پاناما کیس فیصلہ سے پیدا ہونے والی بے یقینی
- تحریر حسین شہادت
- اتوار 23 / اپریل / 2017
- 4738
بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کسی بھی ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے ۔ سماجی انصاف کی فراہمی معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری اور اولین ترجیح ہے۔ تاکہ ایسا نظام وضع کیا جاسکے جس کے ذریعے فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اس کے راستے میں نے میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ممکن ہو۔ انصاف ، تحمل ، برداشت اور بامقصد رابطے کا فروغ اور ثالثی نظام کو موثر بنانے کیلئے ریاست جہاں دیگر شعبوں اور اداروں پر توجہ دیتی ہے وہیں اس کی خصوصی توجہ عدالتی نظام کی بہتری پر بھی مرکوز رہنی چاہئے۔
اس طرح سے معاشرے میں تصادم کی فضا کو پنپنے سے روک اجا سکتا ہے۔ اور ایک متوازن معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اہم کرادار ادا کیا کا سکتاہے ۔ آئین ِ پاکستان عدلیہ کو مکمل اور موثر انداز میں انصاف کی فراہمی کا اختیار دیتا ہے ۔ پاکستانی عدلیہ انتظامیہ کے احکامات اور اختیارات کے غلط استعمال پر نظر رکھتی ہے اور اختیارات کے غلط استعمال پر انتظامیہ کے فیصلوں پر نظرثانی کرسکتی ہے ۔ پاکستان میں عدلیہ کو اداروں کے چیک اینڈ بیلنس پر نظر رکھنے کا بھی مکمل اختیا ر حاصل ہے ۔ اچھی طرز حکمرانی اور سماجی انصاف کی فراہمی کیلئے ضروری ہے کہ عدلیہ کو دباؤ کے بغیر فیصلے کا اختیار حاصل ہو۔ البتہ یہ بات بھی طے ہے کہ جج اپنی مرضی مسلط نہیں کرتا۔ کیونکہ عدلیہ کا کرپٹ یا بدعنوان ہونا سماج میں مساوی حقوق کی فراہمی میں بہت بڑی رکاوٹ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئین ِ پاکستان میں ججز کو غیر جانبدار رہنے کا پابند کیا گیا ہے ۔ ملکی بقا اور سا لمییت کیلئے غیر جانبداری اولین شرط ہے جس سے رو گردانی کا مطلب معاشرے کو تنزلی کی جانب لے جانا ہے۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں انصاف ہو گا وہاں کسی کی جرات نہیں ہوسکتی کہ کسی سازش کے تحت معاشرے یا اس کے ارکان کو نقصان پہنچا سکے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب عوام کا اعتماد اداروں سے اٹھ جاتا ہے تو ان کی نظریں عدلیہ کی جانب ہوتی ہیں۔ یہ واحد سہار ا ہے جو ان کی دادرسی کرسکتا ہے ۔ جب ہم عدلیہ پر اعتماد کی بات کرتے ہیں اور اس پر بھروسہ کرتے ہیں تو ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ججز کی عزتِ نفس کے تحفظ اور اس کے احترام کو بھی ملحوظِ خاطر رکھیں ۔
انسان کا وجود اور انصاف کی طلب ایک دوسرے سے جدا نہیں یہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم تصور کئے جاتے ہیں ۔ آپ چھوٹے سے چھوٹے معاشرے کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی انسان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس پر اختلافات کا پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ لہٰذا وہ اس کیلئے ایسے افراد کی کھوج میں لگ جاتا ہے جس پر پورا معاشرہ اعتماد کا اظہار کرتا ہو۔
معاشرے میں انصاف کی فراہمی مساوات قائم رکھنے میں اہم کرادار اداکرتی ہے۔ ضروری ہے کہ معاشرے میں اس اہم منصب کیلئے ایسے افراد متعین کئے جائیں جو قابل اور دیانت دار ہوں ۔ لوگ ان پر بھروسہ کریں اور ان کی بات پر لبیک کہیں ۔ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے جس پر پورا اترنا کسی بھی منصف کیلئے پلِ سراط پر سے گذرنے سے کم نہیں ہوتا ۔ اگر معاشرے میں انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں تو بہت بڑی کنفیوژن پیدا ہونے کا احتمال ہے ۔ عدالتیں ہی ظلم کا شکار ہونے والوں کیلئے آس اور امید ہوتی ہیں ۔ یہ وہ آخری امید ہوتی ہے جو اسے بے یقینی اور گمراہی کے اندھیروں سے دور کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے ۔ اسے معاشرے ، ریاست اور قوم سے جوڑے رکھنے کا ذریعہ ہوتی ہے ۔ انصاف ملنے کا یقین ہی اسے مجرمانہ سوچ اور گمراہی کے راستوں سے چلنے سے روکتا ہے ۔ البتہ انصاف کی عدم فراہمی اور جانبدارانہ فیصلے انسان کی سوچ پر مایوسی حاوی کردیتے ہیں۔ ایسے میں پیدا ہونے والی منفی سوچ اسے تخریب کاری کی طرف مائل کرتی ہے ۔
