فن لینڈ کی یک ایوانی کابینہ
- تحریر ارشد فاروق
- جمعرات 27 / اپریل / 2017
- 5073
اب تک تو یہی پڑھتے اور سُنتے آئے ہیں کہ اتفاق میں برکت ہے، مل جُل کر رہنا چاہیے اور اس بات میں کسی حد تک حقیقت بھی ہے۔ کسی معاشرے میں افراد باہمی عزت و احترام کا رشتہ استوار کرکے اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرکے اپنی اپنی زندگی بسر کریں تو یہی معاشرہ ایک فلاحی معاشرہ بن جاتا ہے اور ریاست ایک فلاحی ریاست۔
سکینڈے نیوین ممالک فلاحی ریاستیں ہیں۔ دو ریاستیں اپنے ہمسائے یا دور پار کی ریاستوں کےساتھ مل جل کر رہیں ، خواہ اس میل جول میں ریاستوں کے انفرادی مفاد ہی کیوں نہ پوشیدہ ہوں، تو بھی یہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ اسلحے کی دوڑ ختم ہو سکتی ہے اور ریاستیں اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، تعلیم اور صحت پر زیادہ توجہ دے سکتی ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ کبھی تھا اور نہ کبھی ممکن ہو سکتا ہے۔ البتہ اس کے لئے اجتماعی کوشش کی جا سکتی ہے۔
لوگوں کو اکثر آپس میں مل جُل کر رہنے میں دشواریوں کا سامنا رہا ہے۔ یہ آجر اور اجیر کے معاشی تعلقات ہوں یا دو ہمسائیوں کا رہن سہن، دو دوستوں کے باہمی روابط ہوں یا ہابیل و قابیل کے خاندانی مسائل، انفرادی سطح پر ازدواجی تعلقات ہوں یا پھر دو ممالک کے خارجہ امور۔ کئی ہمسایہ ممالک نے ایک دوسرے پر آتشیں ہتھیار تان رکھے ہیں، طاقت اور عالمی اقتدار کی جنگ نے سپر ممالک کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ یا پھر ایک ہی ملک کے اندر مختلف قوموں، زبانیں بولنے والوں یا عقائد کے پیرو کاروں کے باہمی تعلقات۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں ماہرین علوم نفسیات، عمرانیات، سماجیات، سیاسیات، اور انسانی علوم اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی تاریخ کا مطالعہ و مشاہدہ تاریخ انسانوں کے جھگڑالو رویوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ انسانی علوم کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسانوں میں بھی جانوروں والی جبلت پائی جاتی ہے۔ انسان کی فطرت میں بھی غیر سماجی اور شدید رویے پائے جاتے ہیں جو بعض اوقات اسے سماج دشمن سرگرمیوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
انسان کے ان غیر سماجی اور سماج دشمن رویوں اور شدت پسند عادات پر تحقیق کے نتیجے میں جو بنیادی نکات سامنے آئے ہیں اگرچہ ان کی فہرست بہت طویل ہے لیکن زیادہ اہم بات طاقت کا مظاہرہ، توسیع پسندی اور انا کی تکمیل ہے۔ در حقیقت انسان امن پسند ہے لیکن افرادی یا معاشرتی حالات اسے تشدد پسند بنا دیتے ہیں۔ پر امن معاشروں میں جرائم کی شرح صفر تک بھی شمار کی گئی ہے۔ کئی معاشروں نے انسان کی اس جبلت کو سمجھ کر بحیثیت مجموعی اس انسانی کمی و کوتاہی پر قابو پا لیا اور وہ خوشحال، پائیدار اور محفوظ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وہاں کے شہری امن و سکون کےساتھ رہ رہے ہیں۔ وہاں بچوں کو ایک متوازن اور محفوظ ماحول میسر ہے جہاں وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ خواتین کو کسی طرح کے تیکھے جملوں اورجنسی طور پر ہراساں ہونے کا ڈر نہیں اورنہ ہی کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کا سامنا ہے بلکہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار مساوی طور پر ادا کر رہی ہیں۔
نارڈک ممالک میں فن لینڈ کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ امن پسند معاشرے دو جھگڑنے والوں کے درمیان ثالث کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ فن لینڈ میں عالمی امن کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں۔ یہاں سری لنکا کی حکومت اور تامل ٹائیگرز کے درمیان مذکرات ہوئے۔ یہاں امریکی صدر بل کلنٹن اور گورباچوف کے درمیان ملاقات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا اور یہیں پر محترمہ بے نظیر بھٹو اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی ملاقات بھی ہو چکی ہے۔
