امان اﷲ خان کی پہلی برسی

گلگت بلتسستان میں امان ﷲخان کی پہلی برسی اٹھائیس اپریل جبکہ جموں کشمیر کے باقی خطوں میں دو دن قبل چھبیس اپریل کو منائی جا رہی ہے۔ امان اﷲ خان چھبیس اپریل 2016 کو راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں پچاسی سال کی عمر میں وفات پا گے تھے۔ وہ آخری وقت تک تحریکی طور پر سرگرم رہے۔ تحریک ان کی پہلی اور چھوٹی سی فیملی جو ایک بیوی اور بیٹی پر مشتمل تھی دوسری ترجیح تھی ۔

فیملی لائف کو انہوں نے اس حد تک قربان کیا کہ میاں بیوی دونوں راولپنڈی میں رہنے کے باجود کئی ماہ ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ اکثر اوقات کام کی وجہ سے امان اﷲ خان دفتر میں ہی سو جایا کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ کا رویہ ہمیشہ لائق تحسین رہا جبکہ بیٹی اسماء شادی تک انتظار کرتی رہی کہ شاید اسے بھی دوسرے بچوں کی طرح باپ کے ساتھ کچھ لمحات گزارنے کا موقع مل جائے۔ لیکن وہ یہ ارمان پورے کیے بنا اپنے گھر کی ہو گئی۔ شادی بھی مقبوضہ کشمیر میں ہوئی ۔ جموں کشمیر کے دو خطوں کو قریب کرنے کی کوشش میں اس خاندان کے تین افراد ماں، باپ اور بیٹی خود ایک دوسرے سے دور ہو گئے۔ اس دوری کے درد کو وہی سمجھ سکتا ہے جو اس طرح کے تجربات سے گزرا ہو۔

امان اﷲ خان کے ساتھ میری پہلی ملاقات جولائی سن اکاسی میں اس وقت ہوئی جب وہ ایک تنظیمی دورہ پر جرمنی آئے اور تین روز سٹٹگارٹ جرمنی میں میری رہائش گاہ پر قیام کیا۔ ہم نے غیر جماعتی سطع پر مقبول بٹ شہید کو پھانسی کے پھندے سے بچانے کے لیے ایک سیاسی مہم چلائی ہوئی تھی۔ امان اﷲ خان کو جب اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے ہمیں خط لکھا اور برلن میں چند ساتھیوں کا تعارف کروایا جو بعد میں ہمیں ملنے آئے۔ امان اﷲ خان کی آمد پر وہاں ایک بڑا پروگرام منعقد ہوا۔ سٹٹگارٹ میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی پہلی باقاعدہ شاخ قائم ہوئی جس کا پہلا صدر راقم اور جنرل سیکرٹری یونس کیانی منتخب ہوئے۔ امان اﷲ خان نے نظریہ خود مختاری کی ضرورت اور اس میں محاز رائے شماری اور لبریشن فرنٹ کے کردار پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ ہمیں قدم قدم پر پاکستانیوں کی بلا وجہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ آج بھی کچھ پاکستانی تکرار کرتے ہیں کہ کشمیریوں کی جد جہد غیر اسلامی ہے۔

تین سال قبل استنبول یونیورسٹی میں مسئلہ کشمیر اور اس کے حل کے عنوان پر منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں مجھے خطاب کی دعوت دی گئی تو وہاں بھی ایک خاتون نے کھڑے ہو کر افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری تحریک مسلمانوں کو تقسیم کر رہی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ میں تو ایک باعمل مسلمان ہوں لیکن وہ مجھے یہ بتائے کہ جموں کشمیر کے منقسم خطوں کو متحد کرنے کی تحریک کس طرح اسلام کے خلاف ہے۔ ہم کشمیری ابھی اس پوزیشن میں ہی نہیں کہ مسلمان ریاستوں کو متحد کر سکیں کیونکہ ہم غلام ہیں۔ لیکن ترکی جہاں ہم کھڑے ہیں اس کا اپنے پڑوسی مسلمان ملکوں کے ساتھ کیا جھگڑا ہے۔ جو مسلمان ممالک اس وقت آزاد ہیں وہ خود متحد ہونے کے بجائے صرف فلسطینیوں اور کشمیریوں کو اسلام کا درس کیوں دیتے ہیں۔ حالانکہ کشمیری مسلمان کئی آزاد مسلمان ریاستوں کے مسلمانوں سے زیادہ با عمل ہیں ۔

