یہ الیکشن، یہ ریفرنڈم ستمگر کیوں ہونے لگے

  • تحریر
  • جمعہ 21 / اپریل / 2017
  • 4407

ترکی کے کانٹے دار ریفرنڈم کی گرد ابھی ہوا میں تھی کہ برطانوی وزیر اعظم ٹیریسا مے نے اعلان کیا کہ جون کے اوائل میں قبل از وقت جنرل الیکشن ہوں گے۔ گزشتہ سال کے ریفرنڈم کے مطابق برطانیہ یورپی یونین سے نکلنے کا عمل شروع کر چکا ہے لیکن پارٹی کے اندر سے وزیراعظم کو جس طرح کی مضبوط حمایت چاہیے، اس کا حل انہوں نے نئے الیکشن میں ڈھونڈا ہے۔ اگلے ہفتے فرانس میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ ہو گی۔ یورپی یونین بیزار لی پین فیورٹ قرار دی جا رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ ہالینڈ میں اسی طرح کا کانٹے دار مقابلہ تھا جس میں اصل مقابلہ مسلم بیزار گیرخ ولڈرز اور وزیر اعظم روتّے کے درمیان ہوا۔ نتائج آئے تو پورے یورپ نے سکھ کا سانس لیا کہ ولڈرز توقع سے کہیں کم ووٹ حاصل کر سکے۔

جمہوری نظام میں الیکشن ہی تبدیلی کا ذریعہ ہیں۔ عام حالات میں مسائل پر حکومتی کارکردگی غیرتسلی بخش ہو تو اپوزیشن اور عوام کو انتخابات کا انتظار رہتا ہے کہ ووٹ سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرکے دوسرے کو موقع دے دیں گے۔ جمہوری تسلسل والے کئی ملکوں میں مین اسٹریم پارٹیوں کی تعداد کم ہو کر دو یا تین رہ گئی ہے جبکہ کچھ ملکوں میں اس سے الٹ ہے۔ ہالینڈ جیسے آبادی کے اعتبار سے چھوٹے ملک میں گزشتہ الیکشن میں ستائیس پارٹیوں نے شرکت کی۔ گزشتہ کئی سالوں اور انتخابات کے بعد وہاں مخلوط حکومت ہی بن پاتی ہے۔ حکومتی ڈھانچہ اس قدر مضبوط ہے کہ مخلوط حکومت کے باوجود کاروبار حکومت میں کوئی خاص کھینچا تانی نہیں ہوتی۔ بیلجئیم میں بھی کچھ یہی کیفیت بار بار رونما ہوئی ہے ۔ جمہوری ممالک میں الیکشن ، ووٹنگ، حکومت کا بننا ایک معمول کا عمل رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے جمہوری نظام کی یہی خوبی بار بار سامنے آتی رہی کہ ان کے ہاں انتخابات کا تسلسل رہتا ہے۔ عوام کی رائے کو فوقیت مل کر رہتی ہے۔ دھاندلی کے امکانات بہت کم پائے جاتے ہیں ۔ تبدیلی کا عمل خاموشی سے طے پا جاتا ہے۔ ایک بار نتائج سامنے آ گئے تو بات ختم ہو گئی لیکن اب یہ سب کچھ تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔

گزشتہ سال برطانیہ نے اس سوال پر ریفرنڈم کا فیصلہ کیا کہ انہیں یورپی یونین کا حصہ رہنا چاہیے یا یورپ سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔ امیگرینٹس کی موجودگی میں ملازمتوں ، سوشل ویلفئر ، ہاؤسنگ اور اسکولوں تک بہت دباؤ بڑھ گیا ، مقامی آبادی میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس سے قبل شمالی آئرلینڈ میں علیحدگی کے سوال پر ریفرنڈم میں معمولی مارجن سے برطانیہ کے ساتھ رہنے کے نتیجے نے برطانیہ کو سکھ کا سانس لینے کا موقع دیا۔ یورپی یونین سے علیحدگی کے ریفرنڈم کو BREXIT کا نام دیا گیا۔ تمام جائزوں اور ماہرین کی آراء کے برعکس نتیجہ آیا تو یورپ سمیت دنیا کو حیران کر گیا۔ ڈیوڈ کیمرون کو استعفیٰ دینا پڑ گیا۔ شمالی آئرلینڈ یورپی یونین سے علیحدگی کے خلاف تھے، انہیں یہ فیصلہ قبول نہ ہوا۔ اسی ماہ شمالی آئرلینڈ کی حکومت نے برطانیہ سے علیحدگی کے لیے ایک اور ریفرنڈم کی اجازت کے لیے مرکزی حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔ ابھی یہ قضیہ طے نہیں ہوا تھا کہ وزیراعظم نے نئے الیکشن کا ڈول ڈال دیا ہے۔ چار سالوں میں برطانیہ میں یہ چوتھا الیکشن یا ریفرنڈم ہوگا۔

