ترکی میں حالیہ تبدیلی اور مستقبل کا منظر

ترکی کے صدر طیب اردوان ایک بڑے ریفرنڈم کی مدد سے طاقت ور صدر بننے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور ریفرنڈم نے ترکی کے پارلیمانی نظام کو مضبوط اور طاقت ور صدارتی نظام میں بدل دیا ہے جو فرد واحد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ حالیہ ریفرنڈم میں صدر طیب اردوان او رکے ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ وہ اس ریفرنڈم کی مدد سے 64فیصد ووٹ لینے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن عملی طور پر جو نتائج آئے ہیں اس کے مطابق اردوان کو  51.3فیصد ووٹ ملے ہیں۔  جبکہ  مخالفت میں 48.6فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طیب اردوان اس ریفرنڈم میں ترکی کے بڑے شہروں استنبول، انقرہ، ازمیر، ادانہ اور ریابکر میں  برتری حاصل نہیں کرسکے ۔

اس ریفرنڈم کے نتائج کو کو ترکی کی سب سے اہم حزب اختلاف کی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ  60 فیصد ووٹوں کی گنتی دوبارہ کی جائے ۔ کیونکہ بغیر سرکاری مہر کے ووٹوں کو قبول کرنا انتخابی دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے ۔ ترکی میں ریفرنڈم سے قبل پارلیمانی جمہوری نظام  کام کر رہا تھا  لیکن اب اس کی حیثیت صدارتی نظام سے جڑ گئی ہے ۔ ترکی میں طیب اردوان کے تین ادوار دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اول سماجی اور معاشی ترقی کا دور ، دوئم اپنے سیاسی مخالفین کو دور کرنا اور گولن کے خلاف عملی بغاوت اور سوئم پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی طرف پیش قدمی ۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا ترکی کا حالیہ ریفرنڈم صدر طیب اردوان کے لیے فرد واحد کی حکومت  کی طرف پیش قدمی تھی یا واقعی ترکی کی ریاست کو ایک صدارتی نظام درکار تھا۔

طیب اردوان 2014کے انتخابات میں براہ راست صدر منتخب ہوئے تھے ۔ ترکی کے آئین میں صدر کی حیثیت ایک نمائشی عہدے کی تھی اور وزیر اعظم بااختیار تھا ۔ لیکن 2104میں صدر بننے کے بعد سے ہی طیب اردوان وزیر اعظم کے مقابلے میں ایک طاقت ور صدر بننا چاہتے تھے او راس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ۔ گولن کے خلاف بغاوت یا فوجی بغاوت کے پس منظر کو بھی طیب اردوان کی فرد واحد کے طو رپر ایک مضبوط حکمران بننے کی خواہش کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے ۔ طیب اردوان نے پارلیمنٹ کی مدد سے ایک سے زیادہ مرتبہ کوشش کی وہ آئینی ترمیم کی مدد سے ملک کے پارلیمانی نظام کو صدارتی اور خود کو عملی طور پر طاقت ور صدر کے طور سامنے لاسکیں ۔ لیکن اس عمل میں ناکامی کے بعد طیب اردوان نے 18ویں ترمیم اپنی ہم خیال ملی حرکت پارٹی کی مدد سے پارلیمنٹ سے منظور کرکے اپنے ایجنڈے کو تقویت دی۔

یہ عمل بھی توجہ طلب ہے کہ ترکی میں ہونے والا حالیہ  ریفرنڈم طیب اردوان کی بطور صدر، لگائی گئی ایمرجنسی ، حکومت اور جماعت کی طاقت کو برقرار رکھ کر منعقد کروایا  گیا ہے، جو اس کی ساکھ کو بھی چیلنج کرتا ہے ۔ یہ خبریں بھی موجود ہیں کہ اس ریفرنڈم کی مخالفت کرنے والوں کو اپنی مہم چلانے کی بھی اجازت نہیں دی گئی ۔ ریاستی و حکومتی کنٹرول میں طیب اردوان کی حمایت میں مہم چلائی گئی ۔ لیکن اس کے باوجود 48.6 فیصد لوگوں نے ان کے فیصلے کی مخالفت کی جو ظاہر کرتا ہے کہ حالیہ ریفرنڈم کا نتیجہ ترکی میں نئی سیاسی تقسیم پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ اس ریفرنڈم کے نتیجے میں صدر طیب اردوان نے لاتعداد اختیارات حاصل کرلیے ہیں ۔ اول وزیر اعظم کا عہدہ ختم ، دوئم وہ خود نائب صدر اور وزرا کا تقرر کریں گے، سوئم پارلیمنٹ کو ختم کرنے اور حکومت بنانے یا ختم کرنے کا اختیار، چہارم سپریم کورٹ کے ایک تہائی ججز کی تقرری کا اختیار، پنجم ضرورت پڑنے پر ایمرجنسی اور بنیادی حقوق کی معطلی، ششم عدلیہ میں مداخلت کا اختیارجہاں وہ پہلے ہی سمجھتے ہیں کہ وہاں گولن کے حمایت یافتہ لوگ موجود ہیں ، ششم فوجی ادارے پر بالادستی جیسے عوامل میں ترکی کا جمہوری مسقبل پر سوالیہ نشان ہے ۔

اگرچہ ترکی میں ریفرنڈم کے نتائج پر ایک بڑا طبقہ جشن منارہا ہے لیکن یہ مت بھولیں ایک دوسرا بڑا طبقہ ان نتائج کو نہ صرف قبول نہیں کررہا بلکہ اس پر ایک تقسیم بھی پیدا ہوگئی ہے ۔ کیونکہ جیت کا مارجن بہت ہی معمولی ہے۔ اس لیے اس جیت کو آسانی سے قبول نہیں کیا جائے گا ۔ اگرچہ طیب اردوان کا دعویٰ ہے کہ اس ریفرنڈم کے نتائج کے بعد ترکی جدید طرز کا ترکی بنے گا ، جبکہ اس کے برعکس کچھ سیاسی پنڈت اسے ایک بڑے بحران اور آمرانہ نظام یا فرد واحد کی مطلق العنان کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ فوجی بغاوت کے بعد جس انداز سے ترکی میں وکلا، ججوں ، میڈیا، پروفیسرز، سول سوسائٹی ، حکومت مخالف عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاون کیا گیا جو پہلے ہی ترکی میں شخصی آزادی کو کمزور کرچکا ہے ۔ اس ریفرنڈم میں کامیابی کے لیے طیب اردوان نے جو منطق دی وہ بھی کافی دلچسپ ہے ۔ ان کے بقول جو لوگ بھی ان کی مخالفت میں ووٹ دیں گے وہ ترکی کے غدار ، فوجی بغاوت کے حامی ، گولن یا دہشت گردوں کے حامی ہوں گے۔ یعنی وہ مخالفین کو محب وطن بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ۔

یہ جو دلیل دی جارہی ہے کہ ترکی مستقبل میں ترقی کی طرف بڑھے گا ، لیکن پچھلے 2014کے بعد سے جو ترکی میں سیاسی او رمعاشی بحران بڑھ رہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ ریفرنڈم کی حکمت عملی بھی مزید نئے بحرانوں کو جنم دیے گی ۔ اگرچہ طیب اردوان نے اپنے آپ کو 2029تک اقتدار میں رکھ سکتے ہیں ۔ لیکن کیا وہ ان حالیہ اقدامات سے خود کو اور ترکی کو بڑے بحران سے بچاسکیں گے ۔ بظاہر ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا جو آسان نہیں ۔  جمہوریت اور قانون کو بطور ہتھیار استعمال کرکے خود کو فرد واحد یا مطلق العنان بنانے کا جنون پہلے بھی بہت سے حکمرانوں کو سوائے ناکامی کے کچھ نہیں دے سکا۔  ممکن ہے کہ وہ اقتدار میں رہے ہوں لیکن ملک کا بیڑا غرق ضرور کیا ہے ۔ اس لیے طیب اردوان اقتدار کی خواہش اور مخالفین کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی اختیار کرکے مشکل فیصلہ کررہے ہیں۔

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ترکی میں اس ریفرنڈم  کے بعد جو نئی مخالفانہ تقسیم پیدا ہوئی ہے، یہ لوگ کس حد تک اپنی مزاحمت کو برقرار رکھتے ہیں یا ان کو مزاحمت کرنے کا حق ملتا ہے ۔ ملکوں کے لیے نظام اہم ہوتے ہیں  جب فرد خود کو عقل کل سمجھ لے اورکہے اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا تو وہ مزید انتشار پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں طیب اردوان کی قیادت نے ترکی کو شاندار کامیابیاں دی ہیں لیکن ان کامیابیوں نے طیب اردوان کو اقتدار کا جنونی بنادیا ہے ، مخالفین تو کجا انہوں نے اپنے حامیوں کو بھی چن چن کر نکالا اور ان کو اپنا مخالف بنایا۔ اس کا بھی دیانت داری سے تجزیہ کیا جانا چاہیے ۔ پاکستان میں جو لوگ طیب اردوان کی جیت کو جمہوریت اور اسلام کی فتح سے جوڑ رہے ہیں ان کو بھی دیانت داری سے ترکی کی حالیہ چند برسوں کی سیاست کا جائزہ لینا چاہیے کہ طیب اردوان ترکی کو ایک مضبوط صدر کے طور پر کہاں لے جانا چاہتے ہیں ۔ تجزیہ کی نوعیت جذباتی کم اور عقل وفہم کی بنیاد یا دلیل پر ہونی چاہیے۔ ورنہ جذباتی باتوں سے ہم کسی بھی طور پر ترکی کو بہتر ترکی بنتا نہیں دیکھ سکیں گے ۔ یہ کہنا کہ ترکی کی داخلی سیاست سے ہمیں کیا سروکار، آج کی گلوبل سیاست میں ہم اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں کو سیاسی تنہائی میں نہیں دیکھ سکتے۔ اس لیے جو لوگ ترکی کی حالیہ سیاست پر تحفظات کے ساتھ سوالات اٹھارہے ہیں ان کو بھی سنجیدگی سے زیر بحث لانا چاہیے ۔

کیونکہ یہ خدشات اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں کہ کیا اس طرز کی حکمرانی سے طیب اردوان بطور صدر ترکی کے اپنے اداروں کو متنازعہ یا کمزور نہیں بنائیں گے ۔ کیونکہ جب ادارے فرد واحد کے تابع ہوکر خود قانون کا راستہ چھوڑ کر فرد کی فرمابرداری کریں گے تو اداروں کی ساکھ یقینی طور پر متاثر ہوگی ۔ عمومی طور پر جمہوریت کی کامیابی میں بنیادی کنجی یہی ہے کہ یہاں شخصیات کی بجائے اداروں کی حکمرانی کو مضبوط ہونا چاہیے ۔ لیکن ہم یہاں جمہوریت اور قانون کی چھتری لے کر اپنے آپ کو طاقت ور بنانا چاہتے ہیں ۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ آخر ایسی کونسی وجوہات تھیں کہ طیب اردوان کو ریفرنڈم کے فیصلہ پر مجبور کیا ۔ یقینی طور پر اس فیصلہ کی بنیاد ی وجہ وہ خود کو ایک ایسے طاقت ور حکمران کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جو کسی کو بھی جوابدہ نہ ہو۔