جےیوآئی ف کانفرنس کے مقاصد
- تحریر سید انور محمود
- اتوار 23 / اپریل / 2017
- 9680
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان کے والد مولانا مفتی محمود(1980-1895) مذہبی رہنما اور سیاستدان تھے۔ وہ کانگریس پارٹی کے سابقہ رکن اور جمیعت علمائے اسلام کے بانی رکن تھے۔ بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ وہ اور ان کے ساتھی پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔ مفتی محمود کی 1980 میں وفات کے بعد جمیعت علمائے اسلام کی قیادت کے معاملے پر جھگڑا ہوگیا اور جمعیت کے دو گروپ بن گئے جس میں سے ایک کے سربراہ مفتی محمود کے صاحبزادے مولانافضل الرحمان بنے اور دوسرے گروپ کے سربراہ مولانا سمیع الحق بنے۔
اب جمیعت علمائے اسلام کا ایک گروپ فضل الرحمان گروپ (ف)اور دوسرا سمیع الحق گروپ (س) کہلاتا ہے۔ ان دونوں گرپوں کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ دونوں دہشتگردوں کے حامی ہیں۔ آج تک دہشتگرد طالبان کے ہاتھوں پاک فوج کے افسروں اور اہلکاروں سمیت شہید ہونے والے 70 ہزار معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں کو مولانا فضل الرحمن نے کبھی بھی شہید نہیں سمجھا اور نہ کہا۔ نومبر 2013 کے اوائل میں تحریک طالبان پاکستان کا سرغنہ حکیم اللہ محسود امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تو جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے اْسے ’’شہید‘‘ قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمن سے پوچھا گیا کہ ’’کیا آپ بھی حکیم اللہ محسود کو شہید سمجھتے ہیں؟‘‘ تو مولانا فضل الرحمن نے جواب میں کہا تھا کہ ’’اگر امریکہ کے ہاتھوں کوئی کْتا بھی مارا جائے تو میں اْس کْتے کو بھی ’’شہید‘‘ کہوں گا۔
مفتی محمود ایک انتاہی خود غرض سیاستدان تھے۔ مخالف پاکستان تھے لیکن سارے فائدے اسی پاکستان سے اٹھائے۔ ان کے سپوت مولانا فضل الرحمان ان سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ابن الوقت سیاستدان ہیں، سیاسی گٹھ جوڑ اور مفادات کے حصول میں مولانا کا کوئی ثانی نہیں۔ مولانا کی سیاست مصلحت اور اقتدار کا دوسرا نام ہے۔ کسی زمانے میں انہوں نے افغان طالبان کے ساتھ اپنے تعلق کو بڑھا چڑھا کر پاکستان میں اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے استعمال کیا اور پھر پاکستانی عسکریت پسندوں سے متعلق نرم رویہ رکھ کر مخالفین کو دھمکاتے رہے۔ مولانا کو پیپلز پارٹی سے لے کر مسلم لیگ(ن) تک ہر جماعت کے اقتدارسے اپنا حصہ وصول کرنے کا ہنر آتا ہے۔ مولانا ایک طرف آصف علی زرداری سے اپنی دوستی کا دم بھرتے ہیں تودوسری طرف نواز شریف کی حکومت میں وہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ جس کی مراعات ایک وفاقی وزیر کے برابر ہیں۔ ان کی پارٹی کے جنرل سکریٹری مولانا عبدالغفورحیدری سینٹ کے چیئرمین ہیں۔ اور سرکاری پوسٹوں پر بھی جمعیت علمائے اسلام (ف) کا قبضہ ہے۔
