ارسطو کو بھی توہین مذہب کا مرتکب سمجھا گیا تھا
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 25 / اپریل / 2017
- 7711
گزشتہ ہفتے ہالینڈ میں ارسطو ڈے منایا گیا۔ ملک کی تمام دانش گاہوں میں ارسطو کا دن کچھ اس انداز میں منایا گیا کہ طالب علموں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ چند سال قبل میر خلیل الرحمان میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام ’’نوجوان اور ان کا تعلیمی مستقبل‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایک وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ ہمارے پاس 18 کروڑ کی آبادی ہے۔ انہی میں سے ہمیں البیرونی اور ابن سینا نکالنے ہوں گے۔
خدا جانے اس وزیر نے ارسطو کا نام کیوں نہ لیا جبکہ سوئے اتفاق ارسطو کی تاریخ پیدائش اسی دن کا ’’حادثہ‘‘ تھا جس دن موصوف مندرجہ بالا خطاب فرما رہے تھے۔ ارسطو کی حکمت و دانش اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کی فلاسفی ، تعلیم و حکمت و دانش کو اس کے جنم دن پر دہرایا جائے۔ سو میں اس فاضل کامل انسان کے بارے میں عرض کرتا ہوں۔ مقدونیہ کا سکندر یقیناً تاریخ کا ایک عظیم شہنشاہ ہے لیکن ایک مرتبہ اس عظیم شہنشاہ کے منہ پر سر عام تھپڑ مار کر ایک معمولی حیثیت کے انسان نے حاضرین دربار کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔ اور یہ تھپڑ کھا کر سکندر اعظم نہ طیش میں آیا نہ غصے سے اس کی تلوار نیام سے باہر آئی۔ وہ صرف مسکرایا تھا اور پھر اس نے اس معمولی انسان کے سامنے انتہائی ادب سے سرنیاز جھکا رہا تھا۔ یہ معمولی انسان تھا ارسطا طالیس جسے ہم ارسطو کہتے ہیں اور جو سکندر اعظم کا اتالیق تھا، جس کو دنیا ہمیشہ زندہ جاوید شخصیت کی حیثیت سے یاد کرکے اس کے اقرار و اس کی حکمت و دانائی اور اس کے مسائل پر سر دھنتی رہے گی۔
ارسطا طالیس کے معنی یونانی زبان میں فاضل کامل کے ہیں۔ شاید انہی معنی کے اعتبار سے اس کا نام پڑا جو اردو کے قالب میں ڈھل کر ارسطو بن گیا۔ محقق ابو الحسن بن ابوالحسن نے لکھا ہے کہ ’’ارسطو کے ماں باپ اس کے بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ ان حالات میں اس کا نگران تھا نہ والی۔ چنانچہ جب یہ بڑا ہوا اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو اس نے باپ کے چھوڑے ترکے کو عیاشی اور شراب کی نذر کر دیا اور جلد ہی مفلس اور قلاش ہو کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگا۔ ایسے وقت میں ارسطو کے باپ کے دوست نے بہ نظر یتیم پروری اس کو حکیم افلاطون کے سپرد کر دیا۔ چنانچہ افلاطون نے ارسطو کو اپنے علم کی دولت سے سرفراز کیا اور علم نحو ، معانی و بیان ، علم و اللسان اور منطق پر اس نے بہت جلد عبور حاصل کر لیا۔ میر مبشر ابن قائد کا بیان ہے کہ جب افلاطون مجلس درس میں بیٹھتا اور اتفاق سے ارسطو کسی وجہ سے نہ آ سکتا یا اس کے آنے میں دیر ہو جاتی اس وقت افلاطون سے کسی مسئلہ کو حل کروانا چاہتے تو افلاطون کہتا ’’تھوڑی دیر صبر سے کام لو، آدمی باعقل کا آ جانے دو‘‘۔ اور اتفاق سے ایسے وقت میں ارسطو آ پہنچتا تو افلاطون کہتا ’’ہاں اب پوچھو ۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔
