پاک ہند کشمیری ایجنٹ اور بے لگام جج

را کے وہ ایجنٹ جنہیں پاکستان میں ہیرو سمجھ لیا گیا کے عنوان سے ندیم پراچہ کا ایک مضمون آج کل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ متعدد قارئین کہتے ہیں کہ یہ نام پہلی دفعہ ان کی نظروں سے گزر رہا ہے البتہ ہمارے نزدیک مضمون نگار کے بجائے مندرجات پر زیادہ توجہ دی جانی چائیے۔ اور اس سوال پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ پنتالیس سال قبل کے واقعہ کو آج ایک بار پھر کیوں اچھالا جا رہا ہے۔

مضمون نگار نے گنگا ہائی جیکرز ہاشم قریشی اور اشرف قریشی کو بھارت کا جاسوس قرار دیا ہے۔ ان دونوں پر پاکستان میں مقدمہ چلا۔ ہاشم قریشی کو 8 سال سزا ہوئی اور اشرف قریشی کو بری کر دیا گیا۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی کو بھی پاکستانی عدالت نے بھارت کا ایجنٹ قرار نہیں دیا۔ البتہ خود مختار کشمیر کی سوچ رکھنے کی وجہ سے انہیں بعض سیاسی حلقوں نے پسند بھی نہیں کیا۔ ہمارے معاشرے میں جب کسی کی سوچ و فکر سے اختلاف کیا جاتا ہے تو اسے دلائل کے ساتھ غلط ثابت کرنے کے بجائے سب سے بڑا مجرم، غدار اور ایجنٹ قرار دے کر بدنام کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں بہتان تراشی کی کوئی سزا نہیں۔ اسلامی اصولوں کے مطابق بہتان تراشی، الزام تراشی کے نسبت زیادہ سنگین جرم ہے۔ الزام سچا بھی ہو سکتا ہے اور جھوٹا بھی لیکن بہتان دانستہ طور پر کسی کو بدنام کرنے کے لیے لگایا جاتا ہے۔ اس لیے اس کی سزا واضح اور سخت ہے۔ (النور 6-4) ہمارا معاشرہ اس حد تک بے لگام ہو چکا ہے کہ اگر عدالت کسی ملزام کو بے گناہ قرار بھی دے تو بھی لوگ قانونی جنگ کے زریعے عدالتی فیصلوں کو غلط ثابت کرنے کے بجائے، خود فیصلے کرنے شروع کردیتے ہیں۔ اور  بعض اوقات قانون ہاتھ میں لے کرکسی کی جان بھی لے لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں انارکی پھیلتی ہے اور ہم دنیا میں بدنام ہوتے ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان سے کئی سال بعد آزاد ہونے والے ممالک نے بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ لیکن یہ دونوں ملک  آج تک اپنے درمیان کوئی مسلہ حل نہیں کر پائے۔ بلکہ پاکستان کو تو مستقبل قریب میں غیر ملکی ایجنڈے سے ہی نجات ملنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی ۔ اس سے پہلے کہ میں آپ کو اپنے تجربات کی روشنی میں بتاؤں کہ ہندوستان اور پاکستان میں کس طرح کشمیریوں کو بوقت ضرورت استعمال کرنے کے لیے کاغذی ایجنٹ بنایا جاتا ہے، پہلے  ندیم پراچہ کی حقائق سے بے خبری کی چند مثالیں دے دوں۔ موصوف نے ہاشم قریشی اور اشرف قریشی کو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا رکن قرار دیا ۔ گنگا ہائی جیکنگ 1971 کا واقعہ ہے جبکہ لبریشن فرنٹ 1977  میں برطانیہ میں قائم ہوا۔ گنگا ہائی جیکنگ کے وقت محاز رائے شماری خود مختار کشمیر کی حامی ایک سیاسی پارٹی تھی جبکہ مقبول بٹ شہید کی قیادت میں این ایل ایف اس کا عسکری ونگ تھا۔ اور اس کی تمام تر کاروائیوں کا مرکز بھارتی مقبوضہ کشمیر تھا۔ ایک ہی روز میں فلسطینیوں نے جب اسرائیل کے چھ جہاز اغوا کیے تو کشمیریوں نے بھی متاثر ہو کر یہ کاروائی کی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے پہلے بیان دیا کہ کاش یہ کام میرا مرتضی اور شاہ نواز کرتے۔ لیکن ہمیشہ کی طرح عالمی دباؤ کے نتیجے میں ریورس گئیر لگاتے ہوئے محاز رائے شماری پر مقدمہ دائر کر دیا۔ پاکستان کو مجیب اور بھٹو کے اقتدار کی جنگ نے توڑا تھا۔ اس میں کسی کشمیری کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اب اگر بھارتی جاسوس یادو کی کتاب میں ہاشم اور اشرف پر بھارتی ایجنٹ ہونے کا کوئی الزام ہے تو اس کتاب کا نام اور صفحہ نمبر بھی لکھ دینا چائیے تھا تاکہ ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا۔ لیکن ہمارے پاس بے شمار ایسے ثبوت موجود ہیں کہ اس طرح کے الزامات دانستہ طور پر کسی خاص مقصد کے لیے کسی خاص وقت پر استعمال کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں، جن میں سے ایک یہ الزام بھی ہے۔ بھارت نے مقبول بٹ شہید کو پھانسی دے کر تہاڑ جیل کے اندر دفن کیا ہوا ہے۔ کشمیر ی مسلسل ان کے جسد خاکی کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارتی جاسوس اس طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر رائے عامہ کو کشمیری حریت پسندوں کے خلاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ادھر ادھر سے الزامات کے بجائے ہمارے نزدیک سب سے معتبر پاکستانی عدالت کا فیصلہ ہے جس میں کسی کشمیری حریت پسند کو بھارت کا ایجنٹ قرار نہیں دیا گیا۔