دورہ جرمنی کے دوران امان ﷲ خان سے بھی لوگوں نے اس طرح کے بے شمار سوالات کیے۔ امان اﷲ خان کے ساتھ میری دوسری ملاقات پیرس میں ہوئی۔ پیرس میں بھی لبریشن فرنٹ کی شاخ قائم کرنے کا مجھے شرف حاصل ہوا جو آج بھی پوری طرح سرگرم ہے۔ ہماری تیسری ملاقات برطانیہ میں ہوئی جہاں ہمیں امان اﷲ خان اور لبریشن فرنٹ کی مرکزی قیادت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہاں امان اﷲ خان نے میرے ساتھ بے شمار حقائق شئیر کیے اور اعتراف کیا کہ تحریک کے لیے جس طرح کی سیاسی و سفارتی ٹیم کی ضرورت ہے وہ میسر نہیں۔ وہ زیادہ تر کام خود کرتے۔ کام کرتے کرتے وہ بعض اوقات بیڈ روم میں جانے کی بجائے دفتر میں پڑے صوفے پر ہی سو جاتے۔ میں ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہتا کہ وہ پارٹی کے ہر ذمہ دار کو خود ذمہ داری ادا کرنے دیں تاکہ ہر ایک کو تجربہ حاصل ہو۔ لیکن وہ کسی کے کام سے مطمئن نہ ہوتے۔  بعض معاملات میں ہم بہت قریب ہو گئے۔ وہ صرف شہادت کی دو انگلیوں کے ساتھ آہستہ آہستہ ٹائپ کیا کرتے تھے۔ ایک دن میں نے زبردستی ان سے ٹائپ رائٹر لے کر کہا وہ بولتے جائیں میں ٹائپ کرتا ہوں ۔ جب انہوں نے مجھے دس انگلیوں کے ساتھ تیزی سے کی بورڈ استعمال کرتے دیکھے تو کہنے لگے یار آپ نے یہ فن کہاں سے سیکھا۔ میں نے کہا اس بات کو چھوڑیں آپ نوٹ مجھے دے دیا کریں لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں پیرس رہتا تھا اور وہ انگلینڈ۔

زندگی کے آخری ایام میں وہ بعض اوقات ٹیلیفون پر مجھے نوٹ لکھواتے اور میں ڈرافٹ بنا کر انہیں ای میل کر دیتا ۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے اب جسمانی دوریاں کام میں رکاوٹ نہیں رہیں۔ برطانیہ جیسے ملک میں رہنے کے باوجود مالی وسائل کی اتنی کمی تھی کہ بعض اوقات اکلوتی بیٹی اسماء خان کے لیے دودھ کے پیسے بھی نہ بچتے۔ میں بھی تحریکی شوق میں اتنا آگے نکل گیا کہ بعض اوقات ٹرام کارڈ اور مکان کے کرایہ تک کے پیسے نہ بچتے لیکن تحریکی جنون کی وجہ سے ہمیں ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ ہوتی۔

امان اﷲ خان نظریہ ضرورت پر یقین رکھتے تھے لیکن میں عمر میں ان سے دو گناچھوٹا اور اسی وجہ سے کم تجربات رکھنے کے باوجود بحث کرتا کہ نظریہ ضرورت کے تحت تحریک و تنظیم میں شامل کیے جانے والے لوگ مستقبل میں مسائل پیدا کریں گے اور ایسا ہی ہوا۔ بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں جب ہم قید ہوئے تو بے شمار لوگ نظریہ ضرورت کے تحت لبریشن فرنٹ میں گھس آئے بلکہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں شروع ہونے والی عسکری کاروائیوں کے دوران بھی ایسا ہی ہوا۔ اور آج وہ ایک قوت کے طور پر لبریشن فرنٹ کے خلاف کھڑے ہیں۔ امان اﷲ خان نے بعد میں اپنی تحریروں اور تقریریوں میں اس غلطی کا اعتراف بھی کیا۔ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی غلطی کا اعتراف اور تلافی کرے۔

آج جب ہم امان اﷲ خان کی برسی منا رہے ہیں تو تحریکی لوگوں کو ان کے اعتراف سے سبق حاصل کرنا چائیے۔ آج بھی ہماری تنظیم و تحریک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو نظریہ ضرورت کے تحت شامل ہو رہے ہیں۔ میں حال ہی میں ترکی سے واپس آیا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی خاطر کچھ لوگ لبریشن فرنٹ کے مظاہروں میں شامل ہو کر تصویریں بنا کر انہیں استعمال کرتے ہیں اور سیاسی پناہ مل جانے کے بعد وہ سیاسی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں لبریشن فرنٹ کو مکمل ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی جس کی وجہ سے تحریک دشمن قوتیں غیر نظریاتی لوگوں کولبریشن فرنٹ پر مسلط کرنا چاہتی ہیں ۔ نظریے کے بجائے افراد کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس سازش کو صرف نظریاتی کارکنان ہی شکست دے سکتے ہیں!