ہمارے معاشرے میں مسائل کے اضافے کی بڑی وجہ انصاف کا عدم حصول ہے یا پھر تاخیری حربوں کے باعث بروقت انصاف نہیں مل پاتا۔ 4فروری کو لاہور ہائیکورٹ نے ایک قیدی کی رہائی کا پروانہ اس وقت دیا گیا جب وہ ڈھائی سال قبل زندگی کی قید سے آزاد ہوچکا تھا۔ قیدی سید رسول پر 2009 میں تھانہ بھیرہ میں ایک شہری کے قتل کا مقدمہ تھا، 2013میں اس کے شریک چھ ساتھیوں کو ناقص شہادتوں کی بنا پر کورٹ نے بری کردیا تھا۔ البتہ اس کی باری 2017میں آئی جب وہ 2014میں دل کا دورہ پڑنے سے اس جہانِ فانی سے کوچ کرچکا تھا۔ یہ ایک مثال ہے ۔ اس جیسی لاتعداد مثالیں آپ کو باآسانی مل سکتی ہیں جو عدالت میں طوالت کا شکار مقدموں میں ملوث لوگوں کی زندگیاں کھا گئی ہیں ۔ جائیداد کے مقدامات ہوں ، قتل کے کیس ہوں یا دیگر تنازعات ، فریقین عدالتوں کے چکر لگا لگا کر مقدمے اپنی اگلی نسلوں کو وراثت میں دے کر یا تو معذور ہو کر گھر بیٹھ جاتے ہیں یاِ آخری سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں ۔
تاریخ میں جھانکیں تو آپ پر حیرت انگیز انکشافات ہوں گے کہ بہت سی قومیں صرف اس وجہ سے تباہ ہوئیں کیونکہ ان کے ہاں انصاف کے ادارے انصاف کی فراہمی سے قاصر تھے۔ پاکستان میں بھی انصاف کی فراہمی سے متعلق صورتحال تسلی بخش نہیں رہی ہے جس کی وجہ سے اس کی خود مختاری ہمشہ دباؤ کا شکار رہی ہے ۔ اشرافیہ نے اسے اپنے تابع کرکے اپنی مرضی کے فیصلے کرنے پر مجبور کیا ۔ قابل اور دیانت دار جج ہمیشہ زیر عتاب اور جی حضور ی کرنے والے ان کی آنکھوں کا تارہ بنے رہے ۔ اس غلط روش نے جہاں معاشرے میں عدم مساوات کو فروغ دیا وہیں عدلیہ کو بھی بے حد نقصان ہؤا۔
پاناما کیس کو ہی لے لیجئے ۔ اس کی 120روزہ سماعت کے دوران ہم نے تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی دیکھ لی ۔ کوئی بھی ادارہ حکومت کے خلاف تحقیقات کرنے کو تیار نہیں ۔ نیب کے چیئرمین نے دوران سماعت سپریم کورٹ کے بینچ سے معذرت کر کے اس کا واضح ثبوت فراہم کردیا کہ حکومت کی نمک حرامی کرنے کی جرات ہی نہیں کرسکتے۔ 57دن تک فیصلہ محفوظ رہا اور 20 اپریل کو فاضل بینچ نے اپنے فیصلے میں ثبوتوں کی کمی اور اداروں کے عدم تعاون کا اظہار کیا اور مزید حقائق سے پردہ کشائی کرنے کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ صادر فرمادیا ۔ انصاف کے تقاضے پوراکرنے کے لئے شواہد کا مکمل ہو نا بہت ضرور ی ہے ۔ یہ فیصلہ اس تناظر میں بالکل درست ہے ۔ یہ تعین ہوگیا کہ وزیر اعظم بھی اس کیس کا حصہ ہے جسے ابتدا سے حکومتی اراکین رد کررہے تھے ۔ اس فیصلے سے اپوزیشن کی جیت ہوئی لیکن یہیں سے ایک کنفیوژن کا آغاز بھی ہوچکا ہے ۔رائج ضابطے کے مطابق ملزمان سے جب پوچھ گچھ کی جاتی ہے تو تمام مراعات ، اثرورسوخ اور اختیارات اس سے لے لئے جاتے ہیں ۔ اس کیس میں معاملہ مختلف ہے ۔فیصلہ میں حسن نواز، حسین نواز کے ساتھ اس کے والد میاں نواز شریف بھی تحقیقاتی کیمٹی کو جوابدہ ہوں گے جبکہ وہ چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ملک کا ہر ادارہ ان کے ماتحت ہے ۔ ضابطہ اور قانون کہتا ہے کہ جب کسی سرکاری افسر پر الزام عائد ہوجاتا ہے اور وہ تفتیش کے مراحل سے گزرنے لگتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنے منصب سے دستبردار ہو نا پڑتا ہے ۔ تمام اختیارات اور مراعات اس سے لے لی جاتی ہیں تاکہ وہ تفتیشی مراحل پر اثر انداز نہ ہو ۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا موقف بھی یہی ہے۔ البتہ حکومتی حلقے اس سے انحراف کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ یہ ضابطہ اور قانون دنیا بھر میں رائج ہے ۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاناما کا فیصلہ ابھی آیا ہی نہیں بلکہ اس نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ اس سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے ۔ حکومت ’میں نہ مانوں‘ کی پالیسی پر اور اپوزیشن منصب سے اتر جانے کی ضد پر اڑ گئی ہے ۔ یہ بہت بڑا کنفیوژن ہے جس نے ملکی سیاست میں ہل چل پیدا کردی ہے ۔