بھارت کے مسلمان اور پرسنل لا کا تنازعہ
- تحریر محمد آصف اقبال
- منگل 25 / اپریل / 2017
- 4630
پرسنل لاء پر عمل درآمد کا اختیار اورکامن سول کوڈ کی جانب پیش قدمی کی بات ہندوستان میں آزادی کے بعد ہی سے دہرائی جاتی رہی ہے۔ اس کے باوجود تکثیری ملک جس میں بے شمار مذاہب، ثقافتیں اور قبائل موجود ہیں نیز انہیں اپنے سماجی تانے بانے کو برقرار رکھنے اور مستحکم کرنے کی بات کہی گئی ہو، ممکن نہیں ہے کہ ایک ایسا کامن سول کوڈ بنایا جاسکے جس پر سب کی رضا مند ہوسکیں۔
ہندوستان میں بھی دیگر ممالک کی طرح تاناشاہی اختیار کرتے ہوئے ایک کامن سول کوڈ بنایاجاسکتا ہے اور اس کے اختیارات کبھی بھی اور کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تواس پس منظر میں ملک عزیز کی وہ شناخت جس میں اسے دنیا کی سب بے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے ، ختم ہوجائے گی۔ کیونکہ جہاں عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی کی جاتی ہواور مذاہب پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں ایسا ملک کسی بھی طرح جمہوری ملک نہیں ہوسکتا۔ یہ بات اس لیے کہی گئی ہے کہ ایک سے زائد مرتبہ مختلف حکومتوں کے ذمہ داران اور عوامی خدمات کے ادارے اس بات کو بحیثیت نظیر پیش کرتے آئے ہیں کہ جس طرح چند مسلم ممالک نے جو درحقیقت اسلامی ممالک نہیں ہیں، نے اپنی پسند کے مطابق پرسنل لا میں تبدیلی کیاور عوام کو اس پر عمل درآمد کا پابند بنایا، اسی طرح ہندوستان میں بھی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جب چاہے مخصوص فرقہ یا مذہب کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے پرسنل لاء میں تبدیلی کر سکتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فی زمانہ اگرچہ یہ بات دہرائی گئی ہو اس کے باوجود ابھی تک حکومت نے اپنی سطح پر ایسا کوئی اقدام نہیں کیا ہے جس میں ملک کی جمہوری شبیہ کو نقصان پہنچا ہو ۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے جس پرسنل لاء پر عمل درآمد جاری ہے اس کے تعلق سے یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ان کا خود کا بنایا ہوا قانون نہیں ہے۔ مسلمان چاہے وہ ہندوستان میں قیام پذیر ہو یا دنیا کے کسی بھی حصہ میں ان سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کی قائم کردہ حدود کا زندگی کے جملہ معاملات و مسائل میں خیال رکھیں۔ اس پر عمل درآمد کریں۔ کیونکہ خدا کی قائم کردہ حدود کی پامالی مسلمانوں کو نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی رسوائی سے دوچار کرے گی۔ یہ بات بھی مسلمانوں پر واضح ہے کہ خدا کے قائم کردہ حدود یا جملہ قوانین قرآن اور سنت رسوال اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فراہم کردہ تعلیمات کی روشنی میں موجود ہیں۔ یہ قوانین زندگی کے جس معاملہ سے بھی تعلق رکھتے ہوں وہ قرآن و حدیث دونوں کی روشنی میں موجود ہیں۔ اس پس منظر میں وہ چند نا سمجھ لوگ یا ایسے لوگ جو مسائل سے دوچار ہیں، ان کی یہ دلیل کہ کس مسئلہ کا حل قرآن میں کیا لکھا ہے ، وہی کافی ہے۔ یہ غلط بات ہے۔ ٹھیک اسی طرح مسلم پرسنل لاء ان قوانین کا مجموعہ ہے جو قرآن و سنت سے استنباط کرتے ہوئے تشکیل پاتے ہیں اور قرآن و سنت کی واضح تعلیمات میں کسی تبدیلی و ترمیم کا حق کسی بھی انسان یا انسانی گروہ کو نہیں ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں وضع کردہ قوانین ہی دراصل مسلمانوں کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ وہ ان پر عمل درآمد کے ذریعہ اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کریں۔ یہاں تک کہ وہ دنیا و آخرت ہر دومقام پر کامیابی و سرخ روئی سے ہمکنا ر ہوں۔ انہیں قوانین کا ایک شعبہ انسانی سماج اور معاشرے سے متعلق ہے، جس پر خاندانی نظام کی نبیاد ہے۔ اسے عائلی قوانین یا فیملی لاز یا پرسنل لا کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کے دور حکومت میں مسلمانوں کے مطالبہ پر 1937میں شریعت اپلیکشن ایکٹ منظو ر کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق نکاح، طلاق، خلع، ظہار، مباراۃ، فسخ نکاح، حق پرورش، ولایت، میراث، وصیت، ہبہ اور شفعہ سے متعلق معاملات میں اگر دونوں فریق مسلمان ہوں تو شریعت محمدی ؐ کے مطابق ان کا فیصلہ ہوگا۔ خواہ ان کا عرف اور رواج کچھ ہو۔ نیز قانون شریعت کو عرف رواج پر بالا دستی حاصل ہوگی۔ دستور ہند کے باب III(بنیادی حقوق) میں عقیدہ و مذہب اور ضمیر کی آزادی کا ایک بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ یہ دفعہ دراصل مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ اورمسلم پرسنل لا ان قوانین کا مجموعہ ہے جو قرآن و سنت سے استنباط کرتے ہوئے تشکیل پائے ہیں۔ اس کا بھی تذکرہ اوپر کیا جا چکا ہے۔
ان دفعات اور قرآن و سنت پر عمل درآمد کرتے ہوئے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ زندگی کے جملہ مسائل میں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو پیش نظر رکھیں۔ خاص طور پر عائلی زندگی کے بارے میں قرآن و سنت میں جو قوانین بیان کئے گئے ہیں ان پر عمل کریں۔ اسی طرح ان پر یہ بھی لازم ہے کہ اگر ان قوانین کے عمل سے ان کو روکنے کی کوشش کی جائے اور انہیں منسوخ کرنے یا ان کو بدل دینے کی تحریک چلائی جائے تو وہ ان کی حفاظت کے لیے منظم و منصوبہ بند مستقل بنیادوں پر جدوجہد کریں اور اپنا یہ حق تسلیم کرائیں کہ ملک کے دستور کے مطا بق انہیں ان پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ اس آزادی کو سلب کرنے یا ختم کرنے کا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔
مسلمانوں میں جہالت ، اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت اور جملہ مسائل میں اسلامی تعلیمات سے روگردانی کی بنا پر وہ خود ہی مختلف مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ مسائل ان کے عائلی تعلیمات سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ پس یہی وہ حالت ہے جس میں وہ لوگوں کے حقوق سلب کرتے ہیں، ان پر زیادتیاں کرتے ہیں اور اسلامی تعلیمات جو روح و غذا فرد، خاندان اور معاشرہ کو فراہم کرتی ہے اس سے محروم رہتے ہیں۔ جس کی بنا پر وہ بے شمار مسائل میں مبتلا ہیں ۔ ساتھ ہی معاشرتی سطح پر اسلام کے عائلی نظام کو فروغ دینے کے لیے وہ اس قدر سنجیدہ نظر نہیں آتے جتنی کہ آوازیں اٹھتی ہیں۔ یاد رکھئے اسلامی تعلیمات کی مکمل واقفت ہی ہم سب کو عمل درآمد ابھارے گی۔ اس کے برخلاف بحیثیت مسلمان تو ہم برادران وطن کے سامنے موجود ہوں گے لیکن ہماری خود کی غلطیاں ہمیں دنیا والوں کے سامنے رسوائی کا سبب بنیں گی۔ پھر جو شخص و قوم اپنے ہی اعمال کے نتیجہ میں ذلت و رسوائی سے دوچار ہو، وہ کیونکر دوسروں کے لیے قابل احترام ہوسکتی ہے۔
ان حالات میں ہندوستان میں قیام پذیر ہر مسلمانوں پر چند عملی اقدامات لازم ہیں، جس کے لیے انہیں انفرادی و اجتماعی ہردوسطح پر سعی و جہد کا دائرہ بڑھانا ہوگا۔ اس حیثیت سے کہ سعی و جہد جو جاری ہے اس میں وہ خود بھی شامل ہو جائیں۔