مولانا فضل الرحمن کے پاس انتخابات میں عوام کو اپنی طرف راغب کرنے کا کوئی پروگرام نہیں ہوتا ہے۔ انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ پاکستان کے مزدور اورکسان زندگی کیسے گزار رہے ہیں، ان کے بچے اسکول جاتے ہیں یا نہیں، انہیں اس بات سے بھی غرض نہیں پاکستان کے کتنے فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ مسافر بس کے اس دوکاندار کی طرح ہیں جو بس میں بہت ساری چورن کی پڑیاں لے کر آتا ہے جس کو وہ ہاجمولہ کا نام دیتا ہے اور سارے مرض کا علاج اس چورن کی پڑیا کو بتاتا ہے ۔ اس کا کہنا ہوتا ہے کچھ بھی کھالو اس کے بعد میرا یہ ہاجمولہ کھالو سب ہضم ہوجائے گا۔ ساری بس تو نہیں لیکن کچھ بیوقوف ضرور اس پڑیا کو خریدتے ہیں اور دوکاندار کی دوکانداری کامیاب رہتی ہے۔ کہتے ہیں کہ عقلمند اس وقت تک بھوکا نہیں مرتا جب تک بیوقوف زندہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا کاروباربھی مسافر بس کے اس دوکاندار کی طرح ہے جو لوگوں کو اپنا ہاجمولہ بیچ کر کامیاب رہتا ہے۔ اسی طرح مولانا کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) مذہب کا چورن بیچتی ہے۔ 2002 کے انتخابات سے اب تک مولانا کی جماعت کا انتخابی نشان ’’کتاب‘‘ ہے جس سے مولانا عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کا انتخابی نشان ’’قران شریف‘‘ ہے۔ ایک مرتبہ الیکشن کمیشن نے اس کتاب کے نشان میں کچھ تبدیلی کیں تو مولانا نے اس قدر شور کیا کہ الیکشن کمیشن کو اپنی تبدیلی واپس لینی پڑی۔ ہر انتخابات سے پہلے مولانا مذہب کی دوکانداری شروع کردیتے ہیں۔ مولانا اپنی ہوشیاری اور چالاکی سے یہ تو پہلے ہی جانچ لیتے ہیں کہ اگلی مرتبہ اقتدار کے سنگھاسن پر کون سی جماعت بیٹھے گی۔ لہذا ان کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ اس جماعت سے انتخابی اتحاد کرلیں جو عام طور پر نہیں ہوتا۔ مولانا کی دوکانداری کا خاص ہدف صوبہ خیبر پختونخواہ اورصوبہ بلوچستان ہوتے ہیں، جہاں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بہت کم ہے۔ مولانا کی جماعت مذہب کے نام پر مختلف عنوانوں سے کانفرنس کرتی رہی ہے۔ 2001 سے 2017 تک جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مندرجہ ذیل کانفرنسں کروائی ہیں:۔
اپریل 2001 ’’عالمی دیوبند کانفرنس‘‘ ہدف 2002 کے انتخابات تھے۔
دسمبر 2007 ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ ہدف 2008 کے انتخابات تھے۔
مارچ 2013 ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ ہدف 2013 کے انتخابات تھے۔
اپریل 2017 ’’صد سالہ جمیت کانفرنس‘‘ ہدف 2018 کے انتخابات اور بھی بہت کچھ۔
اگلے سال چونکہ انتخابات ہونے ہیں اس لیےاپریل 2017 میں جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 7 تا 9 اپریل ایک تین روزہ سیاسی میلے کا انعقاد صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں کیا۔ اس سیاسی میلے کو جمعیت علمائے اسلام(ف) نے ’’صد سالہ جمیعت کانفرنس‘‘ کا نام دیا۔ اس تین روزہ اجتماع کو ’’صد سالہ جمیعت کانفرنس‘‘ کا نام دینے پر بہت سے لوگوں کو اعتراض ہے کیونکہ تاریخ سے باخبر لوگ جانتے ہیں کہ 28دسمبر 1919 کو امرتسر میں مولانا عبدالباری فرنگی محل کی صدارت میں علماء کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں جمعیت علمائے ہند کی بنیاد رکھی گئی ۔ اس کے بعد شاید 1941 میں پاکستان مخالف علماء کی سیاست کو کنڑول کرنے کےلئے مولانا شبیر احمد عثمانی کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام نامی ایک اورمذہبی جماعت کی بنیاد ڈالی گئی جو تحریک پاکستان کے حامی تھی۔ 