بھارتی بربریت اور بیس کیمپ کی بے حسی
بیرون ملک سے میں سات ماہ بعد وطن واپس آیا ہوں۔ بیرون ملک میں کچھ ایسے غیر متوقع مسائل میں الجھ گیا تھا جن کی وجہ سے قارئین کرام کے ساتھ قلمی تعلق معطل رہا۔ اس دفعہ بھی میرے مسائل کی وجہ تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ میری وابستگی اور تارکین وطن کے وہ مسائل بنے جن کو حل کرنا حکومت کا فرض تھا لیکن جو کوشش میں نے کی اس کی مجھے بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ۔ یہ ایک الگ کہانی ہے۔ اس کالم میں صرف بھارتی بربریت، بیس کیمپ کی بے حسی، پاکستان کی ناقص پالیسی اور عالمی برادری کے دوہرے معیار پر بات ہوگی۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں پانچ ماہ کرفیو کے دوران بربریت کی تازہ مثالیں قائم کی ہیں جن میں نوجوانوں کو اندھا، اپاہج اور معذور کرنے کی اسرائیلی طرز کی مہم تھی، جس پر عالمی برادری نے تو دوہرا معیار اپانتے ہوئے خاموشی اختیار رکھی۔ مگر آزادی کشمیر کا بیس کیمپ بھی مجرمانہ طور پر خاموش رہا۔ راوائیتی مذمتی بیانات کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ بیس کیمپ کو بے حس اور بے بس بنانے میں پاکستان کی حکومتوں کا بھی عمل دخل رہا ہے۔ پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حکمرانوں کو تحریک آزادی پر کوئی کام نہیں کرنے دیتا اور نہ ہی یہاں کے حکمرانوں نے تحریک آزادی کشمیر کو اپنی پہلی ترجیح بنایا۔ بلکہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے عوام کشمیریوں کی آزادی بارے ابہام کا شکار ہیں۔
بعض پاکستانی اکثر یہ کہتے ہیں کہ یہاں کشمیریوں کو پاکستان کی طرف سے سب کچھ ملتا ہے لہذا یہاں آزادی کی باتوں کا کیا مقصد۔ حالانکہ پاکستانی عوام تو خود سیاسی، اقتصادی اور دفاعی طور پر آزاد نہیں۔ آزادی کا مطلب اپنا صدر، وزیر اعظم اور فوج کا ہونا نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا آپ خود کفیل ہیں۔ آپ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ کیا آپ اپنی پالیسی خود بناتے ہیں یا آپ پر مسلط کی جاتی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ پاکستان کو ابھی تک غیر ملکی ایجنڈے سے ہی چھٹکارا نہیں ملا۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اگر واقعی آزاد ہیں تو پھر ان حکومتوں کو عالمی سطع پر مسئلہ کشمیر خود پیش کرنے کا موقع ملنا چائیے۔ تاکہ دنیا اسے کشمیریوں کا مسئلہ دیکھے اور اس عالمی مسئلہ کو دنیا عالمی نظر سے دیکھے۔ لیکن پاکستان آزاد کشمیرحکومت کا منہ بند کرکے خود اس کی جگہ بولنا شروع ہو جاتا ہے۔ تو دنیا اسے ہندوستان، پاکستان کا علاقائی جھگڑا قرار دے کر راہ فرار اختیار کر لیتی ہے۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر کے اندر بھی جب تحریک زور پکڑتی ہے تو یا تو کرایہ داروں کے ہاتھوں میں پاکستانی جھنڈے تھما دئیے جاتے ہیں یا بارڈر پر فائرنگ شروع ہو جاتی ہے یا پھر پاک ہند سیاسی چپقلش کا کوئی نیا اشو کھڑا کرکے بھارت کے خلاف کشمیر کے اندر زور پکڑنے والی تحریک کو اوور شیڈو کر دیا جاتا ہے۔ جس کی تازہ مثال حالیہ ضمنی الیکشن کے دوران بھارت کے خلاف کشمیر بھر میں ہڑتالوں کے وقت پاکستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کی سزائے موت ہے۔ اس فیصلے کا اعلان اگر چند دن مؤخر کر دیا جاتا تو کیا نقصان ہو جاتا اور اب اگر اعلان ہوا ہے تو اس پر کب فوری عمل ہو گیا ہے۔ دنیا کی سنجیدہ حکومتیں ہمیشہ صحیح وقت پر فیصلے کرتی ہیں۔ راقم اور ریاض ملک نے جب لندن ہائی کورٹ میں 1994 میں برطانوی حکومت کی طرف سے بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں سیاسی اور خفیہ سزاؤں کے خلاف رٹ کی تو عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ سنانے کے لیے ایک ہفتہ کا وقت دیا۔ اور برطانوی حکومت نے فیصلے سے عین ایک رات قبل ان چار یورپی باشندوں کی قید کی فلم قومی چینل پر لگا دی جنہیں الفاران تنظیم نے اغوا کیا تھا۔ حالانکہ الفاران سے ہمار کوئی تعلق نہ تھا۔ لیکن صرف کشمیری ہونے کے ناطے ہمارے ساتھ یہ ڈرامہ رچایا جا رہا تھا۔
9 اپریل کو عالمی میڈیا بھارتی مقبوضہ کشمیر جہاں آٹھ شہری شہید اور ایک سو پچاس زخمی ہوئے، اس پر بحث کر رہا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کی سزائے موت نے کشمیر اشو کو دبا دیا۔ ہڑتالوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ سترہ اپریل کو پلوامہ سرکا ی کالج پر بھارتی ریڈ کے خلاف کشمیر بھر میں طالبات نے ہڑتال کی جس دوران نام نہاد جمہوری بھارت نے طالبات کے خلاف ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے۔ مگر آزادئ کشمیر کا بیس کیمپ بے حسی کی تصویر بنا رہا اور آج دو دن گزرنے کے باوجود کسی طرف سے کوئی آواز نہیں سنائی دے رہی۔ آزاد کشمیر کی ہر سیاسی پارٹی نے سکولوں کالجوں اور یو نیورسٹیوں میں اپنے اپنے یونٹ قائم کر رکھے ہیں جو ان کے پروٹوکول کے لیے ایک منٹ کے نوٹس پر کلاسیں چھوڑ کر ان کے استقبال کے لیے اڈوں اور چوراہوں پر استقبالی جھنڈیاں پکڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن بھارتی بربریت کے خلاف آزاد کشمیر کی کسی سیاسی پارٹی نے کال نہیں دی جبکہ حکومت آزاد کشمیر کھوئیرٹہ میں میلے کی تیاریوں میں مصروف ہے، جہاں پنجاب سے ناچ گانے والیاں، نوجوانوں کو مسرور کر رہی ہیں جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نئی لہر کو دبانے کے لیے پولیس کی تین ماہ تک سرکاری رخصت بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس دوران بھارتی ظلم و جبر میں لازمی اضافہ ہوگا ۔ بیس اپریل کو وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس کا فیصلہ بھی آنے والا ہے اس فیصلے کے اعلان کا بھی غلط وقت رکھا گیا ہے۔ اس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوتا ہے پاکستان میں کچھ لوگوں کو کشمیر کی تحریک کی کوئی پرواہ نہیں اور کچھ نے اسے سیاسی کاروبار سمجھ رکھا ہے۔ کشمیری بہت قربانیاں دے چکے ہیں۔ آج بھارتی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے نامور دانشور، وکیل اور عالمی سطع پر انسانی حقوق کے حوالے سے کشمیریوں کی ایک آواز ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے نیٹ پر اپنے ایک بیان میں لکھا ہے کہ امریکہ نے صرف آٹھ سال کی جدوجہد کے نتیجہ میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرلی مگر کشمیری کئی صدیوں سے صرف آقا ہی تبدیل کرتے آ رہے ہیں۔ ایک آقا سے جان چھڑا کر دوسرے کو مسلط کرنے کے عمل کو وہ حق خود ارادیت کہتے ہیں۔ جب تک کشمیریوں کو حق خود ارادیت کی صحیح گردان سمجھ میں نہیں آئے گی تب تک کشمیری آقا تو بدلتے رہیں گے مگر آزادی کی منزل نہیں پا سکیں گے۔