پاناما کا فیصلہ اور دیوانی ہوئی قوم

مجھے اپنی قوم کی آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ قوم ہے کیا اور چاہتی کیا ہے۔ ان کی منزل کہاں ہے، ان کا آئیڈیل کون ہے۔ یہ  کس کے ساتھ ہوتے ہیں،  ووٹ کس کو دیتے ہیں، ان کا لیڈر کون ہے۔ ان پر حکومت کون کرتا ہے۔ یہ قوم ہے یا ہجوم۔  یہ جو بھی ہیں انتہائی جذباتی اور جلد باز واقع ہوئے ہیں۔ ہر بات کو، ہرمعاملے کو جذبات سے دیکھتے اور سوچتے ہیں۔

ایک طرف ہر کام میں اللہ کی مرضی تصور کرتے ہیں اور پی آئی اے کے جہازوں سے لے کر پاناما کے فیصلے تک صدقے دیتے، سکول کے بچوں سے دعائیں کرواتے، آیت کریمہ پڑھواتے، قرآن پاک کے ختم کرواتے اور نفل ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ تو دوسری طرف کسی بھی فعل کا ذمہ دار کسی انسان کو قرار دے کر اس کو قرار واقعی سزا دینے کے متمنی نظر آتے ہیں۔ یہ کیفیت صرف عام لوگوں کی نہیں ہے بلکہ یہ کیفیت قصر صدارت اور وزیراعظم ہاؤس تک موجود ہے۔  اعلی عدالتیں اور بیوروکریسی بھی اس سے متاثر ہے اور عام لوگ بھی۔  اس ملک کی شان یوں بھی نرالی ہے کہ شادی کسی اور کی ہوتی ہے اور خوشی کوئی اور مناتا ہے۔  وزن گدھے پر ہوتا ہے اور زور کمہار لگا رہا ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ کام کسی اور کا ہوتا ہے اور سرانجام دینے والے اور ہوتے ہیں۔ پھر کسی بھی کام کو تماشہ بنانا تو کوئی ہم سے سیکھے۔ کہنے کو تو اس ملک میں پچھلے کچھ عرصے سے جمہوریت ہے اور تمام اختیارات قومی اسمبلی اور منتخب وزیراعظم کے پاس ہیں لیکن خارجہ پالیسی کہاں بنتی ہے، ملک میں بدعنوانی کی تحقیقات کون کر رہے ہوتے ہیں، کبھی کبھار تو تھانیدار کا کام بھی خادم اعلٰی کر رہے ہوتے ہیں۔

جس اسمبلی کا کام قانون سازی ہے اس کے بیشتر ممبران گلیاں اور سڑکیں بنانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ عدالت میں کوئی مقدمہ ابھی پوری طرح رجسٹر بھی نہیں ہوپاتا مگر ٹی وی چینلز اور چوراہوں پر پہلے ہی کچہریاں سج جاتی ہیں اور پھر ہر کوئی روزانہ کی بنیاد پر اپنا اپنا انصاف فراہم کر رہا ہوتا ہے۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا تو جیسے ہے ہی عدالت اور وہ بھی صرف سیاسی عدالت۔ حرام ہے جو میڈیا پاکستان کے غریب عوام کے دکھوں یا ان کے حقیقی مسائل پر بات کرتا نظر آئے ۔ مثال کے طور پر مزدور کی مزدوری کو موضوع بنایا جائے یا عوام میں شعور کی کمی پر بات کی جائے،  تعلیم کی حالت زار کو زیر بحث لایا جائے،  عوام میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر کسی مذاکرے کا اہتمام کیا جائے،  ملک میں روز افزوں بگڑتی ہی صحت کے مسائل پر بات کی جائے۔ ملک کے طول و عرض پر پھیلتے ہوئے گداگروں کی جانچ پڑتال کا کوئی ذریعہ پیدا کیا جائے۔ لوگوں کو قطار بنانے کی ترغیب دی جائے،  لوگوں کو ان کے حقوق و فرائض کا ادراک کروایا جائے، عورتوں کی حالت زار پر کوئی پروگرام پیش کیا جائے۔ آبادی کے بے قابو جن پر قابو پانے کے لئے کچھ کیا جائے۔ لوگوں کو ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی،  جھوٹ اور منافقت جیسی لعنتوں سے بچانے کے لیے کوئی پروگرام دیا جائے یا پھر مہذب دنیا کے میڈیا کی طرح حقیقی معنوں میں کرپشن اور بدعنوانی کی تحقیقات کرکے بدعنوان لوگوں کو سامنے لایا جائے۔ جسے عدالتوں میں بھی ثابت کرنا مشکل نہ ہو۔

