا شعائر اسلام کی توہین کی ہو بلکہ یہ ذاتی عناد کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن نے اس واقعہ کو جنونیت اور بربریت قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے اس واقعہ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم  مشعل خان کے قتل کے خلاف متحد ہو جائے ۔ طلبا کے ہاتھوں مشعل کی ہلاکت پر افسردہ ہوں۔  وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں مذہب کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم توہین رسالت کے غلط استعمال کو مسترد کرتے ہیں۔ سابق وزیر اطلاعات و سینٹر پرویز رشید نے مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ چند علمائے سیاست نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ توہین مذہب پر سزا دینا ریاست کا کام ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس کا دفاع بھی کیا ہے تضحیک مذہب کے قانون میں تبدیلی  ممکن نہیں ہے ۔ پی پی پی کی شیریں رحمان کا وہ بل سب کو یاد ہوگا جو انہوں نے پرائیویٹ بل کے طور پر پیش کیا تھا اوربعد میں پارٹی قیادت کو سرعام معذرت اور وضاحت کرنا پڑی تھی۔

قومی اسمبلی میں مشعل خان کی دعائے مغفرت ہی اس کی بیگناہی کا ثبوت ہے۔ اگر مستقبل میں اس قسم کے حادثوں سے بچنا ہے تو اس کے قتل کے تمام مجرموں کو انصاف کے کٹھرے میں لانا ہو گا۔ دنیا کو باور کرانا ہو گا کہ پاکستان میں حکومت اور عدلیہ انصاف کرنے اور دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اس واقعہ پر اقوام متحدہ کے پاکستان کے نمائندے کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے میں اس نوعیت کے واقعہ کا ہونا انتہائی تشویشناک ہے اور حکومت پاکستان کو نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔

کہتے ہیں کہ ایران کا مشہور بادشاہ نوشیرواں، جو اپنے عدل و انصاف کے باعث نوشیرواں عادل کہلاتا تھا ایک بار شکار کے لئے گیا۔ شکار گاہ میں اس کے لئے کباب تیار ہو رہے تھے کہ اتفاق سے نمک ختم ہو گیا۔ شاہی باورچی نے ایک غلام سے کہا کہ قریب کی بستی میں جا اور وہاں سے نمک لا۔ بادشاہ نے نے بات سن لی۔ اس نے غلام کو قریب بلایا اور اسے تاکید کی کہ قیمت ادا کئے بغیر نمک ہر گز نہ لانا۔ غلام بولا۔۔ حضور والا ایک معمولی نمک کی کیا بات ہے۔۔ کسی سے مفت لے لوں گا تو کیا فرق پڑے گا۔ نوشیرواں نے کہا ضرور فرق پڑے گا۔ یاد رکھو، ہر برائی ابتدا میں معمولی دکھائی دیتی ہے لیکن پھر وہ بڑھتے بڑھتے اتنی بڑی بن جاتی ہے کہ اسے مٹانا آسان نہیں ہوتا ہے۔

ماضی میں ایسے واقعات کو معمولی نہ سمجھا گیا ہوتا تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ہر حکومت نے اپنے دور میں ہونے والے ایسی واقعات پر مفادات کو ترجیح دی۔ یہ ان کے حلف کے بھی منافی ہے لہذا اس معاملہ پر سیاست کرنے کی بجائے اجتماعی مفاہمت کا راستہ اپنا کرکے، اس رجحان کو روکنے کی ضرورت ہے۔