ندیم پراچہ کی کم علمی کا دوسرا بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کے مطابق اشرف قریشی مظفرآباد میں دفن ہیں جبکہ مرحوم میرپور میں دفن ہیں۔ ان کا یہ دعوی بھی غلط ہے کہ بھٹو کے حامی انہیں زبردستی اغوا کار ہاشم اور اشرف کے پاس لے گئے تھے اور لہر میں آ کر انہوں نے ہاشم اور اشرف کو ہیرو قرار دے دیا۔ اگر ایسا ہے تو شاید بھٹو صاحب نے یہ بھی لہر میں آ کر کہہ دیا ہوگا کہ جو مشرقی پاکستان جائے گا ہم اس کی ٹانگیں تو ڑ دیں گے۔ اور جب پاکستان مشرقی پاکستان میں جنگ ہار رہا تھا تو پولینڈ نے اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی قرارداد پیش کی تھی جسے  بھٹو پھاڑ کر واک آؤٹ کر گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔ کیا یہاں بھی بھٹو صاحب کو کوئی کشمیری ایجنٹ یا اپنے چاہنے والے ہوا دے رہے تھے ۔ میں جب بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں برطانوی حکومت کی طرف سے غیر عدالتی سزا کو چیلنج کر رہا تھا تو مجھے بعض با اثر لوگ مشورہ دے رہے تھے کہ برطانیہ جیسی قوت کو سیاسی اور قانونی طور پر شکست دینا مشکل ہے۔ لہذا ان کی تجاویز مان لو۔ برطانوی تجویز یہ تھی کہ مہاترے کو پاکستان کی آئی ایس آئی نے قتل کروایا ہے۔ اس لیے تم عدالت میں اگر سچ بتا دو تو تم پر قتل کا مقدمہ چلانے کے بجائے چھوٹا سا الزام لگا کر جلد بری کر دیں گے۔ 

22 سال تک میرے خلاف کیس چلتا رہا لیکن میں نے یہ تجویز نہ مانی اور اگر مان جاتا تو مجھے مشورہ دینے والے آج ایجنٹ کہہ رہے ہوتے۔ انہی دنوں میں بھارت کی جیل سے جیش محمد کے سربراہ مولانا اظہر کو رہا کروانے کے لئے ایک جہاز اغوا کرکے کابل لایا گیا۔ بھارت نے اس کا ذمہ دار کشمیریوں کو ٹھہرایا لیکن آزاد کشمیر اور بعض برطانوی کشمیری سیاستدانوں نے تواتر کے ساتھ کہنا شروع کر دیا کہ جہاز کو اغوا کرنے والے کشمیری بھارت کے ایجنٹ ہیں۔ جب میں نے چند ایک سے پوچھا کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ اغوا کار کشمیری ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایسا کہنا وقت کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا آج وقت کی ضرورت ہے لیکن کل لوگ کشمیری حریت پسندوں کے خلاف آپ کے ان غیر حقیقی بیانات کو ثبوت کے طور پر پیش کریں گے۔

بعد میں یہ ثابت بھی ہو گیا تھا کہ مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے اغوا کیے جانے والے بھارتی جہاز کے اغواکار کشمیری نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق طالبان سے تھا۔ وہ اسی وجہ سے جہاز کابل لے گئے تھے۔ اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ بعض اوقات کشمیریوں کو وقت کی ضرورت کے تحت ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔ جو حقیقی معنوں میں ایجنٹ ہیں ان کی طرف کوئی انگلی کھڑی نہیں کرتا۔