28دسمبر 1919 کو بننے والی جمعیت علمائے اسلام کی عمر ابھی 98 سال ہے، جبکہ مولانا شبیر احمد عثمانی کی جمعیت علمائے اسلام کی عمر 76 سال ہے۔ رہی بات مولانا مفتی محمود اور مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام کی تو وہ سو سال سے بہت دور ہیں۔ اب اگر مولانا یہ کہیں کہ ہجری کلینڈر سے سو سال ہوگئے تو مولانا کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں انگلش کلینڈر چلتا ہے اور وہ بھی تمام کام انگلش کلینڈر کے مطابق کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جمعیت علمائے اسلام (ف) سوسال کی ہوگئی یہ زیادہ بہتر طریقے سے مولانا فضل الرحمن ہی بتا سکیں گے کیونکہ مولانا سے زیادہ کون جانتا ہے کہ اپنے مفاد کے لیے کب کیا کرنا چاہیے۔
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ’’صد سالہ جمیت کانفرنس‘‘ کے تین روزہ اجتماع کا اصل مقصد تو 2018کے انتخابات میں کامیاب ہوکر صوبہ خیبر پختونخواہ میں اپنی حکومت قائم کرنا ہے لیکن اس کانفرنس کے منعقد ہونے کے بعد پتہ چلا کہ اس کانفرنس کے دو اور بڑےمقاصد بھی تھے جو اس کانفرنس میں بڑے واضح طور پر نظر آئے:
پہلا مقصد: طالبان دہشتگردوں کو بغیر کسی پوچھ گچھ یاسزا کے پاکستانی معاشرے کا حصہ بنانا۔
دوسرا مقصد: سعودی عرب کو جنرل راحیل شریف اور پاک فوج کی فراہمی۔
صد سالہ جمیعت کانفرنس کے اعلان یا اس کے بعد کانفرنس سے پہلے تک کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ اس کانفرنس کا پہلا مقصد70 ہزار بے گناہ انسانوں کے قاتلوں طالبان کو بغیر کسی پوچھ گچھ یاسزا کے پاکستانی معاشرے کا حصہ بنانا ہوگا۔ کانفرنس کے شرکا نےیہ بات کو کہنے کےلیے 6 اپریل کا دن چنا۔ اس دن لوگوں کا زیادہ دھیان سعودی وفد کی طرف تھا۔ 6 اپریل کوجمعیت علمائے اسلام (ف) کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفورحیدری جوپاکستان کی سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین بھی ہیں، پشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران طالبان کو اپنی جماعت میں شمولیت کی دعوت دی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ”ہم طالبان کو جمیعت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں”۔ مولانا کی اس پیشکش کے جواب میں ، میں نے ایک مضمون ’’جےیو آئی (ف) کی بلی تھیلےسے باہر‘‘ لکھا تھا جس میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کی اس پیشکش کا بھرپورجواب دیا تھا۔ اس مضمون میں ایک جگہ لکھا ہےکہ ’’مولانا عبدالغفورحیدری جن طالبان دہشتگردوں کے ہمدرد بنے ہوئے ہیں، ان کے سہولت کار بھی ہیں اور اب ان کو اپنی سیاسی جماعت میں شامل کرنا چاہتے۔ وہ اب تک 70 ہزار سے زیادہ بے گناہ پاکستانیوں کو مار چکے ہیں‘‘۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے جنرل سیکرٹری کی قاتلوں کو اس پیشکش کے بارے میں شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ درحقیقت جمیعت علمائے اسلام (ف) طالبان دہشتگردوں کا ہی ایک سیاسی دھڑا ہے۔ طالبان دہشتگرد گزشتہ سال سے اب تک دو ملٹری آپریشن کی وجہ سے ختم تو نہیں ہوئے ہیں لیکن وہ کافی کمزور ہوچکے ہیں۔ اس لیے جمیعت علمائے اسلام (ف) اب اُن دہشتگردوں کوبچانے کا راستہ تلاش کررہی ہے ۔ یہ تھا جمیعت علمائے اسلام (ف) کی صد سالہ جمیعت کانفرنس کا پہلا مقصد کہ وہ اپنے دہشتگرد بھائیوں کو کیسے بچائے۔