فن لینڈ ان فلاحی ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہیں۔ میں نے اپنے پچیس سال کے قیام کے دوران یہاں پر لوگوں کو ایماندار اوراپنے کام کاج کے ساتھ مخلص پایا۔ یہ ایک امن پسند معاشرہ ہے جہاں پر جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ باہمی عزت و احترام سے ایک دوسرے کو مسکرا کر ملتے ہیں اور بحیثیت قوم کسی غیر مقامی اور غیر ملکی سے اپنے افراد کے خلاف کوئی شکایت سننا پسند نہیں کرتے۔ اس بات کو اسلامی نکتہ نگاہ سے دیکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ چغلی یا پیٹھ پیچھے کسی کے خلاف بات کرنے اور سننے کو برا سمجھتے ہیں۔ اور اگر اخلاقی طور پر دیکھیں تو یہ خوبی ان قوموں میں ہی پائی جا سکتی ہے جو ایک دوسرے سے پیار کرتی ہیں اور اپنے ملک سے محبت کرتی ہوں۔ فن لینڈ کا اعلیٰ معیار زندگی اور اس کے لئے تگ و دو، نارڈک ممالک کے فلاحی نظام حکومت کی بنیاد ہیں۔ فن لینڈ کے باشندوں کی انفرادی کوششیں اور اپنی مدد آپ کرنے کا رجحان ان کی ترقی کاراز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت بھی لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ جمہوری اقدار، بنیادی انسانی حقوق، ریاست کا احترام، آئین کی پاسداری اور مساوات نے اس معاشرے کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔ یہاں پر ریاست اور بلدیات سماجی فلاح و بہبود اور صحت عامہ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیم و تحقیق کے معاملات بھی بلدیات کی ذمہ داری ہیں۔ فن لینڈ کے باشندے اس نظام کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ غیر سرکاری تنظیموں اور انفرادی سطح پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ اپنی فلاح و بہبود کے نت نئے طریقے ایجاد کرنا کوئی اس قوم سے سیکھے۔
سکینڈے نیوین ممالک کا موازنہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کریں تو بلا شبہ ایک واضع فرق نظر آتا ہے اور یہ کہنا پڑے گا کہ شمالی یورپین ممالک کے لوگ کامیاب اور مزے کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ حکومت نے اپنے باشندوں کو اعلیٰ معیار زندگی فراہم کر کے یہاں سے رشوت ستانی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ فن لینڈ میں یک ایوانی کابینہ ہے، جبکہ ہم نے پاکستان میں، سینٹ، وفاقی کابینہ، صوبوں میں صوبائی اسمبلیوں، آزاد کشمیر کی کابینہ، اب فاٹا و گلگت و بلتستان کی اسمبلیوں کے سفید ہاتھی پال رکھے ہیں اور ان پر اربوں روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔ ان اخراجات کی ایک مثال یہ ہے کہ ارکان قومی اسمبلی کے لئے پارلیمنٹ میں بنی کینٹین میں ہمارے قومی رہنماوں کے لئے مٹن، چکن ، مچھلی اور دیگر کھانے چند روپوں کے عوض دستیاب ہیں جبکہ انہی کھانوں کی قیمت اسی شہر کی ایک درمیانے درجے کی عام سی طعام گاہ میں سینکڑوں اور ہزاروں میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں صرف ایک ہی قومی اسمبلی کیوں نہیں ہو سکتی ۔ بنیادی اورزیادہ اختیارات بلدیات کو دے دیئے جائیں تاکہ بنیادی سہولتیں جیسا کہ صحت ، تعلیم، صفائی، اور تحفظ ہر شہری تک بر وقت پہنچ سکے۔
زار روس کے دور میں جبکہ فن لینڈ ایک عظیم ریاست تھا، 1906 میں Diet نے فن لینڈ کے لئے انتخابی قوانین اور پارلیمنٹ ایکٹ منظور کیا۔ اس نئے پارلیمانی ایکٹ نے یکم اکتوبر 1906 کو قانونی شکل اختیار کی۔ تمام شہریوں کو مساوی حق رائے دہی دیا گیا۔ اس دور کی اہم بات یہ تھی کہ عورتوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔ ووٹر کی عمر کی حد 24 سال مقرر کی گئی تھی۔ اس طرح اس قانون کے لاگو ہونے سے راتوں رات رائے دہندگان کی تعداد میں دس گناہ اضافہ ہو گیا۔ فن لینڈ سے پہلے بھی کئی ممالک عورتوں کو ووٹ کا حق دے چکے تھے ۔ کچھ ممالک میں عورتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق بھی دیا گیا تھا۔ لیکن یہاں کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں مردوں اور عورتوں کو یہ حق ایک ساتھ دیا گیا تھا۔ اس طرح خواتین بھی منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں آئیں۔ اس وقت فن لینڈ یورپ کا پسماندہ ترین ملک تھا جو کہ اب شمالی یورپ کا جدید ترین اورایک ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے جہاں پر یک ایوانی کابینہ کا نظام کامیابی کےساتھ جاری ہے۔
دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور مستقبل کے اہداف سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہمیں اپنی سوچ کو وسعت دینا ہوگی۔