 اور یہ کام انتہائی ایمانداری اور غیر جانبداری سے سرانجام دیا جائے۔ اس طرح کہ چیف جسٹس صاحب کو یہ کہنا نہ پڑے کہ  اخبارات میں تو پکوڑے بیچے جاتے ہیں۔ کم از کم چیف جسٹس صاحب کو تو علم ہو کہ اخبار میں لپٹے پکوڑے مضر صحت ہوتے ہیں۔ اور اخباری رپورٹر کی تحقیق قابل اعتبار ہوتی ہے۔ لیکن ہمارا میڈیا تو فضول قسم کے موضوعات کو لے کر اس پر منجن فروش قسم کے دانشوروں کو بیٹھا کر عوام کو ہر طرح سے بے وقوف بنانے کی سعی کرتے نظر آتا ہے۔ اب پاناما کے مقدمے کو ہی لیجیے۔ جب سے یہ قضیہ  بین الاقوامی میڈیا  میں آیا ہے تب سے ہی پاکستان میں الٹی گنگا زور و شور سے بہ رہی ہے۔ دوسرے  تمام  ممالک میں متعلقہ اداروں یا اتھارٹیز نے اپنے اپنے ملکوں میں ملوث لوگوں کی تحقیقات شروع کیں اور بیشتر ممالک نے بہت جلد ان کو منتقی انجام تک پہنچا دیا۔ نہ کہیں اپوزیشن جماعتوں کے دھرنے دینے کی نوبت آئی اور نہ ہی سال بھر میڈیا میں پاناما پاناما کھیلا گیا۔ اور اگر کسی ملک میں عوام نے وزیراعظم کا گھیراؤ کیا بھی تو اگلے 48 گھنٹے میں وزیراعظم مستعفی بھی ہو گیا۔

لیکن ہمارے ہاں کیا تھا،  کیا مجال کسی تحقیقاتی ادارے کی یا جن کے ذمے یہ کام تھا کہ ان کے کان پر کوئی جوں بھی رینگی ہو۔ البتہ اقتدار سے محروم سیاستدانوں،  میڈیا اور ملک میں گیم چینجر ایجنسیز کو کھیل میسر آگیا اور پھر چل سو چل۔   آپ سب جانتے ہیں  کہ کن مراحل سے گزر کر معاملہ ملک کی اعلی عدالت تک پہنچا اور اس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر ٹی وی چینلز پر اور چوراہوں پر انصاف کی لوٹ سیل شروع ہوئی۔ خدا خدا کرکے عدالتی کارروائی مکمل ہوئی اور فیصلہ محفوظ ۔ اس ملک میں آج تک عدالتوں کے فیصلوں کے علاوہ کبھی کوئی چیز محفوظ نہیں رہی۔ البتہ عدالتی فیصلوں کو پورا پورا تحفظ حاصل ہے بلکہ کئی ایک فیصلے تو قیامت تک محفوظ ہو چکے ہیں۔ ان عدالتوں کے علاوہ کئی ایک کمیشنز بھی بنائے گئے ان کے فیصلے تو عدالتوں کے فیصلوں سے بھی زیادہ محفوظ ہیں۔ اور آج تک کوئی ان کو ہوا تک نہیں لگا سکا۔ اس لحاظ سے ہمارا ملک دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے۔ یہ الگ بات کہ فیصلوں اور کمیشنز رپورٹس کے علاوہ اس ملک میں کوئی چیز بھی محفوظ نہیں ہے۔ چاہے وہ ملک کا وزیراعظم ہو یا سابق وزیراعظم کا بیٹا اور موجودہ وزیراعظم کا  بھائی یا خود سابق وزیراعظم ہی کیوں نہ ہوں۔

یہاں تو یونیورسٹیوں کے طالب علم اور قومی ائیر لائن کے مسافر اور ہمارے معزز مہمان بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ لوگوں کے مال محفوظ اور نہ عزت۔ کسی کی پگڑی محفوظ اور نہ دھوتی۔ کسی کا گھر محفوظ اور نہ زمین۔ کسی کا ایمان محفوظ اور نہ دین۔ تو پھر یہ غنیمت ہی تو ہے کہ اس ملک میں عدالتی فیصلوں اور کمیشنز رپورٹس کو پورا پورا تحفظ حاصل ہے۔ دعا کرنی چاہیے کہ اس ملک کے انسان اور ان کی عزتوں کو بھی عدالتی فیصلوں کا مقام مل جائے تاکہ وہ بھی محفوظ ہو جائیں۔ ویسے تو اگر اس ملک کو انصاف فراہم کرنے والے جج ، ملک کی حفاظت کرنے والی فوج، سچ بولنے والے سیاستدان، صاحب علم استاد اور دانشور مل جائیں اور مذہب کی تجارت کرنے والے علماء سے نجات مل جائے تو ہمارا سارا ملک ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو سکتا ہے۔