بیس برس تک ارسطو افلاطون سے درس حاصل کرتا رہا جب افلاطون ’’بلا دستیہ‘‘ کے سفر پر نکلا تو ارسطو بحیثیت خلیفہ درس و تدریس دیتا رہا، افلاطون کے واپس آنے پر ارسطو لاقیون چلا گیا وہاں اس نے ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی جو کہ شین کے باغ میں واقع تھا۔ اب ارسطو کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔ یونان کے بادشاہ فیلقوس نے اس کو انتہائی عزت و احترام سے بلوایا اور سکندر کی تعلیم پر اس کو مامور کیا۔ جب سکندر ملک گیری کے خیال یا ہوس سے بلادستیہ سے آگے بڑھا تو ارسطو مطمئن ہو کر لوقیون چلا گیا۔
ارسطو نے علم منطق کے اجرا کو ایک خاص طریقہ اور سلیقہ سے مرتب کیا جس کے بعد ارسطو ’’مسلم اول‘‘ اور ’’خاتم الحکمہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جانے گا۔ اس کی پیدائش کی طرح اس کی موت کے بارے میں بھی مختلف روایات ہیں۔ اکثر کتابوں میں اس کی عمر 62 سال لکھی گئی ہے لیکن ابن ندیم بغدادی نے اپنی کتاب ’’الفہرست‘‘ میں اس کی عمر 67 سال لکھی ہے۔ مذہب کے بارے میں بھی مورخین کی رائے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ حکیم بطلیمون نے لکھا ہے کہ وہ خدا پرست (ایک طاقت) ہو گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ارسطو کے ہاتھ پر بیعت کرنا یا خدا پرست ہونا محض وحی سے تھا چنانچہ اس طرح ارسطو کا مذہب وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسے بتوں کی پرستس میں کوئی دلچسپی نہ تھی جبکہ اس وقت ریاست میں بت پرستی کا زور تھا۔ اس لئے وہ مذہب کے بارے میں کھل کر بات نہ کرتا تھا۔ مشہور ہے کہ لوقیون میں ایک کاہن نے ارسطو کو ’’مہتم بالکفر‘‘ قرار دیا کہ وہ بتوں کو نہیں پوجتا تھا۔ اس کی موت کے بارے میں بھی مورخین کی ایک رائے نہیں ہے۔ بعض اس کو دق سے مرنا بتاتے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ وہ اپنی آخری عمر میں ساحل سمندر پر مدوجزر کی حقیقت دریافت کرنے گیا تھا کہ موت نے اس کو اسی جگہ گلے لگا لیا۔ ایک روایت میں زہر کھا کر خودکشی کرنا بتایا گیا ہے۔ ارسطو کی موت کے بعد اہل وطن نے اس کی لاش کو تانبے کے ایک بڑے تابوت میں رکھ کر ارسطا طالیس میں دفن کیا اور اس مقام کو انہوں نے ’’دارالمشاورت‘‘ قرار دیا جہاں وہ بڑے بڑے اور اہم امور پر غور و خوض اور مشورہ کرتے۔ اس کے بعد جو رائے قرار پاتی وہ صحیح اور قابل تسلیم سمجھی جاتی۔ ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ وہاں (دارالمشاورت) ان کی عقل تیز ، فکر صحیح اور ذہن پاک و صاف ہو جاتا ہے۔
ارسطو کے احسانات نہ صرف اہل یونان پر ہیں بلکہ ساری دنیا اسے تسلیم کرتی ہے۔ اس کی قابل قدر کوششوں سے اہل یونان کی عادات و اخلاق بلند ہوئے جس سے باقی دنیا پر بھی اثر پڑا اور اسی طرح آج جبکہ آمروں، ڈکٹیٹروں اور شاہوں کی شہنشاہی کا چراغ گل ہو چکا ہے دارا اور سکندر تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ارسطو زندہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں میں اس عظیم مفکر کو اپنے ہی ایک کالم کے اقتباس سے خراج عقیدت پیش کر رہا ہوں ۔ میرے حساب سے کام سے غلطی ، غلطی سے تجربہ، تجربے سے عقل، عقل سے خیال اور خیال ہی ایک ایسی شے ہے جس سے نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں:
تھے عجب لوگ بت کدے والے
صورتیں ایسی ملیں پھر نہ کبھی