صد سالہ جمیعت کانفرنس کے اعلان سے یہ تو سب کو معلوم ہوگیا تھا کہ اس کانفرنس میں سعودی عرب سے امام کعبہ اور سعودی عرب کے مذہبی امور کے وزیربھی شامل ہوں گے۔ کانفرس کے منتظمین کا پروگرام تھا کہ اس کانفرنس میں زیادہ سےزیادہ لوگوں کو جمع کرکے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمان نے کانفرنس کے پہلے دن جمعہ کو امام کعبہ سے جمعہ کی نمازپڑھوائی۔ بلا شبہ امام کعبہ کے پیچھے نماز ادا کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھی ۔ ایک عام مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ عمرہ یا حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جائے اور وہاں جاکر حرمین شرفین کے اماموں کے پیچھے اپنی نمازیں ادا کرے۔ لیکن غربت کی وجہ سے شاید ہر ایک کے لیےایسا ممکن نہیں ہوتا ہے لہذا وہ اپنی مذہبی پیاس آئے ہوئے امام کعبہ کے پیچھے نماز پڑھ کر پوری کرلیتا ہے۔ اور مذہبی سوداگر عوام کو یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سب ان کے سیاسی میلے میں شرکت کرنے آئے ہیں۔ سعودی وزیر اور امام کعبہ دونوں سعودی حکومت کی اجازت سے آئے تھے۔ مولانا فضل الرحمان کا مقصد امام کعبہ کے ذریعے عوام کا بڑا ہجوم دکھا کر سیاسی فائدہ اٹھانا تھا جبکہ سعودی وزیر اور امام کعبہ کا اس سیاسی میلے میں شرکت کا مقصد قطعی یہ نہیں تھا کہ وہ صرف نمازیں پڑھائیں بلکہ ان کی آمد کا مقصد سعودی عرب کے سیاسی اور عسکری مفادات کا حصول تھا۔ معزز مہمانوں نےاس سیاسی کانفرنس میں پاکستان اور سعودی حکومتوں کی مرضی سے شرکت کی تھی۔
سعودی وزیر اور امام کعبہ کے آنے کا مقصد تھا کہ ’’سعودی عرب کی قیادت میں بنے ہوئے 39 ملکوں کے’’اسلامی فوجی اتحاد‘‘ کی سربراہی سابق پاکستانی فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کریں اور سعودی عرب جن ملکوں کےخلاف ہے ان کے ساتھ فوجی جنگ میں پاکستانی فوج لڑے‘‘۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بھی مذہب کا استمال ہوا ۔ سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ ’’ایک اسلامی فوجی اتحاد سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا جس میں پاکستان اور سعودی عرب دونوں شامل ہیں۔ بقول ان کے اس پلیٹ فارم پر مسلمان ملک یکجا ہوگئے ہیں۔ دنیا میں دہشت گردی اور فساد کو برداشت نہیں کیا جاسکتا جو دشمن بھی سامنے آئے گا اسلامی فوجی اتحاد اس کا مقابلہ کرے گا۔“ امام کعبہ شیخ صالح بن ابراہیم آل طالب کا کہنا تھا کہ دین اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے اور اس کا کسی دہشتگردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کا سبب اسلام کی غلط تشریح ہے۔ پاکستان عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز ہے، امت کو متحد ہوکر مقدس مقامات کی حفاظت کرنا ہوگی۔ دہشت گردی ملک کی معیشت کو تباہ کرتی ہے۔ تمام علماء دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔ امام کعبہ نے مزید کہا کہ پاکستان امت مسلمہ کی حفاظت کےلئے بھرپور کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امام کعبہ نے یہ بھی کہا کہ جنرل راحیل شریف دہشتگردی کی صورتحال کو سمجھتے ہیں اس لئے ان کا کردار اہم ہے اور وہ مسلم دنیا میں امن لائیں گے۔ فوجی افسر ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی جگہ کام کرسکتا ہے اور راحیل شریف کا فوجی اتحاد کا سربراہ بننا پاکستانیوں کےلئے قابل فخر ہے۔