بات دور نکل گئی کیوں کہ میں قوم کو جذبات سے نجات کا سبق سیکھاتے سیکھاتے خود جذبات کی رو میں بہنے لگا ہوں۔  بات ہو رہی تھی کہ لگ بھگ کل ملا کر 36 سماعتوں کے بعد ہماری عدالت عظمٰی نے جس فیصلے کو مکمل طور پر محفوظ کر دیا تھا 55 دن بعد اس پر سے تحفظ اٹھانے کا اعلان کیا تو پورا ملک ایک ہیجان میں مبتلا ہو گیا ۔  نورین لغاری کون تھی، کوئی مشعال خان بھی تھا جس کو تعلیم یافتہ ہجوم نے شغل شغل میں قتل کر دیا تھا۔ ایک خاتون پروفیسر لاہور کے انتہائی گنجان آباد علاقے میں قتل ہو گئی۔ یہ سب قصہ پارینہ ہوئے اور پوری کی پوری قوم، میڈیا، سیاستدان، دانشور اور حکومت سمیت  سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر اس فیصلے کے استقبال میں جت گئے۔  ایک ایسا ہیجان پیدا کر دیا گیا  کہ جیسے کوئی زلزلہ آنے والا ہو۔ ویسے تو جب سے یہ فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا تب سے ہی اس پر رنگ برنگے تبصرے چٹکلے اور لطیفے شروع ہو گئے تھے۔ خاص کر سوشل میڈیا پر۔ لیکن اس اعلان کے بعد کہ 2 دن میں فیصلہ سنایا جائے گا۔ پورا پاکستان ہل گیا ہے جو مشعال خان کے قتل پر کروٹ بھی نہ لے سکا۔

اب بندہ پوچھے کہ فیصلہ بیشک انتہائی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہی سہی بہرطور یہ ایک مقدمہ ہے اور خالص عدالت کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ حقائق اور دلائل کی بنیاد پر اس کا فیصلہ کرے۔  تو پھر یہ باقی سارے لوگ اتنا زور کیوں لگا رہے ہیں۔  اتنا ہنگامہ کیوں برپا ہے۔ کل سے ملک میں بینر، سکولوں میں دعائیں اور مٹھائیاں بک کرانے میں مصروف قوم کے دماغ اپنے فیصلے بھی صادر کیئے جا رہے ہیں۔ کیا لوگ ہیں یہ کون لوگ ہیں۔ اب مجھے یہ تو پتہ نہیں کہ میرا کالم کب تک اخبار میں چھپے گا اور کسی کے پاس اس کو پڑھنے کا وقت بھی ہوگا کہ نہیں البتہ میں بھی جاتے جاتے جلدی جلدی مقدمے کے فیصلے کی پیشین گوئی کر دوں۔ جی میرے خیال کے مطابق فیصلہ آج محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ البتہ میری دعا ہے کہ یہ ملک قیامت تک محفوظ رہے ۔ نواز شریف بچے یا مریم البتہ اس ملک کو بچنا چاہیے ۔ میری پیشن گوئی کے مطابق آج 2 بجے فیصلہ جناب آصف سعید کھوسہ   جو سابق چیف جسٹس نسیم حسن صاحب کے داماد ہیں سنائیں گے اور ملک کے طول و عرض پر مٹھائیاں تقسیم ہوں گی شکرانے کے نوافل ادا ہوں گے اور فتح فتح کے نعرے بلند ہوں گے۔ اگر میری بات سچ ثابت ہوئی تو پھر آپ مجھے دانشور سمجھ لینا اور اگر علم نجوم کا کوئی نوبل انعام ہوا تو اس میں میری نامزدگی لازمی ہونی چاہیے ۔

ویسے میں نے ایک سیشن جج صاحب سے پوچھا تھا کہ آپ فیصلے کس بنیاد پر کرتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ہمارے سامنے ایک طرف انصاف ہوتا ہے جو کرنے کا دل بھی چاہتا ہے لیکن اس کے برابر میں اپنا مستقبل،  بھائی یا بہن کے لیے اعلی عہدہ بچوں کے لئے نوکری کا معاملہ اور ڈھیر ساری دولت اور دنیا کی خوشیاں بھی ہوتی ہیں اور آخر ہم بھی تو گوشت پوست کے بنے انسان ہیں نا۔