ایک نئی 20 اپریل کا انتظار
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعرات 20 / اپریل / 2017
- 4552
20 اپریل یعنی آج کے دن کو بہت اہم قرار دیا جا رہا تھا۔ ہماری اعلی ترین عدلیہ نے پاناما کا تاریخی فیصلہ سنانا تھا مگر یہ دن بھی کسی خاص اہمیت کا حامل ثابت نہ ہؤا۔ فیصلہ آگیا اور ہم سب نے سن لیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جو شاید آدھی سے زیادہ پاکستانی قوم جانتی تھی۔ ہماری جس کسی سے بھی بات ہوئی اس نے مسکراتے ہوئے کہا جناب کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں، صرف کمیشن بنے گا اور کوئی فیصلہ نہیں آنے والا۔ اور ایسا ہی ہوگیا ہے۔ اب پہلے تو ان تمام لوگوں کا دل کی گہرائیوں سے مشکور اور ممنون ہوں کہ ان کے تجربے اور تجزیئے نے اتنا صحیح اور درست فیصلہ قبل از وقت ہی اخذ کر رکھا تھا اور باقاعدہ سنایا بھی جا رہا تھا۔
ایک تو لوگوں کو یہ بات اپنے ذہنوں میں صاف کر لینی چاہئے کہ پاناما کیس میں ہارنے والے ہمارے محترم وزیرِاعظم صاحب ہوسکتے تھے اور اب جیسا کہ وہ ہارے نہیں یا شاید ان کی ہار اگلے دو ماہ کے لئے ٹل گئی ہے۔ تو کوئی اور بھی نہیں ہارا کیوں کہ پاکستان تحریکِ انصاف تو انصاف مانگنے کےلئے عدالت اعظمی گئی تھی۔ اب انصاف کیسے ہوا ہم نے دیکھ لیا ہے۔ عمران خان کی اخلاقی فتح ہوئی ہے۔
ہم پاکستانی گزشتہ کچھ سالوں سے جے آئی ٹی کی اصطلاح سے خوب بہلائے جا رہے ہیں، جس کا اردو میں مطلب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ہے۔ جس طرح ہمارے پچھلے وزیرِ داخلہ نے دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے موبائل سروس بند کرنے کا حل نکالا تھا بالکل اسی طرح ہمارے موجودہ وزیرِ داخلہ نے جے آئی ٹیز پر زور دیا ہوا ہے۔ حل نہ کوئی گزرے ہوؤں کے پاس تھا اور نہ ہی کوئی حل اب تک نکالا جا سکا ہے۔ اب ہم پاکستانیوں کو ایک اور لال بتی میرا مطلب ہے ایک اور جے آئی ٹی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ یعنی یہ 20 اپریل ایک اور دفعہ آنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ قوم کہ پاس ایک موقع اور باقی ہے کسی قومی فیصلے کو سننے کا۔
ہمارے ملک میں صرف وہی کام ہنگامی بنیادوں پر کئے جاتے ہیں جن کا تعلق ہمارے ملک کے اربابِ اختیار کو خوش کرنے یا ان کے اہل خانہ کی راحت سے ہو۔ کسی وزیر کو گزرنا ہو تو راتوں رات سڑکیں بھی بنا دی جاتیں ہیں اور تو اور کچرے کے ڈھیر بھی غائب ہوجاتے ہیں۔ آخر یہ ملک کب ان سب خرافات سے آزاد ہوگا آخر کب ہمارے وزیرِاعظم اپنے خلاف کسی بھی قسم کے الزام پر استعفی پیش کردیں گے۔ ہمارے اندر کب اخلاقی جرات پیدا ہوگی، ہمارے ادارے کب میرٹ پر کام کریں گے۔
شاید یہی وجوہات ہیں کہ ہمارے لوگ ہمارا معاشرہ اتنا تنگ دل اور تشدد پسند ہوتا جارہا ہے۔ کسی بات کا غصہ کسی بات پر نکل رہا ہے۔ ہم لوگ لاشوں کی بے حرمتی کرنے لگے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور نفسا نفسی، ان ہی لوگوں کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے۔ ہمارے ادارے کوئی بھرپور کام نہیں سکتے۔ آخر کب تک ہمارا عدالتی نظام ایسے ہی کام کرتا رہے گا۔ کیا ہم کبھی کوئی دو ٹوک فیصلہ سن سکیں گے۔ جبکہ سب جانتے ہیں معاشرہ عدل کے بغیر نہیں چل سکتا۔