پانامہ کا مقدمہ: کھیل ختم نہیں ہوا
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 24 / اپریل / 2017
- 4617
حکمران طبقات سمیت یہ سوچ بہت سے لوگوں میں موجود تھی کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد یہ کہانی کسی کے حق ا ور مخالفت میں ختم ہوجائے گی۔ مگر یہ ممکن نہیں ہوسکا ۔ اگرچہ وزیر اعظم نواز شریف فوری نااہلی سے بچ گئے ہیں لیکن یہ عارضی معاملہ ہے اور اگلے 67 دن نواز شریف اور ان کے اہل خانہ قانونی اور سیاسی محاذ پر عملی طور پر وینٹی لیٹر پر ہی رہیں گے ۔ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو اس فیصلہ کے بعد قانونی اور سیاسی محاذ پر جوابدہی کے سخت عمل سے گزرنا ہوگا ۔ حکمران خاندان اس عارضی کامیابی کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتا ہے لیکن یہ احساس اور خوف ان کے اندر بدستور موجود ہے کہ پانامہ کی بلا ان کے اوپر سے ٹلی نہیں بلکہ یہ مزید تلخیوں ، حقائق، پریشانی اور شرمندگی کے مزید مختلف مراحل سے گزارے گی ۔
کل تک نواز شریف اور ان کے اہل خانہ یا ان کے سیاسی حمایت یافتہ لوگوں کا موقف تھا کہ وہ پاکستانی سیاست اور کاروبار میں عملا صادق اور امین کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مگر ان کے سیاسی مخالفین اس نکتہ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ لیکن اب معاملہ محض نواز شریف کے سیاسی مخالفین تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کی اعلی ترین بڑی عدالت کے پانچ ججوں نے اس بنیادی الزام کو قبول کیا ہے کہ نواز شریف اور ان کا خاندان صادق اور امین نہیں رہے ۔ اگرچہ ان پانچ ججوں میں سے دو سنیئرججز جسٹس آصف کھوسہ اور جسٹس گلزار نے اپنے اختلافی نوٹ میں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ لکھا لیکن باقی تین ججوں نے بھی اس نکتہ کو قبول کیا۔ تاہم ان کے بقول جے آئی ٹی کی مدد سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور اس تحقیقی رپورٹ کی روشنی میں وزیر اعظم کی نااہلی کا فیصلہ کیاجائے گا۔
پانامہ کے مقدمہ میں اس فیصلہ کے بعد اب مسئلہ محض عمران خان کا نہیں رہا ، بلکہ قانونی محاذ پر بھی ان کے صادق اور امین ہونے پر لوگوں کا یقین یا شکوک و شبہات اور زیادہ بڑھ گئے ہیں ۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ محض ایک ووٹ سے پیچھے رہا ہے اور سیاسی میدان میں دو ججوں کا ان کی نااہلی پر اختلافی نوٹ وزیر اعظم نواز شریف کا سیاسی پیچھا کرتا رہے گا۔ اسی طرح جسٹس آصف کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں اطالوی ناول نگار ماریو پوزوکے شہرے آفاق ناول ’’ گارڈ فادر‘‘ میں بالزیک کا یہ جملہ درج کیا کہ’’ دولت کے ہر انبار کے پیچھے جرم ہوتا یا جرم کی داستان چھپی ہوتی ہے ۔‘‘ یہ ناول 1969میں شائع ہوا تھا اور جسٹس کھوسہ کے بقول یہ جملہ نواز شریف کے خلاف مقدمہ پر صادق آتا ہے ۔ اس پورے جملے میں نواز شریف کی سیاست، کاروبار اور اقتدار کی ساری کہانی کو سمجھا جاسکتا ہے کہ یہاں سیاست، اقتدار اور دولت کا باہمی گٹھ جوڑ کیا ہے ۔
اگرچہ ابھی لوگوں کے سامنے اس اہم عدالتی فیصلہ کے مکمل مندرجات نہیں آئے ، جو آئے ہیں اس نے بھی حکمران خاندان کی سیاسی ، اخلاقی اور قانونی ساکھ کو داو پر لگا دیا ہے ۔ لیکن اگلے چند دنوں میں جب لوگوں کے سامنے اس مقدمہ کے تفصیلی فیصلے کے مندرجات اور مختلف ججز کی جانب سے مختلف observations سامنے آئیں گی تو لوگوں کو مزید انکشافات پڑھنے اور سننے کو ملیں گے کہ حکمران خاندان کس حد تک صادق و امین ہیں۔ یہ عمل حکمران خاندان کی مزید سیاسی ساکھ کو خراب کرے گا ۔ اگلے 67 دنوں میں نواز شریف اوران کے خاندان سمیت ان کے حامیوں کو ایک بڑے میڈیا ٹرائل، سیاسی مخالفین کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کا بھی سامنا کرنا پڑے گا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگلے برس نواز شریف کی جماعت انتخابات کے سیاسی میدان میں اترنا چاہتی ہے لیکن پانامہ کی سیاسی بلا ان کا پیچھا چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ۔ ایک طرف ان کے سامنے انتخابی مہم ہے تو دوسری جانب پانامہ کی مخالفانہ مہم اور بالخصوص اب جے آئی ٹی میں پیش ہوکر اپنی بے گناہی کو ثابت کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ میں چند بنیادی باتیں کھل کر سامنے آئی ہیں ۔ اول سپریم کورٹ کے تمام ججز صرف نواز شریف کی نااہلی پر تقسیم ہوئے ہیں لیکن باقی تمام طے کردہ نکات پر سب کا متفقہ فیصلہ ہے ۔ دوئم نواز شریف پر نااہلی کا ڈر اور خوف ختم نہیں ہوا، یہ بدستور موجود ہے صرف نئی تاریخ پڑی ہے ۔ سوئم نواز شریف اوران کے خاندان کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا ہوگا اور جے آئی ٹی جسے چاہے تفتیش کے لیے اسے طلب کرسکتی ہے۔ اور یہ حکومت کی بجائے عدالت کو جو ابدہ ہوگی، اس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کا نمائندہ بھی شامل ہوگا۔ چہارم عدالت کی جانب سے نواز شریف اور ان کے خاندان کو کسی بھی طرح کی کوئی کلین چٹ نہیں دی گئی ہے اور نواز شریف اور خاندان کی جانب سے دیے گئے تمام شواہد کی صحت کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ پنجم نواز شریف اور ان کے خاندان کے اپنے دفاع میں جو قطری خط پیش کیا اسے عدالت نے مسترد کردیا ہے ۔ حدیبیہ پیپرز ملز کا معاملہ ری اوپن کرنے اور 45 دن میں اس کی رپورٹ جمع کرانے کاحکم دیا گیا ہے۔
اس مقدمہ میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ بنیادی سوال منی ٹریل کا ہے جو بدستور موجود ہے یعنی گلف سٹیل کیسے بنی ، سرمایہ جدہ ، قطر اورلندن کیسے پہنچا، کروڑوں کی تحفہ کی رقم کہاں سے آئی ، آف شور کمپنیوں کا مالک کون ، قطری خط حقیقت یا فسانہ ، ملز کے واجبات کیسے ادا ہوئے ، کم عمر بچوں نے لندن میں فیلٹ کیسے بنائے ، بیٹے نے باپ کو کیسے تحفہ میں رقم دی ، نیلسن اور نیکوسل کمپنیوں سے فائدہ اٹھانے والے کون ہیں ، دیگر کمپنیوں کے لیے پیسہ کہاں سے آیا، جیسے سوالات کا جواب شریف خاندان کو دینا ہے ۔ اگر نواز شریف عدالتی فیصلہ سے نااہل ہوتے تو کہا جاتا کہ عدالت نے دائرہ اختیار سے باہر جاکر فیصلہ کیا ہے اور نواز شریف اپنے خلاف سازش کا نعرہ بلند کرکے سیاسی شہید بننے کی کوشش کرتے۔ لیکن اگر اب جے آئی ٹی میں وہ کوئی واضح ثبوت نہیں دیتے تو ان کی نااہلی سمیت مظلومیت کا کھیل بھی ختم ہوگا ۔
اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا جے آئی ٹی جو اب براہ راست سپریم کورٹ کی نگرانی میں کام کرے گی یا جوابدہ ہوگی 60 دنوں میں سارا ہوم ورک مکمل کرسکے گی ۔ کیونکہ یہ خدشہ بدستور موجود ہے کہ کہیں جے آئی ٹی کی کمیٹی لمبی نہ ہوجائے یا جو کام سپریم کورٹ نہیں کرسکی وہ جے آئی ٹی کیسے کرسکے گی ۔ بالخصوص جن اداروں پر انحصار کیا جارہا ہے ان کے خلاف پہلے ہی عدالت بہت کچھ کہہ چکی ہے ، ایسے میں ان اداروں کی موجودگی میں کیا کچھ ممکن ہوسکے گا ، سوالیہ نشان ہے ۔ یہ منطق دی جارہی ہے کہ عدالت نے اپنا کام اداروں پر ڈال کر خود بڑا فیصلہ کرنے سے گریز کیا ہے ۔ اسی طرح سے وزیر اعظم کی موجودگی میں یہ ادار ے کیسے خود مختار اور آزاد حیثیت سے شفاف انداز میں اپنے کام کو آگے بڑھاسکیں گے ۔
اسی طرح حکمران طبقہ کی کوشش ہوگی کہ اس عمل میں جتنی تاخیر ہو سکے، وہ بہتر ہوگا۔ یہ ذمہ داری اب بنیادی طور پر حزب اختلاف کی جماعتوں، میڈیا، سول سوسائٹی ، وکلا ایسوسی ایشن سمیت دیگر طبقات کی بھی ہے کہ وہ اس دباؤ کو بڑھائیں کہ مقررہ وقت میں انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کو بھی چاہئے کہ خود ایک بڑا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف اس عمل کی کڑی نگرانی کرے بلکہ جو لوگ بھی اس میں رکاوٹ پیدا کریں ، ان کو بے نقاب بھی کرکے سچ اور جھوٹ کو سامنے لاکر اس مقدمہ کا فیصلہ کردیا جائے۔ وگرنہ خود عدالت کی اپنی قانونی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔
حالیہ عدالتی فیصلہ کا ایک نتیجہ نواز شریف کی سیاسی محاذ پر سیاسی تنہائی کی صورت میں بھی سامنے آئے گا اور ان کی سب کی طرف سے حمایت آسان نہیں ہوگی ۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ سمیت دیگر مسائل پر ان کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈان لیکس کا فیصلہ بھی آنے والا ہے ، اس کی تفصیلات بھی حکمران طبقہ کے لیے سیاسی بوجھ ثابت ہوں گی۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس عدالتی فیصلہ کے بعد نواز شریف مضبوط ہوگئے ہیں یا وہ بچ گئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ ان کے سامنے اس وقت بھی ایک بڑا چیلنج اگلے 67 دن کا ہے جہاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو ایک بڑے سیاسی ، قانونی امتحان سے گزرنا ہے۔ جہاں ان کے لیے راحتیں کم اور مشکلات زیادہ ہیں۔ یہی ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرسکے گا۔