بدعنوان لیڈروں کی قربانی

کوئی بھی اس بات یا الزام سے اختلاف نہیں کررہا کہ ہمارے ملک میں اعلی عہدوں پر فائز افراد میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو کسی نہ کسی طرح سے کرپشن میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہیں۔ کرپشن کرپشن ہے۔ بے ایمانی کو بے ایمانی ہی کہا جائے گا۔ اور اگر یہ کرپشن یا بے ایمانی ملک کے رہبر و رہنما کریں تو ملک کا عام آدمی کیا کرےگا۔

اسی لئے  ایسے افراد کی پکڑ بھی سخت ہونی چاہئے۔ کرکٹ  میں شک کا فائدہ بلے باز کو دے دیا جاتا تھا مگر جب سے تکنیکی سہولیات کو بروئے کار لایا گیا ہے تو تمام شکوک و شبہات کو یکسر مسترد کردیا گیا ہے۔ اور امپائر اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہیں۔ بعض اوقات امپائر کو ان سہولیات کی وجہ سے اپنا فیصلہ معذرت کے ساتھ واپس بھی لینا پڑتا ہے۔ اس طرح سے کھیل بے ایمانی سے کافی حد تک پاک ہوگیا ہے۔ آخر کرکٹ کو ہی مثال کیوں بنایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جس خطہ زمین پر آباد ہیں یہاں لوگ کرکٹ کی زبان زیادہ بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ان پڑھ آدمی بھی کرکٹ کی انگریزی کمنٹری اتنے انہماک سے سن رہا ہوتا ہے اور کسی کی مداخلت پر خاموش رہنے کا اشارہ بھی کرتا ہے۔

بات فیصلے کی ہورہی ہے۔ معلوم نہیں ہمارے ملک میں کرپشن اور بے ایمانی کے خلاف کبھی کوئی فیصلہ دیا گیا ہو۔ اور اگر فیصلہ کیا بھی گیا ہے تو وہ اتنا سہل اور آسان کہ کوئی بھی کرپشن کرنے کو تیار ہوجاتا ہے۔ اس کی  واضح وجہ یہی ہے کہ ملک کا ہر ادارہ کرپشن کی زد میں ہے۔ یہاں جو حاکم ہے وہ تمام قوانین سے بالا تر ہے۔ جو ہمارے معاشرے اور ہمارے ملک کی تباہی کا سبب بنتا جا رہا ہے۔ اگر اب بھی ہم نے قانون کی بالادستی کو یقینی نہ بنایا تو لوگ سڑکوں پر ہوں گے اور احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

یہاں ایک روٹی اٹھا کہ بھاگنے والے بچے کو تو سب چور چور چلاتے پکڑنے کو دوڑتے ہیں جبکہ کرپشن اور چور بازاری کے بادشاہوں کو چور کہتے زبان جلتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں امیر تو غریب کی زندگی اجیرن کر ہی رہا ہے مگر غریب بھی غریب کے مسائل میں اضافہ کئے جا رہا ہے۔  عام آدمی کیلئے یہ طے کرنا  مشکل ہے کہ کرپشن کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عام آدمی کی جوحالت ہے اگر آپ بھی عام آدمی ہیں تو خوب اچھی سمجھ سکتے ہیں۔ ایک طبقہ ایسا بھی ملے گا جو کہتا ہے "سب کے سب کو لٹکا دو"  تاکہ آنے والی نسلوں کو کہ پیغام پہنچ جائے کہ اگر ہم نے ایسا کیا یا کرنے کی کوشش بھی کی تو ہمارے ساتھ  کیا ہوگا۔

ہمارا معاشرے کا اشرافیہ جو صاحبِ اقتدار بھی ہیں، نسل در نسل بے ایمانی اور ناانصافی میں ملوث رہے ہیں۔ ہمارا عدالتی نظام،  احتساب کرنے والے ادارے سب کہ سب محکوموں کی صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور حاکمِ وقت جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اور کرواتا ہے۔ کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔

پچھلے زمانوں میں خدا کہ قہر سے بچنے کیلئے اور اپنے گناہوں کا کفارہ  کیلئے قربانی دی جاتی تھی۔  لوگوں کا ماننا تھا کہ دیوتا کو ایسے ہی منایا جاسکتا ہے۔ شاید ان کے دیوتا ایسے مان بھی جاتے ہوں۔ جبھی تو وہ ہر بار ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ ہمارا ملک آئے دن کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا رہتا ہے۔ آئے دن قدرتی آفات کسی نہ کسی صورت میں ہمارے ملک کو گھیرے رکھتی ہیں۔ ان حالات سے نجات حاصل کرنے کیلئے شاید ہمیں بھی  قربانی کی ضرورت ہے۔ تاکہ انصاف بحال ہو سکے۔  کرپٹ حکمرانوں اور ان کے حواریوں کی فہرستیں مرتب ہوچکی ہیں۔ اب بس انتظار اس گھڑی کا ہے کہ پہلے کس کی قربانی دی جائے۔  ملک کے حالات درست کرنے کے لئے ہمیں بدعنوان لیڈروں کی قربانی دینا ہو گی۔