پانامہ فیصلہ اور فریقین
- تحریر چوہدری ذوالقرنین ہندل
- اتوار 23 / اپریل / 2017
- 4861
بیس اپریل کومقررہ وقت دو بجے کے قریب پانامہ لیکس کا فیصلہ سنایا گیا۔ جس میں پی ٹی آئی ، شیخ رشید اور جماعت اسلامی کی اس استدعا کو مسترد کر دیا گیا کہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ تحریک انصاف ، عوامی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی نے جو دستاویزات پیش کی ہیں وہ تحقیق طلب ہیں ان کی تحقیق کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اسے تحقیقات مکمل کرنے کے لئے دو ماہ کا وقت دیا جائے۔
عدالتی فیصلہ پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلہ میں کرائم سیریز موویز اور ناولز کے حوالے دئیے گئے۔ جن کو ماہر قانون عاصمہ جہانگیر نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس تاریخی فیصلہ میں دو ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم کو جھوٹا گردانتے ہوئے نااہل قرار دے دیا۔ ٹربیونل کے باقی تین ججز نے خدشات کی بنا پر معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا۔ تاہم تحقیقات پر پانچوں ججز نے اتفاق کیا۔ پانچوں ججز نے شریف خاندان کی طرف سے پیش کئے گئے شواہد کو بے بنیاد قرار دیا۔ یہاں تک کہ شہرت پانے والے قطری خط کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جس میں مختلف اداروں کے نمائندے شامل تفتیش ہوں گے۔ آئی ایس آئی کا نمائندہ بھی اس ٹیم کا حصہ ہوگا۔ سینئر و نامور قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن کی طرف سے جے آئی ٹی و آئی ایس آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو انتہائی نامناسب ہے۔ جس کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ مسلح افواج کی ساکھ کسی قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔
فیصلہ کے فوری بعد تمام فریقین کی کیفیت بھی مختلف تھی۔ فیصلہ کے فوری بعد حکومت کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا مٹھائیاں بانٹی گئیں، بھنگڑے ڈالے گئے(نہ جانے کس خوشی میں)۔ دوسری طرف اپوزیشن میں موجود باقی فریقین پی ٹی آئی اور دوسری جماعتیں فیصلے کی نوعیت کو سمجھنے میں مصروف ہو گئیں۔ مگر سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں نے سخت رویہ اختیار کیا ۔ کسی نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ سنا دیا ، کسی نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنا دیا ، یہاں تک کے ایسے کمنٹس بھی ملے کہ تین ججز جیو اور دو اے آر وائے دیکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے طرح طرح کے طعنے کسے گئے۔ جیسے ہی کچھ گھنٹے گزرے قانونی ماہرین نے تبصرے شروع کئے تو لوگوں کو فیصلے کی نوعیت کا اندازہ ہونا شروع ہوگیا(جس کا کام اسی کو ساجھے)۔ اور یہ جاننے میں کامیاب ہوئے کہ درحقیقت کس کی فتح اور کس کو شکست ہوئی۔ پی ٹی آئی کی طرف سے مشاورت کے بعد مٹھائی بانٹی گئی جیت کی فتح کی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور میڈیا پر لوگوں کے تاثرات بدلنے لگے۔ دن گزرا تو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر موجود حامیوں نے اپنی جیت کے اسٹیٹس لگانے شروع کئے جو کل تک فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ دوسری طرف گزشتہ دن کی خوشیاں منانے والے مسلم لیگ نواز کے کارکن کچھ مایوس نظر آئے۔ درحقیقت عدالتی فیصلے کو فوری کوئی بھی نہ سمجھ سکا ۔ جس کی بدولت یعنی نہ سمجھی کی وجہ سے لوگ سر عام توہین عدالت کرتے نظر آئے، سوشل میڈیا اور میڈیا دونوں محاذ پر۔ جو قابل مذمت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عدالتی فیصلے ہمیشہ سے ہی بے بس رہے۔ عدالتی فیصلہ درست ہی سنایا جاتاہے ۔ فیصلہ ججز کی جانچ کے بعد درحقیقت ان کی رائے یعنی ان کے خیالات ہوتے ہیں جو حکم کی صورت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اداروں ، عوام اور فیصلے کے فریقین نے کبھی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ عدالتوں سے زیادہ قصور وار تو ادارے ہیں جو عدالتی فیصلوں پر عملدراآمد نہیں کرواتے۔ عدالتوں سے زیادہ قصور وار وہ وکیل ہیں جو روپے کے عوض جھوٹے دلائل جھوٹے گواہ اور جھوٹی کہانیاں گھڑ کر ججز کو فیصلے کی نوعیت بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ عدالتوں سے زیادہ قصور وار وہ عوام اور فریقین ہیں جو عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔م
ختصر یہ کہ ہم لوگ خود اپنے عدالتی وقار اور اپنی عدالتوں کی توہین کرتے ہیں اور توہین عدالت کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔ بلکہ عدالتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ان کے کام میں رکاوٹ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ میں پاکستانی عدالتوں کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں جو بیک وقت طاقتور فریقین، غنڈہ گرد وکلاء ، نااہل اداروں اور دوغلی عوام کے ہوتے ہوئے بھی اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے۔ اس کے بعد کا احوال تو ہم بیس اپریل سے دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح اپنی من مانی کے تحت فیصلے کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ہر وہ شخص قانون دان بنا ہوا ہے۔ جسے چار بندوں میں بات کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ اپنے تئیں ماہر بنا ہؤا ہے۔ بھائی جس کا کم اسی کو ساجھے۔ کوئی ماہر قانون ہی بہتر فیصلہ کرسکتا ہے کہ عدلیہ نے کس نوعیت کا فیصلہ دیا۔ ہر بندہ قانون دان بن کر قانون کی دھجیاں تو خود اڑا رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر فریقین فیصلے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ بھائی فیصلہ کھینچنے سے یا تو پھٹ جائے گا یا لمبا ہوجائے گا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں خوب سیاسی دکانداری چمکانے میں مصروف ہیں۔ کسی کو کرپشن کے خاتمے کی فکر نہیں۔ بس اپنی اپنی حکومت بنانے اور کرسیوں کا استعمال ہی ان کا مقصد ہے۔
یہ ایک دوسرے کے لئے جملے کسنے میں مصروف ہیں اور مسئلہ کشمیر توجہ کا منتظر ہے۔ بلوچستان بھی بہتری کا منتظر ہے۔ سندھ بہتری کا منتظر ہے۔ ملک بہتری کا منتظر ہے۔ سی پیک کی ساکھ کو نقصان ہو سکتا ہے۔ ملکی سالمیت کی کسی کو فکر نہیں بلکہ سیاسی دکانداری چمکنی چاہئے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام فریقین کو صدق دل سے جے آئی ٹی کی ٹیم پر بھروسہ کرنا چاہئے اور ٹیم پر نظر مرکوز رکھنی چاہئے۔ میں مانتا ہوں کہ ایک وزیر اعظم سے افسران کا تفتیش کرنا مشکل ہے مگر ناممکن ہر گز نہیں۔ تمام فریقین کو ملکی حالات خراب کرنے کی بجائے جے آئی ٹی کی تحقیق کو مثالی بنانے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ کیا یہ تاریخی فیصلہ نہیں کہ ملک کا وزیر اعظم بھی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوگا۔ ماضی کی ایک بات بیرسٹر اعتزاز احسن صاحب کہتے تھے کہ گیلانی صاحب اڈیالہ جیل میں بھی چلے جائیں تو وہ وزیر اعظم ہی ہوں گے۔ اب کس منہ سے استعفی مانگ رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کا استعفی تو سمجھ بھی آتا ہے مگر پی پی پی بھی!