پاکستان کو انصاف کی ضرورت

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے عمران خان کو ، جو کہ عدالت ہی میں موجود تھے مخاطب کرتے ہوئے بہت سی نصیحتیں کیں۔ فاضل چیف جسٹس کی باتیں وہ سننے اور پڑھنے کے لائق ہیں۔ شاید عمل کرنے کے نہیں کیونکہ اگر ملک میں عمل کرنے کا رواج  ہوتا تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی ۔

عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ آپ کو سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔ آپ کے پیچھے عوام کھڑے ہیں اس لئے آپ کو تعمیری کردار ادا کرنا ہے۔ آپ ایک عام آدمی نہیں ہیں۔ آپ کی آواز سے بہتری بھی آسکتی ہے اور خرابی بھی۔ لیکن آپ نے مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ آپ قوم کو بے اعتمادی کی فضا سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہمیں ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جن کا مقصد صرف یہ ہونا چاہیے کہ قوم نے آگے بڑھنا ہے۔ آپ میں لیڈر شب کی کوالٹی ہے۔ اختلافی نوٹ ہر جگہ لکھے جاتے ہیں لیکن جتنا شور یہاں مچا ہے کہیں اور نہیں مچتا۔ چیف جسٹس نے عمران کی توسط سے تمام سیاست دانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور عدالت کے احترام کو یقینی بنائیں۔ قوم کا رہنما ہونے کی حیثیت سے آپ سمیت تمام سیاست دانوں کی یہ ذمہ داری ہے۔ میڈیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے لوگ قانون سمجھتے نہیں، میڈیا میں تبصرے کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے عمران خان سمیت تمام سیاست دانوں کو  عقل اور سمجھداری کی جو باتیں کہی ہیں ان پرعمل کرنے کی ضرورت ہے۔  پاکستان  1973کے آئین کے بعد سے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ لیڈروں نے  قانون و آئین کو نہ صرف گھر کی لونڈی بنا رکھا ہے بلکہ ایک دوسروں کے مفادات کا بھی تحفظ کرتے رہے ہیں۔ عوامی مسائل پس پشت ڈال رکھے ہیں۔ ملک کے سماجی و معاشرتی بگاڑ میں ان کے طرز عمل کا بہت عمل دخل ہے۔ اکستانی لیڈروں کو شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں انصاف عام ہونا چاہئے۔  جو ایک خواب ہی کی مانند بن کر رہ گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں  سپریم کورٹ کی طرف سے یکے بعد دیگرے بہت سے ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جن میں دہائیوں بعد قتل کے ملزموں کو انصاف ملا۔ بہت سے ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں جن میں بےگناہ پھانسی پر لٹکا دئے گئے۔ آئے دن ایسے فیصلے سننے اور پڑھنے کو مل رہے ہیں کہ دس دس، پندرہ پندرہ سال بعد جیلوں میں قید افراد بے گناہ ثابت ہوتے ہیں۔

 یہ صورت حال سپریم کورٹ اور عدالتی نظام  کے لئے  چیلنج کے مترادف ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا سکتا کہ عدلیہ میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے انصاف کا معیار نہ صرف گرا ہے بلکہ اس میں رکاوٹیں پیدا ہو چکی ہیں اور پورا سسٹم خراب ہو چکا ہے ۔ عدلیہ کو سیاسی و مذہبی اور ریاستی مداخلت سے بچانے کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔  چھوٹی عدالتوں میں ایک غریب اور عام آدمی  شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  اگر جیل کے قیدیوں کو لانے والی اس بس کا منظر دیکھیں جس میں قیدی بھرے ہوتے ہیں۔ ان  کے لواحقین کچہری میں دھکے کھارہے ہوتے ہیں۔ یہ ناقابل برداشر مناظر ہیں۔ 

چیف جسٹس کو اس صورت ضحال کی درستی اور اصلاح کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہر خاص و عام کے لئے عدل تک  رسائی آسان بنائیں اور پاکستان کو ویران ہونے سے بچائیں ۔ پاکستان کو لوٹنے والوں سے اس قدر زیادہ خطرہ نہیں ہو سکتا جتنا عدل اور انصاف کے نہ ملنے سے ہوسکتا ہے۔