میڈیا اور عوام میں الیکشن تھکاوٹ کی باتیں بھی چل نکلی ہیں۔ ٹیریسا مے کا مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی کے اندر اختلافی عناصر کی موجودگی میں یورپی یونین کے ساتھ BREXIT کے صبر آزما اور پیچیدہ مذاکرات کے لیے مظبوط اندرونی حمایت کافی نہیں ہے ۔ دوسری طرف عوامی رائے کے سروے میں ان کی حمایت مد مقابل سے بیس فی صد زیادہ ہے۔ اسی عوامی پسندیدگی کو بنیاد بنا کر انہوں نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ نتیجہ سیاسی استحکام نکلتا ہے یا پہلے سے بھی زیادہ عدم استحکام، یہ تو نتیجے کے ساتھ ساتھ وقت ہی بتائے گا کہ دنیا میں اکثر حالیہ انتخابات نے استحکام کی بجائے ایک نئی بے یقینی کو جنم دیا ہے۔

امریکہ میں دو جماعتی سیاسی نظام کئی دِہایوں سے رائج ہے۔ بلکہ کئی ماہرین اور مبصرین اس نظام کے لیے رطب السان رہے ہیں۔ امریکہ کے سیاسی اور انتخابی نظام پر تنقید کرنے والوں کی بھی کمی نہیں لیکن یہ امر تقریباٌ طے شدہ سمجھا گیا کہ دو جماعتی نظام کی وجہ سے دنیا کی سپر پاور میں انتقال اقتدار میں ایک طرح کا طے شدہ امر تھا جس سے دنیا کو بھی بے یقینی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور اندرون ملک بھی۔ صدر ڈیموکریٹ ہو گا یا ری پبلکن۔ دونوں پارٹیوں کے نظریات بھی سب کو معلوم ہیں اور ان کی ترجیحات بھی۔ ورلڈ آرڈر کے اپنے تئیں پاسبان اور دنیا کی سپر پاورمیں تبدیلی کے اس جمہوری عمل کی دنیا کو اس قدر عادت ہو گئی تھی کہ چہروں کی معمول کی تبدیلی کے سوا ان انتخابات میں دنیا کی دلچسپی اس سے زیادہ نہ تھی۔ نئے صدرکے بعد کی ملکی اور عالمی پالیسیاں بھی حسب توقع رہتیں۔ ڈیموکریٹ اور ری پبلکن کے اپنے اپنے انداز کے مطابق۔ لیکن اس بار سکوت کے اس سمندر میں تلاطم آگیا۔ انتخابی ریس میں ایک غیر سیاسی پس منظر والا شخص ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے آیا ، انتخاب کا پانسہ بھی پلٹ دیا اور اور اس جانے پہچانے یقین کو بھی۔ موصوف کے ا بھی ایک سو دن مکمل نہیں ہوئے لیکن اب تک انہوں نے ملک کے اندر اور دنیا بھر میں بے یقینی کو ایک نئے آسمان پر پہنچا دیا ہے۔

یورپی یونین دوسری جنگ عظیم کے بعد سرمایہ دارانہ اور جمہوری نظام کا شاندار کارنامہ تھا اور ہے بھی۔ لیکن اب یہی جمہوری نظام اس شاندار کارنامے کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ یورپی یونین کا اپنا حکومتی ڈھانچہ برسلز میں ہے۔ برطانیہ سمیت اٹھائیس ممالک اس کے ممبر ہیں۔ اس کی اپنی اجتماعی خارجہ پالیسی ہے، مرکزی بنک اور یونین کے لیے مالیاتی پالیسیاں ہیں۔ دفاعی اتحاد نیٹو کے ساتھ ہے۔ برسلز میں یورپی یونین کا اقتدار دھیرے دھیرے اس قدر مظبوط اور ہمہ گیر ہو گیا ہے کہ اکثر ممبر ممالک کے ہاں مقامی مسائل کے حل کے لیے Space نہیں بچی۔ تجارت، بینکنگ سمیت ہر معاملے میں یورپی یونین کے قوانین اور ضوابط نے ممبر حکومتوں کے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔ اکثر ممبر ملکوں میں بے روزگاری دوہرے ہندسے میں ہے۔ تارکین وطن کے بڑھتے ہوئے عمل دخل نے مقامی اور قدیمی کلچر کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ معاشی اور معاشرتی نظام میں در آنے والی یہ بے چینی با لآخر اینٹی یورپی یونین جذبات کی شکل میں سامنے آرہی ہے۔ مغربی یورپ کے بیشتر ممالک میں یورپی یونین بیزار سیاسی گروپس اور سیاسی جماعتیں اب اس قدر مظبوط ہو رہی ہیں کہ انتخابات میں کانٹے دار حریف ثابت ہو رہی ہیں۔ ان سیاسی گروپس کی مظبوط پوزیشن ظاہر کر رہی ہے کہ یورپی یونین پر سے بے یقینی کے سائے ٹلنے والے نہیں۔