سات سے نو اپریل کے اجتماع میں جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ’’صدسالہ جمیعت کانفرنس‘‘ کے ذریعےمذہب کے نام پر اپنی دوکان سجائی اوراپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا۔ اس کانفرنس میں سعودی مہمانوں کو لانے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) اسلام کی سچی پیروکار ہے۔ عام لوگ پوچھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کا بظاہر کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے، پھر بھی پجیرومیں گھومتے ہیں، اچھا کھاتے ہیں اور اچھا پہنتے ہیں، کیسے؟ ان لوگوں کےلیےجواب یہ ہے کہ مولانا مذہبی چورن بیچنے کے اچھے دوکاندار ہیں۔ سعودی مہمانوں کا اس سیاسی میلے میں آنے کا اپنا مقصد تھا، وہ صرف نمازیں پڑھانا ہی نہیں تھا بلکہ ان کا اصل مقصد پاکستانی عوام کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ اسلام کے نام پر پاکستانی فوج کو سعودی عرب کی جنگ لڑنی چاہیے۔ جبکہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر معزز امام کعبہ نے شاید بحالت مجبوری کانفرس کے آخری دن دعا فرمائی جو مولانا فضل الرحمان اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کی معاشی اور سیاسی ضرورت تھی ورنہ یہ سعودی عرب کی سرکاری پالیسی کے خلاف تھی۔
تازہ خبر یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف تو اپنی نئی ملازمت پر پہنچ چکے ہیں لیکن اگر نواز شریف حکومت نے سعودی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کے لیے پاکستانی فوج کو بھیجا تو یہ پاکستان کی بدقسمتی ہوگی۔ مسلم ممالک کی تعداد 57 ہے جبکہ سعودی عرب کے مطابق اس اتحاد میں اب تک 41 ممالک شامل ہوئے ہیں۔ سعودی قیادت میں بننے والے ’’اسلامی فوجی اتحاد‘‘ میں ایران، عراق، شام اور دیگر شیعہ مسلک کے حامل ملک شامل نہیں ہیں اور پاکستان کےلیے یہ صورتحال کسی طور مناسب نہیں۔ ہمارے دو پڑوسی بھارت اور افغانستان تو ہمارے کھلے مخالف ہیں، ایک پڑوسی ایران بھی ہے جو پاکستان کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کی طرف جھکتا جارہا ہے۔ طالبان اور دوسرے دہشتگرد ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود اگر پاکستان سعودی عرب کے فوجی اتحاد میں شامل ہوکر مشرق وسطی میں ہونے والی لڑائیوں میں شرکت کرتا ہے تو یہ پاکستانی حکمرانوں کی ایک بہت بڑی غلطی ہوگی ۔
نوشہرہ میں 7 سے9 اپریل کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ’’صدسالہ جمیت کانفرنس‘‘ کا اصل مقصد 2018 کے انتخابات کی تیاری کے علاوہ دو بڑے مقاصد تھے۔ ایک طالبان دہشتگردوں سے اپنی وفاداری کا اظہار اور سعودی عرب کو اس کے عسکری مقاصد میں مدد فراہم کرنا۔ یہ کانفرنس جو جمعیت علمائے اسلام کی صد سالہ یوم تاسیس کے طور پر منائی گئی عوام کے ساتھ ایک کھلا دھوکا تھا۔ کیونکہ ابھی سو سال مکمل نہیں ہوئے ہیں۔ باقی رہا مولانا اورسعودی وفد کا مذہب کی آڑ میں پاکستانی عوام کا شکار تو پاکستانی عوام اب اس کھیل سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ اس لئے ’’صدسالہ جمیعت کانفرنس‘‘ کا سیاسی میلہ، انہیں دھوکہ دینے میں کامیاب نہیں ہوگا۔