نواز شریف قوم سے خطاب کیوں نہ کرسکے

پانامہ کیس  کا  فیصلہ  انے  کے  بعد  میڈیا  پر  کانفرنسوں کے  جنگ  شروع  ہوگئی۔  حزب  اقتدار  اور  حزب اختلاف  اپنے  اپنے  انداز  میں فیصلے  کے  تشریح  اور  توجیہات  پیش  کرنے  لگے۔  تھوڑی  دیر  میں  باخبر ذرائع سے  معلوم  ہوا  کہ  نواز شریف  شام  سات  بجے  قوم  سے  خطاب  کریں گے  لیکن  کئی  روز  گزر  جانے  کے  باوجود بھی  وزیراعظم  قوم  سے  خطاب  نہ کرسکے۔

  اس  دوران  مختلف  خبریں  گردش  کرتی  رہی ہیں۔  جن میں سے  ایک  خبر  کے مطابق  وزیر اعظم  نے  قوم سے  خطاب  لیگل  ٹیم کے مشورہ پر مؤخر کیا ہے۔  اب جبکہ  پانامہ  کس  کے حوالے سے  تحقیقاتی کمیٹی کی  تشکیل  ہونا طے  پاچکا ہے، ایسے  میں وزیراعظم کا قوم سے  خطاب  اور  پانامہ  فیصلے  پر ان  کا تبصرہ  نئے  مباحث کو جنم دے سکتا تھا۔  ویسے بھی نواز شریف  قوم سے  خطاب میں  کیا کہتے۔ بس یہی کہ   اللہ تعالیٰ کے  فضل و کرم سے  ان کا  خاندان چار  دہائیوں  سے  کاروبار  کررہا ہے  اور ان  مختلف  ادوار  میں  انتقامی  کارروائیوں کا شکار رہنے کے  باوجود دن دگنی  رات چوگنی  ترقی کرتا رہا ہے۔

اس کے سوا وہ قوم کو اور بتا بھی کیا سکتے ہیں۔ حالانکہ سادہ سی بات ہے کہ  قوم کے رہنماوٴں کو اربوں روپے کے  اثاثے اور جائدادیں یا کاروباری  سلطنت  کھڑی  کرنے کے کیا ضرورت ہے۔ تاریخ میں زندہ رہنے والے عظیم رہنماؤں کا اثاثہ عوام کے دلوں میں زندہ و جاوید رہنا ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے حکمران دولت کے انبار جمع کرکے تاریخ میں کوڑا دان میں جگہ بناتے ہیں۔

 تاریخ کے عظیم رہنما اپنے بچوں سے زیادہ قوم کے بچوں کے مستقبل پر فکر مند ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گھر اور زیر استعمال اشیا بعد از مرگ میوزیم میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔  ترکی کے عظیم رہنما اتاترک نے اپنے تمام اثاثے قوم کے نام وقف کردیئے تھے۔ لہذا وہ آج قوم کے باپ کہلاتے ہیں۔  قائداعظم محمد علی جناح اپنے وقت کے مہنگے ترین وکیل تھے۔ انہوں نے اپنے معمولی اخراجات کی تفصیل بھی درج اور محفوظ رکھی  اور وصیت میں اپنے تمام اثاثے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نام وقف کرگئے۔ کاش ہمارے حکمرانوں کو کوئی تاریخ میں زندہ رہنے کا گر بتائے۔