ترکی میں بھی ایک کانٹے دار ریفرنڈم اس اتوار کو ہوا۔ ترکی کے سیکولر اور جمہوری آئین میں اٹھارہ کے لگ بھگ بنیادی ترامیم پر ہاں یا ناں پر ریفرنڈم تھا۔ ترکی کے سیاسی منظر نامے پر گزشتہ دو دِہائیوں کے لگ بھگ طیب اردووآن چھائے ہوئے ہیں۔ ترکی کی معیشت میں نمایاں بہتری ان کا ایک نمایاں کریڈٹ ہے۔ انہوں نے حکومت میں فوج کے روایتی کردار کو ختم کر دیا جو بظاہر انہونی تھی۔ اقتدار پر ہر گزرتے سال ان کی گرفت مظبوط ہوتی گئی۔ آئینی طور پر وزیراعظم کے لیے انتخاب نہ لڑ سکنے کی مجبوری کی وجہ سے صدر منتخب ہوئے تو اختیارات کا مرکز بھی ان کے ساتھ منتقل ہو گیا۔ گزشتہ سال کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد اور ایمرجنسی کی موجودگی میں انہوں نے ترکی کے جمہوری نظام کو مکمل صدارتی نظام میں تبدیل کرنے اور صدر کے لیے عدالتی اور کابینہ کی تشکیل سمیت ایسے اختیارات کے لیے ریفرنڈم کا ڈول ڈال دیا۔ ریفرنڈم کا نتیجہ آیا تو معمولی برتری سے طیب اردووآن جیتے لیکن ریفرنڈم میں بے ضابطگیوں اور اپوزیشن کے الزامات نے ایک نئی بے یقینی کو جنم دیا ہے۔

الیکشن اور ریفرنڈم پرسکون انتقال اقتدار اور بے یقینی سے بچاؤ کا ایک مسلمہ جمہوری نسخہ رہا ہے لیکن گزشتہ ایک سال میں اکثر ملکوں میں اس کے بطن سے بے یقینی اور سیاسی تفریق برآمد ہونے لگی ہے۔ بظاہر تو یہ بے چینی اچانک نمودار ہوئی  ہے لیکن عملاٌ اس بے چینی کا لاوا کئی سالوں بلکہ دِہائیوں سے پک رہا ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر میں معیشت اور سیاست پر عالمی اداروں اور علاقائی اداروں کا اثر دھیرے دھیرے غالب آگیا ہے۔ اس قدر غالب کہ حکومتوں کے پاس ان کے مسلمّہ اصولوں سے روگردانی ممکن نہیں رہی۔ کرنسی ایکسچینج ریٹ ہوں یا مالیاتی خسارے کی حدود کا تعین، کسی بھی شعبے کو سبسڈی دینے کا معاملہ ہو یا عالمی تجارت میں اپنی انڈسٹری کو تحفظ دینے کی بات، حکومتیں عالمی معاہدوں کی پابند ہیں۔ مشہور سوشیالوجسٹ زگمنٹ باؤمان کا خیال ہے کہ اس نئے سیاسی اور ورلڈ آرڈر میں کچھ کر گزرنے کی طاقت کا بیشتر حصہ عالمی اور علاقائی اداروں کو منتقل ہو چکا ہے۔ لیکن عوام کے مسائل بدستور مقامی نوعیت کے ہیں۔

اختیارات کی اس نادیدہ نئی تقسیم نے حکومتوں کو بہت حد تک بے اثر کر دیا ہے۔ وسائل اور پبلک پالیسیوں پر غیر محسوس انداز میں ملٹی نیشنل کمپنیوں، بنکوں اور دولت و سیاست پر اثر اندازی سے لیس ایک محدود اشرافیہ کے غلبے سے مسلسل ایسے اقدامات اور پالیسیاں برآمد ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں وسائل تیزی سے ان کی طرف منتقل ہو رہے ہیں جبکہ عوام کے شب و روز ہر گذرتے دن مشکل سے مشکل تر ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کے بعد ایک ملک میں یہ بے چینی اب سیاست اور بیلٹ باکس کے ذریعے ظاہر ہو رہی ہے۔

پانامہ کے مسئلے پر ہمارے ہاں بھی سیاسی تفریق اپنے عروج پر ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے بے یقینی ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئی بے یقینی کا دریا بہہ نکلا ہے۔ اس قدر تقسیم اور سیاسی عصبیت سے لبریز ماحول میں اپنے وقت پر یا قبل از وقت ہونے والے انتخابات ملک کو سیاسی استحکام دے سکیں گے یا ایک نئی بے یقینی اور عدم استحکام کا سامنا ہو گا۔ حالیہ سالوں میں ہونے والے دنیا بھر میں انتخابات اور ریفرنڈم اور اپنے ہاں کا تجربہ تو کسی اور ہی رجحان کا اشارہ دے رہے ہیں۔ یعنی بقول منیر نیازی:
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا